اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ هَلُوۡعًا ۙ سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 19
sulemansubhani نے Monday، 22 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ هَلُوۡعًا ۙ ۞
ترجمہ:
بیشک انسان کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک انسان کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے۔ جب اس پر مصیبت آئے تو گھبرا جاتا ہے۔ اور جب اسے نفع پہنچے تو بخل کرتا ہے۔ سو ان کے جو نماز پڑھنے والے ہیں۔ جو ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے مالوں میں مقرر حق ہے۔ سوال کرنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا۔ اور جو لوگ روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں۔ اور جو لوگ اپنے رب کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں۔ بیشک ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں۔
(المعارج : ٢٨۔ ١٩)
” ھلوعا ً “ اور ” جزوعاً “ کا معنی
اس آیت میں ” ھلوعا “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : بہت زیادہ حرص کرنے والا، بہت زیادہ بےصبری اور بہت زیادہ گھبرانے والا اور بہت زیادہ بےحیائی کی باتیں کرنے والا، اس کا معنی ہے : وہ شخص خیر پر صبر کرتا ہے نہ شر پر، اور خیر اور شر میں وہ کام کرتا ہے جو اس کو نہیں کرنے چاہئیں۔ ضحاک نے کہا : وہ شخص جو کبھی سیر نہیں ہوتا اور جب اس کو مال مل جائے تو اللہ کا حق ادا کرنے سے منع کرتا ہے، ابن کیسان نے کہا : اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس صفت پر پیدا کیا ہے کہ انسان ان چیزوں سے محبت کرتا ہے جو اس کو خوش کریں اور ان چیزوں سے ناراض ہوتا ہے جو اس کو ناپسند ہوں، پھر وہ اپنی طبعی صفت کے بر خلاف اپنی پسندیدہ چیزوں کو خرچ کر کے اور ناپسندیدہ چیزوں پر صبر کر کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، ابو عبیدہ نے کہا : ” ھلوع “ وہ شخص ہے جس کو خیر مل جائے تو اس پر شکر نہ کرے اور جب اس پر مصیبت آئے تو اس پر صبر نہ کرے اور ثعلب نے کہا : جب اس کو خیر ملے تو وہ اس پر بخل کرے اور لوگوں کو دینے سے منع کرے۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ١٨ ص ٢٦٦۔ ٢٦٥ )
حرص اور بخل کے پیدائشی وصف ہونے پر قاضی کا اعتراض اور امام رازی کا جواب
امام فخر الدین محمد بنعمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
قاضی نے کہا ہے کہ اس آیت سے یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس وصف پر پیدا کیا ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی مذمت کی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فعل کی مذمت نہیں کرتا، دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت سے ان مؤمنین کا استثناء کیا ہے، جنہوں نے اس مذموم خصلت کو ترک کردیا اور اپنے نفس سے جہاد کیا ہو اور اگر یہ خصلت اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہوتی تو وہ اس وصف کو ترک کرنے پر قادر نہ ہوتے۔
پھر امام رازی فرماتے ہیں :” ھلع “ کا لفظ دو چیزوں پر واقع ہوتا ہے۔ (١) وہ حالت نفسانیہ جس کی وجہ سے انسان بےصبری، حرص اور بخل کا اظہار کرتا ہے (٢) وہ افعال جو انسان کے قول اور فعل سے ظاہر ہوتے ہیں اور اس حالت ِ نفسانیہ پر دلالت کرتے ہیں، رہی یہ حالت ِ نفسانیہ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے وجود میں آتی ہے، مثلاً جس شخص کو شجاعت اور سخاوت کے وصف پر پیدا کیا گیا ہے، اس کے لیے اس وصف کو بالکلیہ زائل کرنا ممکن نہیں ہے، اسی طرح جس شخص کو بخل اور بزدلی کے وصف پر پیدا کیا گیا ہے، اس کے لیے اس وصف کو بالکلیہ زائل کرنا ممکن نہیں ہے، بلکہ اس قسم کے قول اور فعل پر مشتمل افعال ظاہرہ کو ترک کرنا، اس کے لیے ممکن اور اس کا اقدام کرنا امر اختیاری ہے اور حالت نفسانیہ جو درحقیقت حرص یا بخل ہے وہ اس میں جبراً پیدا کی گئی ہے۔ ( اس جواب پر یہ اعتراض ہے کہ جب اس میں حرص اور بخل کو جبراً پیدا کیا گیا ہے تو حرص اور بخل پر مشتمل قول اور فعل کو ترک کرنا اس کے اختیار میں کس طرح ہوگا ؟ سعیدی غفرلہٗ )
