اَلۡحَـآقَّةُ سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 1
sulemansubhani نے Wednesday، 17 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلۡحَـآقَّةُ ۞
ترجمہ:
ضرور واقع ہونے والی
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ضرور واقع ہونے والی۔ ضرور واقع ہونے والی کیا چیز ہے ؟۔ ضرور واقع ہونے والی کو آپ کیسا جانتے ہیں ؟۔ ثمود اور عاد نے اس کھڑکھڑانے والی کو جھٹلایا۔ رہے ثمود تو ان کو ایک چنگھاڑ سے ہلاک کردیا گیا۔ اور رہے عادتو ان کو ایک گرجتی ہوئی تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔ ( اللہ نے) اس آندھی کو ان پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلط رکھا، پس ( اے مخاطب ! ) تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر کھوکھلے تنوں کی طرح گرگئے۔ کیا اب تمہیں ان میں سے کوئی باقی نظر آ رہا ہے ؟ (الحاقہ : ٨۔ ١)
” الحاقۃ “ کا معنی اور قیامت کو ” الحاقۃ “ فرمانے کی وجوہ۔
” الحاقۃ “ سے مراد قیامت ہے اور اس کو ” الحاقۃ “ فرمانے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :
(١) ” الحاقۃ “ حق کا اسم فاعل ہے اور حق کا منی ہے : کسی چیز کی حقیقت کو ثابت کرنا اور قیامت کے دن ہر چیز کی حقیقت ثابت ہوجائے گی۔
(٢) ” الحاقۃ “ کا معنی ہے جو چیز ہونے والی ہو اور ثابت ہو اور قیامت کا واقعہونا واجب ہے، اس لیے اس کو ” الحاقۃ “ فرمایا۔
(٣) ” الحاقۃ “ کا معنی ہے : جس چیز کا صدق واجب ہو اور قیامت کے دن ثواب کا وقوع ہوگا، سو قیامت کے دن ثواب اور عذاب کا صدق واجب ہوگا۔
(٤) ” الحاقۃ “ کا معنی ہے، جو چیز برحق ہو اور اس کا ثبوت یقینی ہو اور قیامت برحق ہے، اس کا ثبوت یقینی ہے۔
(٥) ” الحاقۃ “ کا منی ہے : وہ حادثہ جس کا کوئی جھٹلانے والا نہ ہو اور قیامت کے متعلق فرمایا :
لَیْسَ لِوَقْعَتِہَا کَاذِبَۃٌ۔ (الواقعہ : ٢) اس کے وقوع کا کوئی جھٹلانے والا نہیں ہے۔
(٦) ” الحاقۃ “ کا معنی ہے : وہ ساعت ہے جس میں اجزاء کا وقوع برحق ہے اور قیامت کے دن ہر نیک اور بد کو اپنی اپنی جزا ملے گی۔
(٧) ” الحاقۃ “ کا معنی ہے : جس کا لوگوں پر وقوع برحق ہے۔
(٨) زجاج نے کہا : اس دن تمام مکلفین کے اعمال کے آثار حق ہوجائیں گے اور ہر ایک کو اپنے عمل کا اثر برداشت کرنا ہوگا۔
(٩) زہری نے کہا : جو شخص بھی روز قیامت کا منکر تھا، اس پر قیامت کا برحق ہونا واضح ہوجائے گا۔
(١٠) ابو مسلم نے کہا : اس دن آپ کے رب کے کلمات کا برحق ہونا، ظاہر ہوجائے گا۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 1