أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هَلَكَ عَنِّىۡ سُلۡطٰنِيَهۡ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

میرا غلبہ جاتا رہا

تفسیر:

الحاقہ : ٢٩ میں فرمایا : ( کافر کہے گا :) میرا غلبہ جاتا رہا۔

اس غلبہ کی دو تفسیریں ہیں : (١) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : وہ کہے گا : میری وہ حجت میرے ہاتھ سے جاتی رہی جس م سے میں ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف دنیا میں استدلال کرتا تھا، مقاتل نے کہا : اس کا یہ مطلب ہے کہ جب میرے ہاتھ، پائوں اور دیگر اعضاء نے میرے خلاف گواہی دے دی تو میرے سارے عذر اور حیلے، بہانے ہاتھ سے جاتے رہے۔

(٢) دنیا میں جو میرا ملک اور لوگوں پر میرا تسلط اور اقتدار تھا وہ میرے پاس نہ رہا اور اب میں بالکل ذلیل اور فقیر ہوگیا یا اس کا معنی ہے : میں دنیا میں اپنے ملک اور اقتداء کی بناء پر اصحاب ِ حق سے مناقشہ کرتا تھا، اب وہ اقتدار نہ رہا اور اب میں نے اپنی ہٹ دھرمی کا خمیازہ بھگتنا ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 29