خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 30
sulemansubhani نے Friday، 19 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ ۞
ترجمہ:
اسے پکڑو پھر اس کو طوق پہنا دو
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اسے پکڑو پھر اس کو طوق پہنا دو ۔ پھر اس کو دوزخ میں جھونک دو ۔ پھر اس کو ستر ہاتھ پیمائش کی زنجیر میں جکڑ دو ۔ بیشک یہ بڑی عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں لاتا تھا۔ اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔ پس آج یہاں نہ اس کا کوئی دوست ہے۔ اور نہ دوزخیوں کے پیپ کے سوا کوئی طعام ہے۔ جس کو گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا ( الحاقہ : ٣٠۔ ٣٧)
کفار کو دوزخ میں ستر ہاتھ لمبی زنجیر سے جکڑ کر عذاب دینا
اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیات میں پہلے آخرت میں مؤمنوں کے اجر وثواب، جنت میں ان کی پسندیدہ زندگی اور وسعت کے ساتھ کھانے اور پینے کا ذکر فرمایا : پھر کفار کے عذاب، ان کو طوق ڈالنے اور زنجیروں میں جکڑنے کا اور ان کے لیے دوزخیوں کی پیٹ کے طعام کا ذکر فرمایا، اس کے بعد اب یہ بتایا کہ دوزخ کے محافظ ان کے متعلق یہ کہیں گے کہ اس کو پکڑو تو ایک لاکھ فرشتے اس کی طرف جھپٹ پڑیں گے، اور اس کے ہاتھوں کو گردن کے ساتھ جکڑ کر اس میں طوق ڈال دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا : اس کو دوزخ میں ڈال دو ، اس آیت میں ” الجحیم “ کا لفظ ہے، یہ آگ کا سب سے بڑا طبقہ ہے کیونکہ یہ دنیا میں اپنا اقتدار جتاتا تھا، اور بڑائی ظاہر کرتا تھا تو اس کو بڑی آگ میں جھونکو، یہ جو فرمایا ہے : اس کو ستر ہاتھ کی زنجیر سے جکڑو، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ ستر ہاتھ ہی کی زنجیر ہو بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کو بہت لمبی زنجیر کے ساتھ جکڑ دو کیونکہ عرب میں ستر کا لفظ مبالغہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیسے قرآن مجید میں ہے ” اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً “ (التوبۃ : ٨٠) اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ استغفار کریں، لیکن بہت زیادہ بار استغفار کریں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ زنجیریں ان کی سرین سے داخل ہو کر ان کے حلق سے نکل آتی، پھر ان کی پیشانی اور قدموں کو ملا کر زنجیر کے ساتھ باندھ دیا جاتا۔
ایک سوال یہ کیا گیا کہ اتنی لمبی زنجیر کا کیا فائدہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک لمبی زنجیر کے ساتھ تمام دوزخیوں کو باندھ دیا جائے گا اور جب تمام دوزخی ایک ہی زنجیر کے ساتھ بندھے ہوئے ہوں گے تو وہ ان کے لیے زیادہ عذاب کا باعث ہوگا۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 30