فِىۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍۙ سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 22
sulemansubhani نے Friday، 19 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فِىۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍۙ ۞
ترجمہ:
بلند جنت میں
تفسیر:
الحاقہ : ٢٤۔ ٢٢ میں فرمایا : بلند جنت میں۔ جس کے پھلوں کے خوشے جھکے ہوئے ہیں۔ خوب مزے سے کھائو اور پیو ان نیک کاموں کے عوض جو تم نے گزشتہ ایام میں بھیجے تھے۔
جنت کی بلندی کی دو تفسیریں اور جنت کی نعمتوں کی تفصیل
یعنی جس شخص کی زندگی پسندیدہ ہوگی وہ بلند جنت میں ہوگا، اس بلندی سے مراد یا تو مکان کی بلندی ہے یاشرف اور مرتبہ کی بندگی ہے، اگر مکان کی بلندی مراد ہو تو اس پر یہ اعتراض ہے کہ اس جنت کے اوپر اور بھی جنتیں ہوں گی، پھر یہ بلند جنت کیسے ہوئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بلندی سے مراد اضافی بلندی ہے، حقیقی بلندی نہیں ہے اور جنت بہر حال آسمانوں اور زمینوں سے بلند ہے۔
جنت کے پھلوں کے خوشے جھکے ہوئے ہوں گے تاکہ جنتی کا دل جب کسی خوشے سے پھل توڑ کر کھانے کو چاہے تو وہ آسانی سے پھل توڑے، خواہ وہ اس وقت کھڑا ہوا ہو یا بیٹھا ہوا ہو یا لیٹا ہوا ہو۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 22