سیدنا علی اور رسول کریم ایک ہی نور ؟ علی کی زبان میں بات؟ معراج سنگ؟
*#معراج پر سیدنا علی نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس تھے؟ معراج کی رات کیا اللہ تعالیٰ نے علی کی زبان میں بات کی؟ کیا سیدنا علی اور رسول کریم ایک ہی نور تھے؟*
سوال:
علامہ صاحب یہ ویڈیو بہت وائرل کی گئ ہے… اسے غور سے سنیں اور اس کا مدلل تحقیقی جواب دیں اور یہ بھی بتائیں کہ اگر روایات جھوٹی ہے تو امام احمد بن حنبل جیسے امام و محدث نے اس روایت کو کیسے لیا…..؟؟
.
جواب و تحقیق:
ویڈیو میں مولانا صاحب جو خطاب کر رہے ہیں ہماری معلومات کے مطابق ان کا تعلق سید ریاض حسین شاہ صاحب، سید عرفان شاہ مشہدی صاحب، حنیف قریشی صاحب، اقبال چشتی صاحب ، چمن زمان صاحب وغیرہ گروپ سے ہے( یہ نور والی روایت عرفان شاہ مشہدی نے بھی بیان کی جیسا کہ وڈہو میں ملاحظہ کرسکتے ہیں)
ہم اسکی دو اہم باتوں پر تحقیق پیش کریں گے
نمبر1
کیا سیدنا علی کی زبان میں اللہ تعالیٰ نے بات کی معراج کی رات…..؟؟
نمبر2
کیا مسند احمد میں ہے کہ سیدنا علی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی نور تھے….؟؟
.
*خطیب صاحب کی پیش کردہ پہلی روایت*
موصوف خطیب کہہ رہے ہیں کہ مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علی اور میں ایک نور تھے
.
*میرا تبصرہ*
مسند امام احمد بن حنبل میں مذکورہ روایت مجھے نہیں ملی البتہ امام احمد بن حنبل کی طرف منسوب کتاب فضائل صحابہ میں یہ روایت موجود ہے جو کہ درج ذیل ہے
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ قثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ قثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُنَّا أَنَا وَعَلِيٌّ نُورًا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ آدَمَ بِأَرْبَعَةَ عَشَرَ أَلْفَ عَامٍ، فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ قَسَمَ ذَلِكَ النُّورَ جُزْءَيْنِ، فَجُزْءٌ أَنَا، وَجُزْءٌ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ» .
(فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل ,2/662 روایت1130)
.
*خطیب مذکور کی بیان کردہ اس روایت کے متعلق میری پہلی بات…….!!*
امام ابن حجر اور امام ذہبی نے اس روایت کو دلیل کے ساتھ موضوع من گھڑت جھوٹی باطل قرار دیا:
الحسن بن على بن صالح أبو سعيد العدوي البصري يضع الحديث…وحدث عن الثقات بالبواطيل….، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: كنت أنا وعلى نورا يسبح الله
امام ذہبی اور امام ابن حجر فرماتے ہیں کہ حسن بن علی بن صالح من گھڑت جھوٹی حدیثیں گھڑ لیتا تھا اور باطل روایات بیان کرتا تھا اس نے ایک باطل اور من گھڑت جھوٹی روایت روایت کی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور علی ایک نور تھے
(ذهبي…ميزان الاعتدال1/506…507)
(ابن حجر…لسان الميزان2/229)
.
خطیب صاحب کی بیان کردہ روایت کا ایک راوی العدوی کے متعلق پڑہیے:
أبي سعيد العدوي الكذاب
حسن بن علی العدوی کذاب جھوٹا راوی ہے
(سیوطی…الزيادات على الموضوعات2/595)
.
الحسن بن علي العدوي. قال السهمي: سألت الدَّارَقُطْنِيّ، عن الحسن بن علي العدوي، فقال: كتب وسمع، ولكنه وضع أسانيد ومتونًا
امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ حسن بن علی العدوی نے من گھڑت جھوٹی روایات اور سندیں گھڑ رکھی ہیں
( موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني في رجال الحديث وعلله1/203)
.
الحسن بن علي العدوي هو أبو سعيد العدوي، كذبه غير واحد
حسن بن علی العدوی کو کئی علماء نے جھوٹا کذاب راوی کہا ہے
( الموسوعة الحديثية15/122)
.
الحَسَن بْن عليّ العدويّ…أحد الكذّابين
حسن بن علی العدوی جھوٹے کذاب راویوں میں سے ہے
(تاريخ الإسلام – ت بشار7/321)
.
