أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ يُكۡشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّيُدۡعَوۡنَ اِلَى السُّجُوۡدِ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور ان کو سجدہ کے لیے بلایا جائے گا تو وہ سجد نہ کرسکیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور ان کو سجدہ کے لیے بلایا جائے گا تو وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ ان کی نگاہیں ( خوف سے) نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی، اور اس سے پہلے ان کو سجدہ کے لیے بلایا جاتا تھا اور اس وقت وہ صحیح سالم تھے۔ (القلم : ٤٣۔ ٤٢ )

” یوم یکشف عن ساق “ میں ” ساق “ کا لغوی معنی

اس آیت میں ” کشف ساق “ (پنڈلی کھولنے) کا ذکر ہے، پنڈلی کھولنے کے لغوی معنی حسب ذیل ہیں :

ٹخنے اور گھٹنے کے درمیان جو جگہ ہے اس کو ” ساق “ کہتے ہیں اور ” کشف ساق “ شدت اور سختی سے کنایہ ہے، جب کسی معاملہ کی شدت اور ہولناکی کی خبر دینا ہو تو ” ساق “ کا ذکر کرتے ہیں، قرآن مجید میں ہے :

وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ ۔ (القیامہ : ٢٩) اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی۔

یعنی دنیا کی آخری شدت، روز قیامت کی پہلی شدت سے لپٹ جائے گی۔

جب جنگ شدید ہوجائے تو کہا جاتا ہے :” قامت الحرب علی ساق “ جنگ اپنی پنڈلی پر کھڑی ہوگئی۔ سو اس سے مراد روز قیامت کی شدت ہے۔ ( المفردات ج ٢ ص ٥٥٨، مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

زیادہ اہم کام کو کرتے وقت لوگ شلوار کو اڑس کر پنڈلی کو کھولتے ہیں یعنی قیامت کے دن جب اہم کام کیا جائے گا اور زجر و توبیخ کے لیے منافقوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا اور وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔

” ساق “ کسی چیز کو اصل کو کہتے ہیں جس پر وہ قائم ہو، جیسے درخت کے تنے اور انسان کی ٹانگ کو ” ساق “ کہتے ہیں، یعنی جب تمام لوگوں کے اعمال کی اصل کو کھول جائے گا اور تمام حقائق منکشف ہوجائیں گے۔

” یوم یکشف عن ساق “ کی تفسیر میں احادیث، آثار اور اقوال تابعین

حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ “ (القلم : ٤٢) کی تفسیر میں فرمایا : ” ساق “ سے مراد نور عظیم ہے، سب لوگ اس کے سامنے سجدہ میں گرجائیں گے۔

( مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٢٨٣، حافظ المہیثمی نے کہا : اس کی سند میں روح بن جناح ہے جو قوی نہیں ہے، مجمع الزوائد ج ٧ ص ١٢٧ )

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : جس دن ہمارا رب اپنی ” ساق “ ( پنڈلی) کو کھولے گا تو ہر مسلمان مرد اور مسلمان عورت اس کو سجدہ کریں گے اور وہ لوگ باقی رہیں گے جو دنیا میں دکھانے اور سنانے کے لیے عبادت کرتے تھے، وہ سجدہ کرنا چاہیں گے تو ان کی کمر ٹوٹ کر ایک طباق ( یا تختہ) کی طرح ہوجائے گی۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩١٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٤)

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی متوفی ٨٥٥ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : اس مسئلہ میں اہل علم کو دو قول ہیں :

(١) مقتدمین کا مسلک یہ ہے کہ اس معاملہ کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہیے اور اس پر ایمان رکھنا چاہیے اور یہ اعتقاد رکھنا چاہیے کہ پنڈلی سے وہ معنی مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہے۔

