٣٦- باب خوف المؤمن من أن يحبط عمله وهو لا يشعر

مؤمن کو اس کا خوف کہ اس کے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور اس کو پتا بھی نہیں چلے گا

 

امام بخاری کے اس عنوان پر یہ اعتراض ہے کہ معصیت کے ارتکاب سے اعمال کا ضائع ہونا تو معتزلہ اور خوارج کا مذہب ہے

اس کا جواب یہ ہے کہ کبھی انسان کے منہ سے کلمہ کفر نکل جاتا ہے اور اس کو پتا بھی نہیں چلتا، اس لیے نکاح کے وقت کلمے پڑھواۓ جاتے ہیں، اس باب کی سابق باب کے ساتھ یہ مناسبت ہے کہ باب سابق میں یہ بتایا تھا کہ مسلمان کے جنازے کے ساتھ جانے اور تدفین تک ساتھ رہنے سے دو قیراط اجر ملتا ہے، امام بخاری نے اس عنوان کے ساتھ یہ تنبیہ کی ہے کہ مہاجر اس وقت ملے گا، جب اس نے کوئی کلمہ کفر نہ کہا ہو ۔

وقال إبراهيم التيمي ما عرضت قولى على عملي إلا خشيت أن أكون مكذبا، وقال ابن ابی مليكة ادركت ثلاثين من أصحاب النبي صلی اللہ عـليـه وسـلـم كـلهـم يخاف النفاق على نفسه مامنهم أحد يقول إنه على إيمان جبريل وميكائيل ويذكر عن الحسن ما خافه إلا مؤمن ولا أمنه إلا منافق وما يحذر من الإصرار على النفاق والعصيان من غير توبة لقول الله تعالى «ولم يصروا على ما فعلوا وهم يعلمون . (آل عمران: ١٣٥)

امام بخاری فرماتے ہیں کہ ابراہیم تیمی نے کہا: میں نےجب بھی (اپنے ایمان کے) قول کو اپنے عمل پر پیش کیا تو مجھے یہ خوف ہوا کہ کہیں مجھے جھوٹا نہ قرار دیا جاۓ, اور ابن ابی ملیکہ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تیس اصحاب کو پایا، وہ سب اپنے اوپر نفاق سے ڈرتے تھے، ان میں سے کوئی شخص یہ نہیں کہتا تھا کہ وہ حضرت جبریل اور حضرت میکائیل کے ایمان پر ہے اور حسن بصری سے منقول ہے کہ اعمال کے ضائع ہونے سے صرف مؤمن ڈرتا ہے اور اس سے صرف منافق بے خوف ہوتا ہے اور نفاق اور معصیت پر بغیر توبہ کے اصرار کرنے سے اس آیت میں ڈرایا گیا ہے: ’’ اور وہ لوگ اپنے گناہ کے کاموں پر دانستہ اصرار نہیں کرتے ہ‘‘(آل عمران: ۱۳۵ ) ۔

صحابہ کرام کے ضیاع اعمال اور نفاق کے خوف کی توجیہ

صحابہ کرام اور اخیار تابعین اس سے ڈرتے تھے کہ کہیں ان کا خاتمہ کفر پر نہ ہو اور ان کے نیک اعمال ضائع ہوجائیں، اور بعض اوقات انہوں نے ظالم حکام کے برے کام دیکھے اور وہ ان برائیوں کے رد پر قادر نہ ہوۓ تو وہ ڈرتے تھے کہ برے کاموں کا رد نہ کرنا کہیں نفاق اور مداہنت نہ ہو ۔ (شرح ابن بطال ج ۱ ص ۱۰۹ مکتبۃ الرشد ریاض ۱۴۲۰ھ )

قرآن مجید میں ہے:

والذين يؤتون ما اتوا وقلوبهم وجلة (المومنون:60)

اور جولوگ ( اللہ کی راہ میں) جو کچھ دیتے ہیں وہ خوف زدہ دلوں کے ساتھ دیتے ہیں ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اس آیت کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا اس آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں، جو شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں! اے صدیق کی بیٹی ! اس کا مصداق وہ لوگ ہیں جوروزے رکھتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ کر تے ہیں اس کے باوجود وہ اس سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ عبادتیں قبول نہ کی جائیں ۔

( سنن ترمذی:٬۳۱۷۵ سنن ابن ماجه : ۴۱۹۸ مسند حمیدی: ۲۷۵ المستدرک ج ۲ ص ۹۳ ۳ شرح السنۃ ج۶ ص ۲۵)