وهو كذاب وضَّاع؛ قال عنه ابن حِبَّان: “يروي عن شيوخٍ لم يَرَهم، ويضع على مَن رآهم الحديثَ … حدَّث عن الثقات بالأشياء الموضوعاتِ
حسن بن علی العدوی جھوٹی روایات گھڑ لیتا تھا… امام ابن حبان نے فرمایا کہ یہ ان لوگوں سے روایت کرتا ہے کہ جس کو اس نے دیکھا تک نہیں اور جن کو دیکھا ہے ان کے جھوٹے حوالے سے من گھڑت جھوٹی روایات بیان کرتا ہے… اس نے ثقہ راویوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے کئ موضوع جھوٹی روایات بیان کی ہیں
(ديوان السنة 8/549)
.
*خطیب مذکور کی بیان کردہ اس روایت کے متعلق میری دوسری بات…..!!*
فضائل الصحابہ امام احمد بن حنبل کی طرف منسوب ہے مگر اس میں ان کے بیٹے کی زیادہ کردہ روایات بھی ہیں اور قطیعی کی زیادہ کردہ روایات بھی ہیں تو گویا یہ کتاب تین مصنفین کا مجموعہ ہے
قطیعی کی زیادہ کردہ روایات کی نشانی علماء نے لکھی کہ حدثنا عبداللہ نہ ہوگا…مذکورہ روایت بھی قطیعی کی ہے امام احمد بن حنبل کی نہیں، لیھذا کہنا کہ امام احمد بن حنبل کی روایت ہے غلط فھمی کم علمی یا خیانت و مکاری ہے اور قطیعی من گھڑت موضوع جھوٹی روایات تک لکھ دیتا ہے…
زيادات لأبي بكر: أَحْمد بن جَعْفَر بن حمدَان قطیعی
على فَضَائِل الصَّحَابَة للْإِمَام أَحْمد بِرِوَايَة ابْنه عبد الله.
وَهِي كَثِيرَة ومشتملة على أَحَادِيث مَوْضُوعَة
قطیعی نے امام احمد بن حنبل کی کتاب فضائل صحابہ میں کافی روایات زیادہ کی ہیں اور ان میں سے کافی من گھڑت جھوٹی ہیں
(زيادات القطيعي على مسند الإمام أحمد دراسة وتخريجا ص118)
.
*خطیب مذکور کی بیان کردہ اس روایت کی مناسبت سے میری تیسری بات……!!*
اگر موضوع اور من گھڑت اور جھوٹی روایات کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ علی اور رسول کریم ایک ہی نور سے ہیں تو پھر اس قسم کی روایت تو خلفائے راشدین اور سیدنا معاویہ وغیرہ قریش کے متعلق بھی ہے
إِنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ نُورًا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ آدَمَ
بِأَلْفَيْ عام، يسبح ذَلِكَ النُّورُ ….. وَلَمْ يَزَلْ ينقلني من أصلاب الكرام إلى الأرحام، حَتَّى أَخْرَجَنِي مِنْ بَيْنِ أَبَوَيَّ
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک( میرے سمیت) قریش تمام کا تمام اللہ کے ہاں نور تھا اللہ کی تسبیح کرتا تھا سیدنا آدم علیہ الصلاۃ والسلام کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے… پھر میرا نور منتقل ہوتا رہا پاکیزہ پشت سے دوسری پشت تک یہاں تک کہ میرے والدین تک پہنچا اور میں پیدا ہوا
(المطالب العالية محققا لابن حجر17/195)
تو پھر انصاف کیجیے ناں
کہیے سیدناابوبکرصدیق اور رسول کریم ایک نور ہیں
کہیے سیدنا عمر فاروق اور رسول کریم ایک نور ہیں
کہیے سیدنا عثمان غنی اور رسول کریم ایک نور ہیں
کہیے سیدنا علی اور رسول کریم ایک نور ہیں
کہیے سیدنا معاویہ اور رسول کریم ایک نور ہیں
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین
لیکن
حق اور حقیقت یہی ہے کہ مذکورہ قریش والی روایت اور سیدنا علی والی روایت دونوں ہی ثابت نہیں ہیں
.