(٢) اس میں اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق تاویل کی جائے گی اور اس میں وہی شخص تاویل کرسکتا ہے جو عربی زبان کا جاننے والا ہو اور اصول اور فروغ کا عارف ہوا، اس بناء پر انہوں نے کہا : اس آیت میں ” ساق “ سے مراد شدت ہے یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سخت اور ہولناک چیزوں کو کھول دے گا، حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی اسی طرح تفسیر کی ہے، اور قاضی عیاض نے کہا ہے کہ اس آیت میں ” ساق “ سے مراد نور عظیم ہے، جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت ابو موسیٰ اشعری نے اس آیت کی تفسیر بیان کی ہے۔ ( مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٧٢٨٣) حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : اس سے مراد حجابات ہیں جن کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مؤمنین کے لیے کھول دے گا، اور بیع بن انس نے کہا : اللہ تعالیٰ حجاب کھول دے گا، تو جو شخص بھی دنیا میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوگا وہ سجدہ میں گرجائے گا، علامہ ابن جوزی نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مؤمنین سے سختیوں کو کھول دے ( دور کر دے گا) تو وہ سجدہ ٔ شکر بجا لائیں گے اور وہ بھی حضرت ابو موسیٰ کی روایت سے استدلال کرتے ہیں۔ ( مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٧٢٨٣) اور حضرت ابن مسعود (رض) سے دوسری یہ ہے کہ قیامت کے دن لوگ چالیس سال تک اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے رہیں گے، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی ” ساق “ کو کھولے گا اور ان پر تجلی فرمائے گا۔

اس حدیث میں ہے کہ مؤمنین اللہ تعالیٰ کو سجدہ کریں گے، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ قیامت تو دارالجزاء ہے دارالعمل نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مکلف ہونے کی حیثیت سے سجدہ نہیں کریں گے بلکہ حصول لذت کے لیے اور حصول تقریب کے لیے سجدہ کریں گے۔

علامہ نووی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ القلم : ٤٢ میں ہے : اور ان کو سجدہ کے لیے بلایا جائے گا تو وہ سجدہ نہ کرسکیں گے، کیونکہ ان کی کمر تختے کی طرح ہوجائے گی اور مڑ نہیں سکے گی، بعض علماء نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ جو کام انسان کی طاقت میں نہ ہو انسان کو اس کا مکلف کرنا جائز نہیں ہے، لیکن ان کا یہ استدلال باطل ہے کیونکہ آخرت دارتکلف نہیں ہے اور اس سے مراد ان کا امتحان لینا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١٩ ص ٣٧٠، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

قیامت کے دن ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ ہر گر وہ اس کی پیروی کرے جس کی وہ دنیا میں عبادت کیا کرتا تھا۔ اس اعلان کے بعد جس قدر لوگ بھی اللہ کے سوا بتوں وغیرہ کی عبادت کرتے تھے سب جہنم میں جا کر گریں گے اور صرف وہ لوگ باقی بچ جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے، خواہ نیک ہوں یا بد اور کچھ لوگ اہل کتاب میں سے بھی باقی رہیں گے، پھر یہود کو بلا کر ان سے پوچھا جائے گا : تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ ہیں گے : ہم دنیا میں اللہ تعالیٰ کے بیٹے عزیز کی عبادت کرتے تھے، ان سے کہا جائے گا : تم جھوٹے ہو، اللہ تعالیٰ کی نہ کوئی بیوی ہے نہ کوئی بیٹا ہے، اب تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ کہیں گے : اے رب ! ہم پیاسے ہیں، ہم کو پانی پلا دے، پھر ان سے اشارے سے کہا جائے گا : تم پانی کی طرف کیوں نہیں جاتے ؟ پھر انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا، وہ جہنم سراب کی طرح دکھائے دے گی، پھر وہ جہنم میں جا پڑیں گے۔

