أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

میں ان چیزوں کی قسم کھاتا ہوں جن کو تم دیکھتے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں ان چیزوں کی قسم کھاتا ہوں جن کو تم دیکھتے ہو اور ان چیزوں کی جن کو تم نہیں دیکھتے۔ بیشک یہ قرآن ضرور رسول کریم کا قول ہے اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے، تم بہت کم ایمان لاتے ہو۔ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے، تم بہت کم سمجھتے ہو۔ (یہ رب العلمین کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔ (الحاقہ : ٤٣۔ ٣٨)

قرآن مجید کا سحر، شعر اور کہانت نہ ہونا

اس آیت کا معنی ہے : میں تمام چیزوں کی قسم کھاتا ہوں، خواہ تم ان کو دیکھتے ہو یا نہیں دیکھتے، مقاتل نے کہا : ان آیات کے نزول کے سبب یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ نے کہا : ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ساحر ہیں، اور ابو جہل نے آپ کے متعلق کہا آپ شاعر ہیں اور عقبہ نے آپ کے متعلق کہا : آپ کاہن ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے رد میں یہ آیات نازل کیں، یہ لوگ قرآن مجید کو سحر، شعر اور کہانت کہتے تھے، اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ یہ ضرور رسول کریم کا قول ہے، سحر، شعر یا کہانت نہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ رسول کریم کا قول ہے، جس بصری، کلبی اور مقاتل نے کہا : اس کی دلیل یہ آیت ہے :

اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ۔ ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ ۔ (التکویر : ١٩۔ ٢٠ )

یہ رسول کریم کا قول ہے۔ جو قوت والا ہے، عرش والے کے نزدیک بلند مرتبہ ہے۔

کلبی سے یہ تفسیر بھی منقول ہے کہ رسول کریم سے اس آیت میں ہمارے نبی سیدنا ممد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور یہ قرآن کسی شاعر کا قول نہیں ہے، حالانکہ قرآن مجید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول نہیں ہے، یہ اللہ عزوجل کا قول ہے، اور یہ قول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اس لیے منسوب ہے کہ آپ اس کی تلاوت کرنیوالے ہیں اور اس کو پہنچانے والے ہیں۔

نیز فرمایا : اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں یہ اور نہ کسی کاہن کا قول ہے، کیونکہ قرآن مجید کی آیات شعر کے فنون کی مخالف ہیں، لیکن تم بہت کم ایمان لاتے ہو، یعنی تم ایمان لانے کا قصد نہیں کرتے، شعر میں خیالی باتیں ہوتی ہیں اور قرآن میں حقائق ہیں، نیز شعر میں یہ قصد کیا جاتا ہے کہ آخری کلمات ایک وزن پر ہوں اور قرآن مجید کی آیات اس طرح نہیں ہیں اور بعض سورتوں میں اگرچہ آخری کلمات ایک وزن پر ہیں لیکن ان کا ایک وزن پر ہونا اتفاقاً ہے قصداً نہیں ہے ورنہ قرآن مجید کی تمام آیات اسی طرح ہوتیں اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے کیونکہ کاہنہ کی کوئی ایک بات سچی ہوتی ہے اور اکثر باتیں جھوٹی ہوتی ہیں اور قرآن مجید کی کوئی بات جھوٹی نہیں ہے، یہ تو رب العلمین کی طرف سے نازل کیا ہوا کلام ہے جو حضرت جبریل کے واسطہ سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 38