أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰىۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ‌ ۞

ترجمہ:

( اللہ نے) اس آندھی کو ان پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلط رکھا، پس ( اے مخاطب ! ) تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح گرگئے۔

 

پھر فرمایا : (اللہ نے) اس آندھی کو ان پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلط رکھا۔

اس آیت میں ” سخرھا “ کا لفظ ہے، مقاتل نے کہا : اس کا معنی ہے : اس آندھی کو ان پر مسلط کردیا، دوسرے مفسرین نے کہا : اس آندھی کو ان کے اوپر بھیج دیا اور یہ سب اللہ کی تقدیر اور اس کی قدرت سے ہوا، اور اس میں ” حسرماً “ کا لفظ ہے، یعنی ان سات دنوں اور آٹھ دنوں میں وہ آندھی مسلسل چلتی ہیں ’ حسرم “ کا لفظی معنی ہے : کاٹنے والی، اسی وجہ سے تلوار کو حسام کہتے ہیں اور یہ آندھی بھی ان کی روح اور جسم کا رشتہ کاٹنے والی تھی اس لیے اس کو حسوم فرمایا : دوسری وجہ یہ ہے کہ اس آندھی نے ان کی ہر خیر اور ہر برکت کو جڑ سے کاٹ دیا۔

اس کے بعد فرمایا : پس اے مخاطب ! تم دیکھتے ہو کہ یہ لوگ زمین پر کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح گرگئے۔

اس آیت میں ” صرعٰی “ کا لفظ ہے، یہ ” صریع “ کی جمع ہے، مقاتل نے کہا : اس کا معنی ہے : وہ مر کر گرگئے اور وہ کھوکھلے تنوں کی طرح کھوکھلے ہیں اور ان کے اندر کچھ نہیں ہے، ایک اور جگہ فرمایا :

تَنْزِعُ النَّاسَ کَاَنَّھُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ ۔ (الفجر : ٢٠)

وہ آندھی لوگوں کو اٹھا کر اس طرح پٹختی تھی گویا کہ وہ جڑ سے کئے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔

اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ ان کے اجسام کھجور کے تنوں کی طرح بہت لمبے اور قدآور تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آندھی نے ان کے لمبے لمبے جسموں کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا، اور ” الخاریۃ “ کا معنی ہے : کھوکھلے، اس کی توجیہ یہ ہے کہ آندھی ان کے منہ کے راستہ سے ان کے جسم کے اندر داخل ہوئی اور جسم کے اندر کا تمام گوشت پوست اور تمام اعضاء کو کاٹ کر سرین کے راستے باہر نکال دیا ” الخاویۃ “ کا معنی بوسیدہ اور پرانا ہے یعنی وہ لوگ زمین پر کھجور کے بوسیدہ درختوں کی طرح گرگئے۔

القرآن – سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 7