اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 20
sulemansubhani نے Monday، 22 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا ۞
ترجمہ:
جب اس پر مصیبت آئے تو گھبرا جاتا ہے
تفسیر:
المعارج : ٢١۔ ٢٠ میں فرمایا : جب اس پر مصیبت آئے گو گھبرا جاتا ہے۔ اور جب اسے نفع پہنچے تو بخل کرتا ہے
فقر اور مرض میں شکوہ اور شکایت نہ کی جائے
اس آیت میں ” شر “ کا لفظ ہے اور یہاں اس سے مراد فقر اور مرض ہے اور دوسری آیت میں ” خیر “ کا لفظ ہے اور اس سے مراد خوش حالی اور صحت ہے، اور ان دونوں آیتوں کا حاصل معنی یہ ہے کہ انسان جب تنگ دست یا بیمار ہوجائے تو بےصبری کا اظہار کرتا ہے اور لوگوں سے شکایت کرتا ہے، اور جب خوش حال اور تندرست ہوجائے تو نیکی کے کام کرنے سے منع کرتا ہے اور اپنے مال کو خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے اور ضرورت مندوں کی طرف توجہ نہیں کرتا، اگر یہ کہا جائے کہ ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ انسان تکلیفوں سے بھاگتا ہے اور راحت کو طلب کرتا ہے اور یہ کوئی مذمت کے لائق چیز نہیں ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت کیوں فرمائی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مذمت کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی نظر صرف دنیاوی احوال اور جسمانی عوارض پر رہتی ہے، حالانکہ اس پر واجب ہے کہ وہ احوال ِ آخرت میں مشغول ہو اور جب وہ بیماری یا تنگ درست میں مبتلا ہو اور اس کو یہ معلوم ہو کہ یہ عوارض اللہ کی طرف سے آئے ہیں تو اس کو چاہیے کہ وہ ان حالات سے راضی ہو کیونکہ اس کو علم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب وہ بیمار ہوجائے تو بیماری کے ازالہ کے لیے علاج نہ کرے اور جب وہ تنگ درست ہوجائے تو تنگ دستی کے ازالہ کے لیے محنت اور جدوجہد نہ کرے، اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ بیماری اور تنگ دستی میں واویلا نہ کرے اور بےقراری کا اظہار نہ کرے اور جب اس کو صحت اور مال حاصل ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، زیادہ سے زیادہ بدنی عبادات کرے اور اپنے مال کو اللہ کی راہ میں اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 20