*خطیب صاحب کی پیش کردہ دوسری روایت*
مذکور خطیب نے بغیر کسی حوالے کے یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالی نے شب معراج علی کی زبان میں بات کی
*میرا تبصرہ*
بہت ساری شیعہ کتب میں یہی روایت لکھی ہے اور انہوں نے حوالہ مناقب الخوارزمی کا دیا ہے…مناقب الخوارزمی کی سند یہ ہے
– وأنبأني مهذب الأئمة هذا، أخبرنا أبو القاسم نصر بن محمد بن علي بن زيرك المقري، أخبرنا والدي أبو بكر محمد، قال أبو علي عبد الرحمان بن محمد بن أحمد النيسابوري، حدثنا أحمد بن محمد بن عبد الله النانجي البغدادي، – من حفظة بدينور – حدثنا بن محمد بن جرير الطبري، حدثني محمد بن حميد الرازي، حدثنا العلاء بن الحسن الهمداني، حدثنا أبو مخنف لوط بن يحيى الأزدي عن عبد الله بن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله – وسئل بأي لغة خاطبك ربك ليلة المعراج؟ – فقال: خاطبني بلغة علي
لوط بن یحیی ابو مخنف کہتا ہے کہ ابن عمر نے فرمایا ہے کہ میں نے رسول اللہ کو سنا ان سے سوال کیا گیا کہ معراج کی رات آپ سے اللہ نے کس لغت میں بات کی تو حضور نے فرمایا کہ میرے رب نے مجھ سے علی کی لغت میں بات کی
(المناقب – الموفق الخوارزمي – الصفحة 78)
.
*میرا تبصرہ*
*پہلی بات* تو یہ ہے کہ اسی کتاب کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ ابو مخنف پیدا بھی نہیں ہوا تھا اس وقت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ وفات پا چکے تھے… اور ابو مخنف مشہور شیعہ ہے رافضی ہے تو یہ اس کی جھوٹی من گھڑت روایت ہے
لوط بن يحيى، أبو مخنف: متروك
ابو مخنف متروک راوی ہے
(ديوان الضعفاء ص333)
.
لوط بن يحيى أَبُو مخنف كَذَّاب
ابو مخنف کذاب جھوٹا راوی ہے
(تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة1/98)
.
*دوسری بات*
مذکورہ روایت میں ایک راوی محمد بن حمید الرازی جس پر سخت جرح ہے اسے کذاب کہا گیا ہے لیکن بعض ائمہ نے اس سے دوسری کچھ روایت کی ہے تو اس کی وجہ شاید یہ ہو گی کہ ان کے نزدیک اس کا کوئی متابع ہوگا یا پھر اور کوئی وجہ من وجوہ القبول ہوگی یا وہ رازی کوئی اور ہوگا یہ رازی کوئی اور راوی ہوگا
.وَقَالَ صَالِحٌ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْذَقَ بِالْكَذِبِ مِنْ رَجُلَيْنِ: سُلَيْمَانُ بْنُ الشَّاذَكُونِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ…وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ: مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ رَدِيء الْمَذْهَبِ غَيْرُ ثِقَةٍ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ: سَمِعْتُ فَضْلَكَ الرَّازِيَّ، يَقُولُ: عِنْدِي عَنِ ابْنِ حُمَيْدٍ خَمْسُونَ أَلْفَ حَدِيثٍ، لَا أُحَدِّثُ عَنْهُ بِحَرْفٍ.
وَقَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْهَرِيُّ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ مَنْصُورٍ، يَقُولُ: أَشْهَدُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ وَعُبَيْدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَطَّارِ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ تَعَالَى إِنَّهُمَا كَذَّابَانِ
صالح فرماتے ہیں کہ میں نے سلیمان اور محمد بن حمید سے بڑھ کر کوئی ماہر جھوٹا نہیں دیکھا.. ابراھیم فرماتے ہیں کہ یہ برے مذہب والا تھا… امام نیشاپوری فرماتے ہیں کہ میں نے امام رازی کو سنا وہ فرماتے تھے کہ میرے پاس محمد بن حمید کی پچاس ہزار احادیث ہیں لیکن اس میں سے کوئی ایک حرف بھی قابل بیان نہیں… امام اسحاق بن منصور فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد بن حمید اور عبید بن اسحاق دونوں کذاب جھوٹے تھے
(الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير2/190)
.
محمد بن حميد الرازي الحافظ: قال أبو زرعة: كذاب، وقال صالح جزرة: ما رأيت أحد بالكذب منه، ومن الشاذكوني
امام ابو زرعہ فرماتے ہیں کہ محمد بن حمید کذاب جھوٹا راوی ہے…صالح جزرہ فرماتے ہین کہ میں نے محمد بن ھمید اور الشاذکونی سے بڑھ کر جھوٹا راوی نہیں دیکھا
(ديوان الضعفاء ص348)
.