پھر عیسائیوں کو بلایاجائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم دنیا میں کس چیز کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے مسیح کی عبادت کرتے تھے، ان سے کہا جائے گا : تم جھوٹے ہو، اللہ تعالیٰ کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی اس کی اولاد ہے، پھر ان سے کہا جائے گا اب تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم بہت پیاسے ہیں ہمیں پلانی پلا دے۔ ان سے اشارے سے کہا جائے گا : تم پانی کی طرف کیوں نہیں جاتے ؟ پھر انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا، وہ جہنم سراب کی طرح دکھائے دے گی، پھر وہ جہنم میں جا پڑیں گے۔

یہاں تک کہ صرف وہ لوگ بچ جائیں گے جو دنیا میں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے، خواہ نیک ہوں یا بدکار، پھر ان کے پاس اللہ تعالیٰ ایک ایسی صورت بھیجے گا جس صورت کو وہ دنیا میں کسی نہ کسی وجہ سے جانتے ہوں گے ( کہ یہ ان کا رب نہیں ہے بلکہ مخلوق ہے) پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اب تمہیں کس بات کا انتظار ہے ؟ ہرگز وہ اپنے مبعود کے ساتھ جا چکا۔ مسلمانوں عرض کریں گے ! اے بارالٰہ ! ہم دنیا میں ان لوگوں سے الگ رہے حالانکہ ہم ان کے سب سے زیادہ محتاج تھے اور ہم نے ان لوگوں کو ہم کا کبھی ساتھ نہ دیا، اس صورت سے آواز آئے گی : میں تمہارا رب ہوں، مسلمان کہیں گے : ہم تم سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں : ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے، مسلمان یہ کلمات دو یا تین بار دہرائیں گے، یہ ایسا وقت ہوگا کہ بعض مسلمانوں کے دل ڈگمگانے لگیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تمہارے علم میں کوئی ایسی نشانی ہے جس سے تم اللہ کو پہچان سکتے ہو ؟ مسلمان کہیں گے : ہاں پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی منکشف فرمائے گا، اس منظر کو دیکھ کر جو شخص بھی دنیا میں محض اللہ کے خوف اور اس کی رضا کے لیے سجدہ کرتا ہے اس کو سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی، اور جو شخص کسی دنیاوی خوف یا ریا کاری کے لیے دنیا میں سجدہ کرتا تھا، اس کو سجدہ کی اجازت نہیں ملے گی، اس کی پیٹھ ایک تختہ کی طرح ہوجائے گی اور جب بھی وہ سجدہ کرنا چاہے گا اپنی پیٹھ کے بل گرجائے گا، پھر مسلمان اپنا سر سجدہ سے اٹھائیں گے اور اللہ تعالیٰ اسی صورت میں ہوگا جس طورت میں انہوں نے اسے پہلے دیکھا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں تمہارا رب ہوں، مسلمان کہیں گے کہ تو ہمارا رب ہے، پھر جہنم کے اوپر پل صراط بچھا دیا جائے گا اور شفاعت کی اجازت دے دی جائے گی۔ ( الحدیث بطولہ)

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٤٣٩۔ ٤٥٨١ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٣)

اللہ تعالیٰ کا کس صورت میں تجلی فرمانے کا بیان

اللہ تعالیٰ پہلے ایک صورت میں ظاہر ہوگا جس کو دیکھ کر مسلمان انکار کریں گے اور کہیں گے کہ تو ہمارا رب نہیں ہے، پھر ایک اور صورت میں ظاہرہو گا تو مسلمان پہچان لیں گے۔

شروع میں منافقین مسلمانوں کے ساتھ شامل رہیں گے اور مسلمانوں کو اپنے لیے ڈھال بنالیں گے، جس طرح دنیا میں یہ معمول تھا، بعد میں حوض کوثر منافقین کی چھانٹی کردی جائے گی اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ” سحقاً سحقاً “ (دور رہو، دور رہو) فرما کر انہیں مسلمانوں سے الگ کردیں گے، یا اس موقع پر جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا :” وََامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔ “ (یٰسین : ٥٩) اے مجرمو ! آج علیحدہ ہو جائو۔

