أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنِّىۡ ظَنَنۡتُ اَنِّىۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

مجھے یقین تھا کہ میں نے اپنے حساب سے ملنا ہے

تفسیر:

الحاقہ : ٢٠ میں فرمایا : ( دائیں ہاتھ والا کہے گا) مجھے یقین تھا کہ میں نے اپنے حساب سے ملنا ہے۔

لوگوں کا محشر میں تین بار اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جانا

اس یقین سے مراد وہ یقین ہے جو استدلال سے حاصل ہوتا ہے یعنی میں یہ گمان کرتا تھا کہ میرا حساب ہوگا اور اللہ تعالیٰ میرے گناہوں پر گرفت فرمائے گا، پھر اللہ نے اپنے فضل سے مجھے معاف کردیا اور اس نے گناہوں پر مجھے سزا نہیں دی۔

حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل المائ کہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کو کھڑا کرے گا، پھر اس کو اس کے اعمال نامے میں اس کے گناہ دکھائے گا اور اس سے فرمائے گا : تم نے یہ کام یہ کام کیے تھے ؟ وہ کہے گا : ہاں ! اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم کو ان کاموں سے رسوا نہیں کر رہا، میں نے تم کو بخش دیا ہے اور جب وہ بندہ یہ دیکھے گا کہ وہ قیامت کے دن کی رسوائی سے نجات پا گیا ہے تو اس وقت یہ آیات پڑھے گا :” ہَآؤُمُ اقْرَئُ وْا کِتٰـبِیَہْ ۔ اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُـلٰقٍ حِسَابِیَہْ ۔ (الحاقہ : ١٩۔ ٢٠) (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ١٠ ص ٣٣٧١، رقم الحدیث : ١٢٩٧٤، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن مجھے سب سے پہلے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور مجھے سب سے پہلے سجدہ سے سر اٹھانے کی اجازت دی جائے گی، پھر میں سامنے کی طرف دیکھوں گا تو امتوں کے درمیان سے اپنی امت کو پہچان لوں گا اور میرے پیچھے بھی اس کی مثل ہوگا اور میرے دائیں بھی اس کی مثل ہوگا اور میرے بائیں بھی اس کی مثل ہوگا، ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حضرت نوح (علیہ السلام) کی امت سے لے کر آپ کی امت تک اتنی امتیں ہوں گی، آپ ان میں سے اپنی امت کو کس طرح پہچانیں گے ؟ آپ نے فرمایا : میری امت وضو کے اثر سے غرمحجل ہوگی ( یعنی اس کے ہاتھ، پیر اور اس کا چہرہ سفید ہوگا) اور دوسری کوئی امت اس طرح نہیں ہوگی اور میں اس وجہ سے پہچانوں گا کہ ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اور میں اس وجہ سے پہچانوں گا کہ ان کی اولاد ان کے آگے دوڑ رہی ہوگی۔ (مسند احمد ج ٥ ص ١٩٩ طبع قدیم، مسند احمد ج ٣٦ ص ٦٥۔ ٦٤۔ رقم الحدیث : ٢١٧٣٧، مؤ سستہ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢١ ھ، المستدرک ج ٢ ص ٤٧٨، مسند الزار رقم الحدیث : ١٣٤٥٧، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٣٢٥٨ )

تبیان القرآن سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 20