محمد بن حميد الرازي، كذَّبه جماعةٌ
محمد بن حمید کو علماء و محدثین کی ایک جماعت نے کذاب جھوٹا قرار دیا ہے
(الدر المنظوم من كلام المصطفى المعصوم صلى الله عليه وسلم ص324)
.
عبد الرحمن بن محمد بن أحمد بن فضالة.]عن أبي أحمد الغطريفي…حافظ صاحب حديث لكنه رافضي
عبد الرحمن بن محمد حافظ تھا حدیث والا تھا مگر رافضی تھا
(لسان الميزان ت أبي غدة5/131)
.
– عبد الرَّحْمَن بن مُحَمَّد بن أَحْمد بن فضَالة عَن الغظريف حَافظ لكنه رَافِضِي
عبد الرحمن بن محمد حافظ تھا مگر رافضی تھا
(المغني في الضعفاء2/386)
.
*قاعدہ نمبر①*
مدار سند حدیث پر ہے اگر اس سے روایت کرنے والا کذاب یا وضاع متفرد ہو تو وہ روایت موضوع ہوگی اور اگر ضعیف ہے تو روایت صرف ضعیف ہوگی(شرح الزرقانی علی المواہب الفصل الاول من المقصد الثامن فی طبہ صلی اللہ علیہ وسلم ج9 صفحہ 337 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ)حضرت علامہ ملا علی قاری فرماتے ہیں: موضوع اس روایت کو کہا جاتا ہے جس کے راوی پر کذب کا طعن ہو(شرح نخبۃ الفکر فی مصطلحات اہل الاثر جلد1 صفحہ 435 دار الارقم لبنان بیروت)
موضوع تو جب ہوتی کہ اس کا راوی متہم بالکذب ہوتا….یا ناقل رافضی(ہو اور) حضرات اہلبیت کرام علٰی سیدہم وعلیہم الصلاۃ والسلام کے فضائل میں وہ باتیں روایت کرے جو اُس کے غیر سے ثابت نہ ہوں(تو روایت موضوع من گھرٹ جھوٹی مردود کہلائے گی)،جیسے حدیث:لحمك لحمی ودمك دمی (تیرا گوشت میرا گوشت،تیرا خُون میرا خُون.ت)
(فتاوی رضویہ 5/461..466ملتقطا)
.
*قاعدہ نمبر ②*
وَاتَّفَقُوا على تَحْرِيم رِوَايَة الْمَوْضُوع) أَي إِذا عُلِم أَنه مَوْضُوع، (إِلَّا مَقْرُونا ببيانه) أَي إِلَّا نقلا مُتَّصِلا بِبَيَان كَونه مَوْضُوعا.
تمام علماء کرام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ موضوع روایت کو جان بوجھ کر بیان کرنا حرام ہے اگر بیان کیا جائے تو یہ بھی بتایا جائے کہ یہ موضوع اور من گھڑت ہے
(الملا على القاري ,شرح نخبة الفكر للقاري ,page 453)
.
اتّفق الْعلمَاء على أَنه لَا يجوز ذكر الْمَوْضُوع إِلَّا مَعَ بَيَان فِي أَي نوع كَانَ…
علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع روایت کو بیان کرنا جائز نہیں ہے چاہے وہ کسی بھی معاملے میں ہو (حکم یا فضیلت وغیرہ کسی بھی معاملے میں ہو)
(توجيه النظر إلى أصول الأثر2/653)
.
لا يحل رواية الموضوع في أي باب من الأبواب إلا مقترنا ببيان وضعه سواء في ذلك ما يتعلق بالحلال والحرام أو الفضائل أو الترغيب والترهيب والقصص والتواريخ ونحوها, ومن رواه من غير بيان فقد باء بالإثم المبين، ودخل في عداد الكذابين
حلال حرام فضائل ترغیب و ترہیب قصے تاریخ وغیرہ معاملات میں موضوع روایت کو بیان کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ اس کا موضوع من گھڑت ہونا بھی بیان کیا جائے۔۔۔جس نے اس طرح بیان نہ کیا وہ گنہگار ہے وہ بھی کذاب جھوٹا ہے
(الوسيط في علوم ومصطلح الحديث ص321)
.
