أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ لَـكُمۡ كِتٰبٌ فِيۡهِ تَدۡرُسُوۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھ رہے ہو ؟

تفسیر:

مؤمنین اور مجرمین کی آخرت میں ایک جیسی جزاء ہونے کا عقلی اور نفلی دلائل سے بطلان

القلم : ٣٨۔ ٣٧ میں فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھ رہے ہو ؟۔ کیا اس میں وہی تحریر ہے جس کو تم پسند کرتے ہو ؟۔

جب کفار نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے رد میں یہ آیات نازل فرمائیں :

مَا لَکُمْقف کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ۔ اَفَـلَا تَذَکَّرُوْنَ ۔ اَمْ لَکُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌ۔ فَاْتُوْا بِکِتٰبِکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الصافات : ١٥٧۔ ١٥٤ )

تمہیں کیا ہوگیا ہے، تم کیسا دعویٰ کررہے ہو۔ کیا تم سمجھتے نہیں ہو۔ آیا تمہارے پاس اس ( دعویٰ ) پر واضح دلیل ہے۔ اگر تم سچے ہو تو تم اپنی وہ کتاب لے آئو۔

اسی طرز پر القلم : ٣٨۔ ٣٦ آیات ہیں، جب کفار مکہ نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کو بھی آخرت میں وہی اجر وثواب ملے گا جو مؤمنین صالحین کو ملے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا، تم کیسی خبر سنا رہے ہو۔ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھ رہے ہو ؟۔ کیا اس میں وہی تحریر ہے جس کو تم پسند کرتے ہو ؟۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 37