(تفسیرکبیر ج ١٠ ص ٦٤٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
حرص اور بخل کے پیدائشی وصف ہونے پر قاضی کے اعتراض کا جواب مصنف کی طرف سے
میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جس جبلی صفت کو پیدا کیا ہے، اس کو زائل کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہے، جس کو بزدل پیدا کیا گیا ہے وہ بہادر نہیں ہوسکتا اور جس کو بخیل پیدا کیا گیا ہے، وہ سخی نہیں بن سکتا، جس کو حریص پیدا کیا گیا ہے، وہ قانع نہیں بن سکتا اور جس کو فحاش پیدا کیا گیا ہے وہ حیاء دار نہیں بن سکتا اور اس مضمون پر حسب ذیل احادیث دلالت کرتی۔
حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے مستقبل کے متعلق باتیں کر رہے ہیں تھے، اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم یہ خبر سنو کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گیا تو اس کی تصدیق کردینا اور اگر یہ خبر سنو کہ کسی شخص کا جبلی خلق تبدیل ہوگیا تو اس کی تصدیق نہ کرنا کیونکہ انسان اپنے جبلی وصف کی طرف لوٹ آئے گا۔ ( مسند احمد ج ٦ ص ٤٤٣ )
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ ضرور تیسری کو تلاش کرے گا اور ابن آدم کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرے تو اللہ سبحانہٗ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٣٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٤٩، مسند احمد ج ٦ ص ٥٥ )
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابن آدم بوڑھا ہوتا ہے اور اس میں دو خصلتیں جوان ہوتی ہیں، مال کی حرص اور عمر کی حرص۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٢١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٤٧، سنن ترمذی رقم الحدیث ٢٣٣٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٣٤، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٢٢٩، مسند ابو یعلیٰ الحدیث : ١٢٨٥٧، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٢٠٠٤)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگوں کو اس حال میں پائو گے کہ ان میں معاون ہیں، جو زمانہ ٔ جاہلیت میں نیک خصلت تھے، وہ اسلام میں بھی نیک خصلت ہوں گے، جب ان میں دین کی سمجھ ہو۔ الحدیث۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٩٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٢٦، مسند احمد ج ٢ ص ٥٢٥ )
اسی طرح قرآن مجید میں ایک اور مقام پر ہے :
قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِکُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَۃِ رَبِّیْ اِذًا لَّاَمْسَکْتُمْ خَشْیَۃَ الْاِنْفَاقِط وَکَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۔ (بنی اسرائیل : ١٠٠)
آپ کہیے : اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تم ضرور خرچ کرنے کے ڈر سے ان خزانوں کو روک رکھتے اور انسان ہے ہی بخیل۔
اسی آیت سے بھی معلوم ہوا کہ بخل انسان کا اصلی، جبلی اور فطری وصف ہے، اب بجا طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب بخل انسان کا فطری وصف ہے تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم پر کیسے عمل ہوگا اور جب ” ھلوعاً “ اور جزوعاً “ یعنی حرص اور بےصبری اس کا جبلی وصف ہے تو قناعت اور صبر کرنے کے حکم پر وہ کیسے عمل کرسکے گا !