اللہ تعالیٰ کا پہلے ایسی صورت میں ظاہر ہونا جس کا مؤمنین کا انکار کریں اور دوبارہ ایسی صورت میں ظاہر ہونا جس صورت کو دیکھ کر مؤمنین اس کو رب مان لیں، اس کی تشریح کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہ ہے کہ یہ متشابہات میں سے ہے، ہم اس حدیث پر ایمان لاتے ہیں، اس کے منشاء اور مطلب کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مفوض کرتے ہیں اور متأخرین میں سے قاضی عیاض وغیرہ نے اس کی یہ توجیہ کی ہے کہ پہلی صورت میں اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کی صورت پیش کرے گا جس صورت سے اس کی حادث اور مخلوق ہونے کے آثار ظاہر ہوں گے، اس لیے مؤمنین اس صورت کو دیکھ کر کہہ دیں گے : جس صورت سے اس کے حادث اور مخلوق ہونے کے آثار ظاہر ہوں گے، اس لیے مؤمنین اس صورت کو دیکھ کر کہہ دیں گے : یہ ہمارا رب نہیں ہے، بعد میں اللہ تعالیٰ ان پر اپنی ایک صفت منکشف فرمائے گا ( اس صفت کو حدیث میں صورت سے تعبیر کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ شکل اور صورت سے پاک ہے) اور یہ ایسی صفت ہوگی جو مخلوقات کی صفات میں سے کسی صفت کے مشابہ نہ ہوگی اور نہ اس پر آثار حدوث ظاہر ہوں گے، اس لیے اس صفت کی تجلی کو دیکھ کر تمام مسلمان پکار اٹھیں گے کہ یہ ہمارا رب ہے کیونکہ ان کا اعتقاد ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی شے نہیں ہے، لہٰذا جب وہ ایک بےمثل صف کو دیکھیں گے تو پہنچان لیں گے کہ یہ ہمارا رب ہے۔

حافظ عسقلانی لکھتے ہیں کہ علامہ ابن جوزی نے اس حدیث کی تشریح بیان کرتے ہوئے فرمایا : پہلی بار جو صورت نظر آئے گی اس میں قیامت کی ایسی ہولناکیاں نظر آئیں گی، جیسی دہشت ناک ہولناکیوں انہوں نے کبھی دنیا میں بھی نہ دیکھیں ہوں گی، اس لیے وہ کہیں گے کہ ہم اس سے خدا کی پناہ میں آتے ہیں، اس کے بعد جو صورت نظر آئے گی اس میں اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کی تجلیات ہوں گی جن کو دیکھ کر ان کا خوف اور دہشت دور ہوجائے گی اور یہی وہ صورت ہے جس کو ” کشف ساق “ ( پنڈلی منکشف کرنا ہے) سے تعبیر کیا گیا ہے اور جب مسلمان اللہ تعالیٰ کے بےمثال لطف و کرم کی تجلیات دیکھیں گے تو بےاختیار کہہ اٹھیں گے کہ یہی ہمارا رب ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ پہلی صورت میں مسلمانوں کے دل میں اللہ تعالیٰ یہ بات پیدا کر دے کہ یہ صورت ان کا رب نہیں ہے اور وہ اپنے وجدان سے انکار کردیں اور دوسری صورت جب نظر آئے جو واقعی اللہ تعالیٰ کا جلوہ ہو تو اللہ تعالیٰ ان کے دل میں یہ بات پیدا کر دے کہ وہ واقعی ان کا رب ہے اور وہ اپنے وجدان کی بناء پر کہیں گے کہ یہ ہمارا رب ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ کا محشر میں دیدار بطور امتحان ہوگا اور جنت میں دیدار بطور انعام ہوگا۔ ( صحیح مسلم بشرح النوادی ج ١ ص ١٠٠٩۔ ١٠٠٨، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ )

تبیان القرآن سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 42