أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ ۞

ترجمہ:

بیشک متقین کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک متقین کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں۔ کیا ہم اطاعت گزاروں کو نافرمانوں کی مثال دیں گے ؟۔ تمہیں کیا ہوا تم کیسی خبر سنا رہے ہو۔ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھ رہے ہو ؟۔ کیا اس میں وہی تحریر ہے جس کو تم پسند کرتے ہو ؟۔ یا تم نے ہم سے ایسی قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت تک رہیں گی کہ تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جس کا تم فیصلہ کرو گے۔ آپ ان سے پوچھئے کہ ان میں سے کون اس بات کا ضامن ہے۔ یا انکے کوئی شریک ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر وہ سچے ہیں۔ ( القلم : ٤١۔ ٣٤)

کفار کے اس دعویٰ کا رد کہ آخرت میں مسلمین اور مجرمین جزاء ایک جیسی ہو گی

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار اور فساق کا حال ذکر فرمایا تھا کہ انہیں آخرت میں بھاری عذاب ہوگا، اب اس کے بعد القلم : ٣٤ میں مؤمنین، صالحین اور متقین کی آخرت کا حال بیان فرمایا کہ ان کو آخرت میں نعمت والی جنتیں ملیں گی، جن میں خالص نعمتیں ہوں گی اور ان میں فکر و غم کا شائبہ بھی نہیں ہوگا جب کہ دنیا میں دنیا کے ساتھ یہ فکر لگی رہتی ہے کہ ایک دن یہ نعمتیں ختم ہوجائیں لیکن آخرت کی نعمتیں دائمی اور لازوال ہوں گی۔

مقاتل نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو کفار مکہ نے مسلمانوں سے کہا : اللہ نے ہم کو دنیا میں تم پر فضلیت دی ہے، سو ضروری ہے کہ وہ آخرت میں بھی ہم کو تم پر فضلیت دے گا، ورنہ کم از کم ہم کو تمہارے درجہ کے برابر ضرور رکھے گا، اللہ تعالیٰ نے القلم : ٣٥ میں ان کے اس قول کار رد فرمایا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 34