أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خَاشِعَةً اَبۡصَارُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٌ ؕ وَقَدۡ كَانُوۡا يُدۡعَوۡنَ اِلَى السُّجُوۡدِ وَهُمۡ سٰلِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

ان کی نگاہیں ( خوف سے) نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی اور اس سے پہلے ان کو سجدہ کے لیے بلایا جاتا تھا اور اس وقت وہ صحیح سالم تھے.

القلم : ٤٣ میں فرمایا : ان کی نگاہیں ( خوف سے) نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی، اور اس سے پہلے ان کو سجدہ کے لیے بلایا جاتا تھا اور اس وقت وہ صحیح سالم تھے۔

جماعت سے نماز نہ پڑھنے والے کے لیے وعید

کفار اور منافقین کو بہ طور عبادت یا بہ طور مکلف ہونے کے، سجدہ کے لیے نہیں بلایا جائے گا بلکہ بہ طور زجر و توبیخ ( ڈانٹ ڈپٹ) اور دنیا میں سجدہ نہ کرنے پر ملازمت کرنے کی وجہ سے ان کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ سجدہ کرنے کی قدرت کو ان سے سلب کرلے گا، حتیٰ کہ ان کو دنیا میں اپنے کفر اور نفاق پر شدید ندامت اور حسرت ہوگی، ان کو آنکھیں اس لیے جھکی ہوں گی کہ جس کو مالک نے دائمی غلامی کے لیے رکھا ہو اور وہ غلام اپنے آقا کی خدمت سے اعراض کرے وہ وہ سب کی نگاہوں میں ذلیل اور شرمسار ہوجاتا ہے اور یہ منافقین جب دنیا میں تندرست تھے اور ان کو اذان اور اقامت کے ذریعہ نماز کے لیے بلایا جاتا تھا تو یہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے نہیں آتے تھے، کفار اور منافقین سے قطع نظر اس میں ان مسلمانوں کے لیے بھی وعید ہے جو اذان سننے کے باوجود نماز پڑھنے کے لیے مسجدوں میں نہیں جاتے۔

القرآن – سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 43