الحدیث:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أترعون عن ذكر الفاجر؟، اذكروه بما فيه يعرفه الناس
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کیا تم(زندہ یا مردہ) فاجر(فاسق معلن منافق , خائن، دھوکے باز) کو واضح کرنے سے ہچکچاتے ہو…؟
(جیسا وہ ہے ویسا کہنے سے گھبراتے ہو…؟؟)
اسے ان چیزوں(ان کرتوتوں، عیبوں اعلانیہ گناہوں ، خیانتوں، منافقتوں دھوکے بازیوں) کے ساتھ واضح کرو جو اس میں ہوں تاکہ لوگ اسے پہچان لیں(اور اسکی گمراہی خیانت منافقت بدعملی دھوکے بازی مکاری سے بچ سکیں)
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد حدیث667وحسنہ و ضعفہ بعضھم لکن معناہ صحیح ثابت بغیرہ کما فی الاسرار للقاری)
یہ حدیث پاک کتبِ حدیث و تفاسیر اور فقہ و تصوف کی کئی کتب میں موجود ہے… مثلا جامع صغیر، شعب الایمان، احیاء العلوم، جامع الاحادیث، طبرانی…کنزالعمال، کشف الخفاء ردالمحتار ، عنایہ شرح ہدایہ، فتاوی رضویہ، تفسیر ثعالبی، تفسیر درمنثور وغیرہ کتب میں موجود ہے
.
لیھذا فاجروں مکاروں گمراہوں بدمذہبوں کی پردہ پوشی نہیں کی جائے گی، انکے گندے نظریات ان کی گندی باتیں ان کے گمراہ کن باتیں، ان کی مکاریاں، ان کی خیانتیں بیان کرنا
بیانِ حق ہے، لازم ہے، اسلام کی نمک حلالی ہے ، تفرقہ بازی نہیں ہے…. اب دیکھیے کہ چور کبھی خود کو چور نہیں کہے گا باطل کبھی خود کو باطل نہیں کہے گا ، مکار خود کو کبھی مکار نہیں کہے گا ،خائن کبھی خود کو خائن نہیں کہے گا جھوٹا کبھی خود کو جھوٹا نہیں کہے گا
تو
ان کی خیانت مکاریاں دھوکہ بازیاں بدمذہبی منافقتیں پکڑنی پڑتی ہیں اور سرعام پھیلانا پڑتی ہیں تاکہ لوگ ان کی گمراہیوں بدمذہبیو مکاریوں منافقوں دھوکے سے خود کو بچائیں… تو سچوں کی پہچان کیجئے ان کا ساتھ دیجیے اور مکاروں جھوٹوں جعلیوں سے بچئیے
القرآن،ترجمہ:
سچوں(کو پہچان کر ان)کا ساتھ دو(سورہ توبہ آیت119)
دین و دنیا کو بدنام تو جعلی منافق مکار کر رہےہیں….عوام و خواص سب کو سمجھنا چاہیےکہ #جعلی_مکار_منافق تو علماء پیر اینکر لیڈر سیاست دان جج وکیل استاد ڈاکٹر فوجی وغیرہ افراد و اشیاء سب میں ہوسکتےہیں،ہوتے ہیں
تو
جعلی کی وجہ سے #اصلی سےنفرت نہیں کرنی چاہیےبلکہ اصلی کی تلاش اور اسکا ساتھ دینا چاہیے
.
*الحاصل*
خطیب مذکور کی دونوں بیان کردہ روایات ثابت نہیں ہیں بلکہ موضوع ، من گھڑت جھوٹی روایات ہیں، شیعہ کی بیان کردہ روایات ہیں، اس کے راوی کذاب جھوٹے من گھڑت روایت کرنے والے ہیں ، رافضی ہیں… ایسی موضوع من گھڑت جھوٹی روایات بیان کرنا یا اس سے حکم یا فضیلیت ثابت کرنا جائز نہیں ہے بلکہ جرم ہے…توبہ رجوع لازم اور آئندہ احتیاط لازم…..معتبر علماء اہلسنت فرما چکے کہ ایسےشیعی روایات بیان کرنے والے اگر گروپ کا معتبر اہلسنت میں شمار نہیں…ایسوں کے کرتوت واضح کرنا رد کرنا لازم و حق بیانی ہے تاکہ جو سچے اور حق پسند ہیں وہ ایسوں کو پہچانیں ،انہیں نہ بلائیں، انکا اور جو ان جیسے یا ان سے بڑھ کر ہیں انکا بائیکاٹ کریں، ایسوں سے اور جو ان سے بڑھ کر ہیں ان سے ہر قسم کا تعاون نہ کریں…..!!
.
اللہ تعالی نے کس طرح کلام فرمایا..؟ اللہ کو علم اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم……!!
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
whats App nmbr
00923468392475
03468392475
other nmbr
03062524574