أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ ۞

ترجمہ:

سو آپ اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح پڑھیے ؏

 

تفسیر:

الحاقہ : ٥٢ میں فرمایا : سو آپ اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح پڑھیے۔

رکوع اور سجدہ کی تسبیحات کے متعلق احادیث اور ان میں مذاہب

یعنی آپ اس نعمت کا شکر ادا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نزول وحی کا اہل بنادیا، اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نبوت کو ثابت فرمایا کہ اگر آپ جھوٹے نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کا دایاں ہاتھ کاٹ دیتا اور چونکہ ایسا نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ آپ جھوٹے نبی نہیں ہیں، سچے نبی ہیں۔

اس آیت میں فرمایا :” فسبح باسم رب العظیم “ اور ایک اور آیت میں فرمایا ہے :” سبح اسم ربک الاعلی۔ “ ( الاعلیٰ : ١) اور ان کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں، جب یہ آیت نازل ہوئی : ” فسبح باسم ربک العظیم “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو اپنے رکوع میں کرلو اور جب یہ آیت نازل ہوئی :” سبح اسم ربک الاعلیٰ “ تو آپ نے فرمایا : اس کو اپنے سجدہ میں کرلو۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٨٦٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٨٨٧)

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں، انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی، آپ رکوع میں فرماتے ” سبحان ربی العظیم “ اور سجدہ میں فرماتے ” سبحان ربی الاعلیٰ “ اور جب بھی آپ رحمت کی آیت پڑھتے تو وقف کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے اور جب آپ عذاب کی آیت پڑھتے تو وقف کرکے اس سے پناہ طلب کرتے۔

( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨١١، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦٢، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٨٧٣، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٠٠٧)

حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص رکوع کرے اور تین مرتبہ کہے :” سبحان ربی العظیم “ تو اس کا رکوع پورا ہوگیا اور یہ کم سے کم مرتبہ ہے اور جب سجدہ کرے اور تین مرتبہ کہے :” سبحان ربی الاعلیٰ “ تو اس کا سجدہ پورا ہوگیا اور یہ کم سے کم مرتبہ ہے۔

( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦١، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٨٨٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٨٩٠)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان پر بھاری ہیں، رحمان کو محبوب ہیں، وہ ہیں ” سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم “۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث ٦٤٠٦، صحیح مسم رقم الحدیث : ٢٦٩٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٤٦٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٠٦، مسند احمد ج ٢ ص ٢٣٢)

امام احمد کے نزردیک رکوع اور سجود میں تسبیحات کا پڑھنا واجب ہے کیونکہ آپ نے فرمایا ہے : اس کو اپنے رکوع میں کرلو اور اس کو اپنے سجدہ میں کرلو اور امر و جوب کے لیے آتا ہے اور جمہور کے نزدیک ان تسبیحات کا پڑھنا مستحب ہے، کیونکہ جب آپ نے اعرابی کو نماز کی تعلیم دی تو طمانیت سے رکوع اور ًسجود کرنے کا حکم دیا لیکن تسبیح پڑھنے کا ذکر نہیں فرمایا۔

(دیکھئے صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٩٣، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٨٥٦، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٠٣، سنن نسائی رقم الحدیث : ٨٨٤)

سورۃ الحاقہ کا اختتام

الحمد للہ رب العالمین آج ! ٢١ صفر ٤٢٦/ھ یکم اپریل ٢٠٠٥ ھ بہ روز جمعہ سورة الحاقہ کی تفسیر مکمل ہوگئی، الٰہ العلمین ! جس طرح آپ نے محض اپنے کرم سے اس سورت کی تفسیر مکمل کرا دی ہے، بقیہ سورتوں کی تفسیر میں مکمل کرا دیں، دنیا میں مجھے صحت و عافت اور عزت و کرامت کے ساتھ رکھیں اور آخرت میں میری، میرے والدین کی، میرے اساتذہ اور تلامذہ کی مغفرت فرما دیں۔

و صلی اللہ تعالیٰ علیٰ حبیبہ سیدنا محمد نا وعلیٰ آلہٖ و اصحابہ ٖ وازوجہ وسلم

تبیان القرآن سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 52