اس کا جواب یہ ہے کہ جبلی اوصاف کو زائل کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں ہے اور نہ اس کو ان اوصاف کے زائل کرنے کا مکلف کیا گیا ہے، وہ صرف اس کو مکلف کیا گیا ہے کہ اس کے اندر جو برے جبلی اوصاف ہیں ان کے اظہار کو کم کر دے اور اس کی سرشت میں جو قبیح اور برے اوصاف ہیں ان کے خلاف اپنے نفس سے جنگ کرتا رہے، یہ ہوسکتا ہے کہ جب وہ اپنے نفس سے برائی کے خلاف جنگ کر رہا ہو تو کبھی وہ مغلوب ہوجائے اور اس سے برائی کا صدور ہوجائے لیکن اس کے فوراً بعد وہ سنبھل جائے اور اس برائی کے صدور پر توبہ اور استغفار کرے، جیسا کہ اس آیت میں ہے :
وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ ذَکَرُوا اللہ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِہِمْقف وَمَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللہ ُ قف وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ (آل عمران : ١٣٥)
اور وہ لوگ جب کوئی بےحیائی کا کام کر بیٹھیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرلیں تو وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں، پھر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کون گناہوں کو بخش سکتا ہے اور وہ اپنے کیے ہوئے کاموں پر دانستہ اصرار نہ کریں۔
تو ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور جنت کی نوید سنائی ہے :
اُولٰٓـئِکَ جَزَآؤُہُمْ مَّغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَجَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَاط وَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ ۔ (آل عمران : ١٣٦)
انہ ہی لوگوں کی جزا ان کے رب کی طرف سے معافی ہے اور ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، اور نیک عمل کرنے والوں کے لیے کیسا اچھا اجر ہے۔
قاضی نے حرص اور بخل وغیرہ برے اوصاف کے وصف اصلی ہونے اور ان کو اللہ سبحانہٗ کی تخلیق قرار دینے پر جو یہ اعتراض کیا ہے کہ اگر ان برے اوصاف کو اللہ تعالیٰ پیدا کرتا نو ان برے اوصاف کی مذمت نہ فرماتا، اس کا امام رازی نے کوئی جواب نہیں دیا، غالباً امام رازی نے اس اعتراض کو قابل التفات نہیں سمجھا، میرے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خیر اور شر کی تمام چیزوں کو پیدا فرمایا ہے، انبیاء (علیہم السلام) کو بھی اس نے پیدا فرمایا ہے اور ابلیس لعین کو بھی اس نے پیدا فرمایا اور یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھی چیزوں کی تعریف کرے اور بری چیزوں کی مذمت کرے، اسی طرح نیک اعمال اور برے اعمال دونوں اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں، اس کے باوجود وہ نیک اعمال کی تحسین فرماتا ہے اور برے اعمال کی مذمت فرماتا ہے۔
رہا یہ سوال کہ ہم نے یہ کہا ہے کہ انسان برے اوصاف مثلاً حرص اور بخل وغیرہ بالکلیہ زائل کرنے کا مکلف نہیں ہے بلکہ ان کم کرنے کا مکلف ہے، اس پر کیا دلیل ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس پر دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے :
وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ (آل عمران : ١٣٤) اور غصہ کو کم کرنے والے۔
یہ فرمایا ہے کہ غصہ کم کرو، یہ نہیں فرمایا کہ غصے کو معدوم کردو کیونکہ غیظ و غضب انسان کا جبلی اور فطری وصف ہے اور وہ اس کو بالکلیہ زائل کرنے پر قادر نہیں ہے۔ وللہ الحمد علی ذالک
ہم نے الشعراء : ١٨٤ میں بھی جبلت کی تحقیق کی ہے۔ ( تبیان القرآن ج ٨ ص ٤٣٦۔ ٤٢٧) اس موضوع پر وسیع مطالعہ کے لیے اس بحث کو بھی دیکھ لیا جائے، لیکن ہم نے یہاں پر زیادہ تفصیل اور جامعیت کے ساتھ لکھا ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 19