أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّالۡمَلَكُ عَلٰٓى اَرۡجَآئِهَا ‌ؕ وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَئِذٍ ثَمٰنِيَةٌ ۞

ترجمہ:

اور فرشتہ اس کے کناروں پر ہوگا، اور اس دن آپ کے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے.

 

الحاقہ : ١٧ میں فرمایا : اس دن آپ کے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔

عرق کو اٹھانے والے آٹھ فرشتوں کی تفصیل

اس آیت کی دو تفسیریں ہیں : ایک یہ ہے کہ جو فرشتے اطراف میں ہوں گے ان کے اوپر جو فرشتے ہیں وہ عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ عام فرشتوں اور حاملین عرش کے درمیان امتیاز کردیا جائے، دوسری تفسیر یہ ہے کہ مقاتل نے کہا ہے کہ حاملین عرش اپنے سروں کے اوپر عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔

حسن بصری نے کہا : مجھے نہیں معلوم کہ اس سے صرف آٹھ فرشتے مراد ہیں یا آٹھ ہزار فرشتے ہیں یا فرشتوں کی آٹھ صفیں مراد ہیں۔

امام رازی نے کہا : اس سے آٹھ فرشتوں کو مراد لینا چاہیے اور اس کی دلیل حسب ذیل احادیث ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اب وہ چار فرشتے ہیں اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ چار مزید فرشتوں سے ان کی تاپید فرمائے گا تو یہ آٹھ فرشتے ہوجائیں گے۔

دوسری حدیث میں ہے : یہ آٹھ فرشتے ہیں جن کے پیر ساتویں زمین تک ہیں اور عرش ان کے سروں کے اوپر ہے اور یہ سر جھکائے ہوئے تسبیح کر رہے ہیں۔

(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٢٦، الکشف و البیان ج ١٠ ص ٢٦، النکت و العیون ج ٦ ص ٨٢، الجامع الاحکام القرآن جز ١٨ ص ٢٤٦ )

القرآن – سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 17