يَوۡمَئِذٍ تُعۡرَضُوۡنَ لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 18
sulemansubhani نے Friday، 19 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يَوۡمَئِذٍ تُعۡرَضُوۡنَ لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ ۞
ترجمہ:
اس دن تم سب پیش کئے جائو گے تم میں سے کوئی چھپنے والا چھپ نہیں سکے گا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس دن تم سب پیش کئے جائو گے تم میں سے کوئی چھپنے والا چھپ نہیں سکے گا۔ سو جس کو اس کا صحیفہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا : آئو میرا نامہ اعمال پڑھو۔ مجھے یقین تھا کہ میں نے اپنے حساب سے ملنا ہے۔ پس وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔ بلند جنت میں۔ جس کے پھلوں کے خوشے جھکے ہوئے ہیں۔ خوب مزے سے کھائو اور پیو، ان نیک کاموں کے عوض جو تم نے گزشہت ایام میں بھیجے ہوئے تھے۔ اور رہا وہ جس کو اس کا صحیفہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا پس وہ کہے گا : کاش ! مجھے میرا اعمال نامہ ہی نہ دیا جاتا۔ اور مجھے معلوم نہ ہوتا کہ میرا کیا حساب ہے۔ کاش ! وہی ( موت) میرا کام تمام کردیتی۔ میرا مال میرے کسی کام نہ آتا۔ میرا غلبہ جاتا رہا۔ (الحاقہ : ٦٩۔ ١٨)
اللہ تعالیٰ کے سامنے مخلوق کو حساب کے لیے پیش کیا جائے گا جیسا کہ بادشاہ کے سامنے لشکر کو پیش کیا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے احوال کی باز پرس کرے، قرآن مجید میں ہے :
(الکہف : ٤٨ )
اور وہ سب آپ کے رب کے سامنے صف بستہ پیش کئے جائیں گے۔
حضرت ابو موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن تین مرتبہ لوگوں کو پیش کیا جائے گا، پہلی بار ان سے باز پرس ہوگی اور دوسری بار وہ اپنے عذر پیش کریں گے اور تیسری بار ان کے صحائف اعمال ان کے ہاتھ میں دیئے جائیں گے، نیک شخص کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور بدکار کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا۔
(سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٧٧ ٤، مسند احمد ج ٤ ص ٤١٤)
پھر فرمایا : تم میں سے کوئی چھپنے والا چھپ نہیں سکے گا۔
اس کی تفسیر یہ ہے کہ اس ذات کے سامنے پیش کیا جائے گا جو ہر چیز کو جاننے والا ہے اور اس سے مخلوق کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے اور اس کی دوسری تفسیر یہ ہے : جو چیزیں دنیا میں تم سے چھپی ہوئی تھیں وہ قیامت کے دن چھپی ہوئی نہیں ہوں گی، مؤمنین کے تمام احوال اور اعمال لوگوں کے سامنے ظاہر ہوجائیں گے جس سے ان کو خوشی حاصل ہوگی اور کفار کو برائیاں ظاہر ہوں گی جس سے ان کی رسوائی ہوگی اور ان کو غم ہوگا، قرآن مجید میں ہے :
یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآئِرُ ۔ فَمَا لَہٗ مِنْ قُوَّۃٍ وَّلَا نَاصِرٍ ۔ (الطارق : ٩۔ ١٠)
جس دن پوشیدہ چیزوں کی جانچ پڑتال ہوگی پھر اس کے پاس نہ کوئی قوت ہوگی نہ مدد گار۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر عہد شکن کے لیے قامت کے دن جھنڈا ہوگا جو قیامت کے دن گاڑ دیا جائے گا، ثابت نے کہا : وہ قیامت کے دن دکھایا جائے گا، جس سے وہ پہچانا جائے گا۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣١٨٧، صحیح مسلم الحدیث : ١٧٣٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٨٧٢، مسند احمد ج ٣ ص ١٤٢ )
تبیان القرآن سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 18