قارئین سے درخواست ہے کہ وہ دعا کریں کہ اللہ تعالی میری تمام تصانیف کو اور میری تمام نیکیوں کو قبول فرمالے اور میرے گناہوں کو معاف فرمادے ۔(آمین)

امام بخاری نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ پوری آیت اس طرح ہے:

والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب الا الله ولم يصروا على ما فعلوا وهم يعلمون۔

اور جب وہ کوئی بے حیائی کا کام کر لیں یا اپنی جانوں پرظلم کریں، تو وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں اور فورا مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کون گناہوں کی مغفرت کرے گا اور وہ لوگ دانستہ ( آل عمران:۱۳۵)

کسی کیے ہوئے گناہ پر اصرار نہیں کرتے

اصرار کا معنی اور کسی گناہ کے بعد فورا مغفرت طلب کر لی جاۓ تو وہ معاف ہوجاتا ہے

علامہ ابوالحسن علی بن احمد الواحدی المتوفی 468 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

عطاء نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہ آیت حضرت نبہان کھجور فروش کے متعلق نازل ہوئی ہے، ان کے پاس ایک حسین عورت کھجور خریدنے کے لیے آئی، انہوں نے اس کو اپنے ساتھ چمٹایا اور اس کو بوسا دیا پھر وہ اس فعل پر نادم ہوۓ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو یہ ماجرا سنایا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ہے حدیث میں ہے:

انہوں نے اللہ تعالی سے مغفرت طلب کی اور کہا: اے اللہ ! ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہم نادم ہیں اور تجھ سے توبہ کرتے ہیں اصرار نہ کر نے کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے دوبارہ اس گناہ کو نہیں دہرایا اگر کوئی شخص گناہ پر صدق دل سے توبہ کرلے تو پھر وہ اصرار نہیں ہے۔ حدیث میں ہے :

 

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے گناہ پر مغفرت طلب کر لی، اس نے اصرار نہیں کیا، خواہ وہ دن میں ستر مرتبہ اس گناہ کو دہراۓ ۔ (سنن ابوداؤد : ۱۵۱۴ سنن ترمذی: ۳۶۳۰) اس حدیث کی سند حسن ہے ۔

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور سچ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کوئی گناہ کر بیٹھے، پھر وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے، پھر اس گناہ پر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ اس کی مغفرت فرما دیتا ہے، پھر آپ نے آل عمران 136۔135 کی تلاوت فرمائی ۔ ( سنن ابوداؤد : ۱۵۲۱، سنن ترمذی: ۱۹۰۲ )

(الوسیط ج ا ص ۴۹۵ ٬۴۹۳ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۵ھ )

٤٨- حدثنا محمد بن عرعرة قال حدثنا شعبة ،عن زبيد قال سألت أبـا وائـل عـن المرجئة فقال حدثني عبدالله أن النبي صلى الله عليه وسلم قال باب المسلم فسوق، وقتاله كفر.

اطراف الحدیث : ۲۰۴۴-7076

 

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں محمد بن عرعرہ نےحدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از زبید، انہوں نے کہا: میں نے ابووائل سے مرجئہ کے متعلق سوال کیا۔ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسوق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔

( صحیح مسلم : ۶۴ سنن ترمذی: ۶۳۵ ۲۔ ۱۹۸۳، سنن نسائی : ۴۱۴۴ – ۴۱۲۲-۱۴۲۱، سنن ابن ماجہ :۶۹ ، سنن بیہقی ج ۸ ص ۲۰ مسند ابوداؤد الطیالسی :۲۵۸ مسند ابوعوانہ ج ۱ص ۲۴، صحیح ابن حبان:٬۵۹۳۹ مسند ابویعلی : ۴۹۸۸ حلیۃ الاولیاء ج۱۰ص ۲۱۵ مسندالحمیدی: ۱۰۴ مسند احمد ج۱ ص۲۱۱ طبع قدیم، مسند احمد : ۳۹۰۳۔ ج ۷ ص ۱۹ مؤسسة الرسالة بیروت)

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) ابوعبد الله محمد بن عرعره القرشی البصری، یہ ۷۵ سال کی عمر میں ۲۱۳ھ میں فوت ہو گئے امام بخاری امام مسلم اور امام ابوداؤد نے ان سے روایت کی ہے۔

(۲) شعبہ بن الحجاج، ان کا تذکرہ ہو چکا ہے۔

(۳) زبید بن الحارث الکوفی، یہ ابووائل اور تمام تابعین سے روایت کرتے ہیں امام بخاری نے کہا: یہ ۱۲۲ھ میں فوت ہوگئے تھے۔

