وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍۙ- سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 6
sulemansubhani نے Wednesday، 17 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍۙ ۞
ترجمہ:
اور رہے عاد تو ان کو گرجتی ہوئی تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔
الحاقہ : ٧۔ ٦ میں فرمایا : اور رہے عاد تو ان کو ایک گرجتی ہوئی تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔ ( اللہ نے) اس آندھی کو ان پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلط رکھا۔
قوم عاد کی عذاب سے ہلاکت
اس آیت میں ” ریح “ ” صر صر “ اور ” عاتیہ “ کے الفاظ ہیں ” ریح “ کے معنی ہیں : آندھی اور ” صرصر “ کے معنی ہیں : بہت تند و تیز آندھی جس کے چلنے سے صر صر کی آواز آرہی ہو، گرم لو اور باوسموم کو بھی ” صرصر “ کہتے ہیں، یہ بھی کا گیا ہے کہ سخت سرد ہوا کے لیے اس کا استعمال عام ہے۔
(لسان العرب ج ٨ ص ٢٢٤، دارصادر، بیروت، ٢٠٠٣ ء)
” عاتیہ “ کا معنی ہے : حد سے متجاوز، یہ باد صر صر کی صفت ہے، جو قوم عاد پر ان کی سرکشی کی وجہ سے بھیجی گئی تھی، یہ ہوا اس قدر تیز تھی کہ فرشتوں کے کنٹرول سے باہر تھی، یہ یخ اور زنا ٹے دار ہوا تھی جس نے قوم عاد کو ہلاک کردیا۔
القرآن – سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 6