أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّهُمۡ يَرَوۡنَهٗ بَعِيۡدًا ۙ‏ ۞

ترجمہ:

بیشک وہ اس عذاب کو دور گمان کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک وہ اس عذاب کو دور گمان کرتے ہیں۔ اور ہم اس کو نزدیک جانتے ہیں۔ جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا۔ اور پہاڑ رنگ برنگی اون کی طرح ہوجائیں گے اور کوئی دوست کسی دوست کو نہیں پوچھے گا۔ حالانکہ ان کو سب دکھا دیئے جائیں گے، مجرم تمنا کرے گا : کاش ! وہ اس دن کے عذاب سے نجات کے بدلے میں اپنے بیٹوں کا فدیہ دے دے۔ اور اپنی بیوی اور بھائی کا۔ اور اپنے اس راشتہ دار کا جو ( دنیا میں) اس کو پناہ دیتا تھا۔ اور روئے زمین کے تمام لوگوں کا، پھر یہ فدیہ اس کو عذاب سے نجات دے دے۔ ہرگز نہیں ! بیشک وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ وہ ( سر سے پائوں تک) کھال اتارنے والی ہے۔ وہ اس کو پکارے گی جس نے ( حق سے) پیٹھ پھیری اور اعراض کیا۔ جس نے مال جمع کیا اور حفاظت سے رکھا۔ ( المعارج : ١٨۔ ٦)

قیامت کے احوال اور اھوال

المعارج : ٧۔ ٦ میں بتایا : اہل مکہ عذاب کو بہت بعید سمجھتے ہیں یعنی ان کے نزدیک اس عذاب کا آنا، ناممکن ہے اور ہم اس کو نزدیک جانتے ہیں کیونکہ ہر وہ کام جو ہونے والا ہو وہ قریب ہوتا ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 6