(۴) ابو وائل شقیق بن سلمہ الاسدی کوفی تابعی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا لیکن آپ کی زیارت نہیں کی، یہ کہتے ہیں: میں نے سات سال جاہلیت کے پاۓ، میں نبی ﷺ کی بعثت کے وقت دس سال کا تھا اور اونٹوں کو چراتا تھا انہوں نے حضرت عمر بن الخطاب، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت ابن مسعود اور حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہم و دیگر سے سماع کیا ہے، اور ان سے بہت تابعین نے سماع کیا ہے، ان کی جلالت، تقوی اور ثقاہت پر اجماع ہے یہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اجل تلامذہ میں سے تھے ۸۲ ھ میں فوت ہوۓ۔

(۵) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔

(عمدة القاری ج۱ ص ۴۳۳۔۴۳۲)

’’ المرجئه ، سباب، فسوق ‘‘اور’’ قتال ‘‘ کے معانی

” المرجتہ ‘‘ یہ اسلام کا ایک فرقہ ہے جس کا نظریہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد معصیت سے ضرر نہیں ہوتا۔

’’سباب ‘‘ اس کا معنی ہے کسی کو گالی دینا یا عیب لگانا یا اس کو برا کہنا ۔

“الفسوق‘‘فسق کا معنی ہے : حق سے خروج، جب تازہ پھل کا چھلکا اتر جاۓ تو کہتے ہیں:’’ فسقت الرطبة ‘‘ معصیت کی طرف میلان گناہ کبیرہ کرنا اس کا اطلاق شرک اور گناہ دونوں پر ہوتا ہے ۔

’’قتال ‘‘ آپس میں لڑنا اور ایک دوسرے کوقتل کرنا مخاصمت کو بھی مقاتلہ کہتے ہیں ۔

اس اعتراض کے جوابات کہ مسلمان سے قتال کرنا معصیت ہے پھر اس پر کفر کا اطلاق کیوں فرمایا ہے اور اس سے بہ ظاہر خوارج کی تائید ہوتی ہے

اس حدیث میں مسلمان سے قتال کو کفر فرمایا ہے اس پر یہ اعتراض ہے کہ مسلمان سے لڑنا یا اس کو قتل کرنا معصیت ہے اس سے..

آدمی ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتا، اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں:

(۱) اس حدیث میں کفر سے حقیقی کفر مراد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ہے: مسلمانوں کے حقوق کو تلف کرنا، کیونکہ اللہ تعالی نےمس لمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ہے اور ان کو آپس میں قبال اور قطع تعلق سے منع فرمایا ہے سوجس نے مسلمان سے قتال کیا اس نے اس کے حق کا کفر کیا یعنی انکار کیا۔

(۲) مسلمان سے قتال کرنا وہ فعل ہے جو کفر کے مشابہ ہے کیونکہ مسلمانوں سے کفار قتال کر تے ہیں ۔

(۳) کفر سے لغوی کفر مراد ہے کیونکہ مسلمان کا مسلمان پر حق یہ ہے کہ وہ اس کی مدد کرے اور اس سے اذیت کو دور کرے اور جب اس نے مسلمان سے قتال کیا تو اس حق کو چھپایا اور کفر کا لغوی معنی چھپانا ہے، اس لیے کسان کو کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ بیج کو زمین میں چھپا دیتا ہے۔

(۴) جو شخص مسلمان سے قتال کرے گا ،ہوسکتا ہے اس کا انجام اور خاتمہ کفر پر ہو یعنی اس کا مآل کفر ہے ۔

(۵) جس نے مسلمان سے اس کے اسلام کے سبب سے قتال کیا اس کا یہ قتال کفر ہے ۔

(۶) جس نے حلال اور جائز سمجھ کر مسلمان سے قتال کیا اس کا یہ قتال کفر ہے جیسے خارجی اور باغی امام برحق سے قتال کریں البتہ جو کسی تاویل کے ساتھ مسلمانوں سے قتال کریں تو وہ کافر نہیں ہیں جیسے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے لشکر نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لشکر سے قتال کیا ۔

* یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۲۹ ۔ ج۱ ص ۴۸۷ پر ہے، اس کی شرح میں فسق کی تین اقسام بیان کی ہیں اور مسلمان سے قتال کو کفر فرمانے کی تین توجیہات بیان کی ہیں ۔