أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَهُوَ فِىۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍۙ‏ ۞

ترجمہ:

پس وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا

تفسیر:

الحاقہ : ٢١ میں فرمایا : پس وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔

” عیشۃ راضیۃ “ میں مجاز عقلی کی نسبت

اس زندگی کو ” راضیۃ “ اس لیے فرمایا کہ وہ رضا کی طرف منسوب ہوگی، نیز اصل میں راضی تو وہ شخص ہوگا جو اس زندگی میں ہوگا پس زندگی کی طرف رضا کی نسبت اسناد مجاز عقلی ہے۔

آخرت میں جو اجر وثواب ہوگا وہ اس لیے پسندیدہ ہوگا کہ اس کے ساتھ اس رنج کی آزمائش نہیں ہوگی کہ کبھی یہ عیش ختم ہوجائے گا، اور وہ ثواب دائمی ہوگا اور اس عیش کے ساتھ تعظیم مقرون ہوگی، خلاصہ یہ ہے کہ وہ عیش جمیع جہات سے پسندیدہ ہوگا۔

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جتنی ہمیشہ زندہ رہیں گے، ان پر موت کبھی نہیں آئے گی اور وہ ہمیشہ صحت مند رہیں گے، کبھی بیمار نہیں ہوں گے اور ہمیشہ نعمت میں رہیں گے، کبھی رنجیدہ نہیں ہوں گے اور وہ ہمیشہ جوان رہیں گے، کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٣٧، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٤٦ )

تبیان القرآن سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 21