وَلَا يَسۡئَـلُ حَمِيۡمٌ حَمِيۡمًا سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 10
sulemansubhani نے Monday، 22 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلَا يَسۡئَـلُ حَمِيۡمٌ حَمِيۡمًا ۞
ترجمہ:
اور کوئی دوست کسی دوست کو نہیں پوچھے گا
تفسیر:
مسلمانوں کا گناہ گار مسلمانوں کی شفاعت کرنا
المعارج : ١٤۔ ١٠ میں فرمایا : اور کوئی دوست کسی دوست کو نہیں پوچھے گا۔ حالانکہ ان کو سب دکھا دیئے جائیں گے، مجرم تمنا کرے گا : کاش ! وہ اس دن کے عذاب کے بدلہ میں اپنے پیٹوں کا فدیہ دے دے۔ اور اپنی بیوی اور بھائی کا۔ اور اپنے اس رشتہ دار کا جو دنیا میں اس کو پناہ دیتا تھا۔ اور روئے زمین کے تمام لوگوں کا، پھر یہ فدیہ اس کو عذاب سے نجات دے دے۔
کیونکہ ہر شخص کو صرف اپنی نجات کی فکر ہوگی تاہم یہ صف کفار کی ہوگی لیکن مؤمنین قیامت کے دن اپنے دوستوں کا حال پوچھیں گے اور ان کی شفاعت کریں گے، حدیث میں ہے :
حضرت ابو سعید خدری (رض) سے قیامت کے احوال کے متعلق ایک طویل حدیث ہے، اس کے وسط میں ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر پل کو لایا جائے گا، ہم نے کہا : یا رسول اللہ ! پل کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ پھسلنے اور گرنے کی جگہ ہے، اس پر کانٹے اور آ ٹکڑے ( ہک) ہوں گے اور چوڑے کو گوکھروہوں گے اور ایسے مڑے ہوئے کانٹے ہوں گے جیسے نجد میں ہوتے ہیں، جن کو سعد ان کہا جاتا ہے، مومن اس پر سے چشم زدن میں بجلی کی طرح، وا کی طرح، تیز رفتار گھوڑوں اور سواریوں کی طرح گزر جائیں گے، ان میں سے بعض تو صحیح سلامت گزر جانے والے ہوں گے اور بعض جہنم کی آگ سے جھلس کر بچ نکلنے والے ہوں گے، حتیٰ کہ آخری شخص اس پر سے گھسٹتے ہوئے گزرے گا، تم آج مجھ سے حق کے معاملہ میں اس قدر جرأ ت مند نہیں ہو، جتنا جرأت مند قیامت کے دن مومن اللہ جبار کے سامنے ہوگا، جب وہ دیکھیں گے کہ اپنے مسلمان بھائیوں میں سے ان کو نجات مل گئی ہے تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمارے ( کچھ اور) بھائی بھی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور دوسرے ( نیک) اعمال کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جائو تم جس کے دل میں بھی ایک دینار کے برابر ایمان پائو اس کو دوزخ سے نکال لو، اور اللہ ان کی صورتوں کو دوزخ پر حرام کر دے گا، پھر وہ آ کر دیکھیں گے کہ بعض تو اپنے قدموں تک دوزخ میں دھنس چکے ہیں اور بعض آدھی پنڈلیوں تک دوزخ میں ہیں، پس وہ جن کو پہچان لیں گے ان کو دوزخ سے نکال لیں گے، پھر واپس آئیں گے تو اللہ عزوجل فرمائے گا : جائو جس کے دل میں نصف دینار کے برابر بھی ایمان ہو اس کو دوزخ سے نکال لو، پھر وہ جن کو پہچانتے ہوں گے ان کو دوزخ سے نکال لیں گے، پھر وہ واپس آئیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جائو جس کے دل میں ذرا برابر بھی ایمان ہو اس کو دوزخ سے نکال لو، پھر وہ جن کو پہچانتے ہوں گے ان کو دوزخ سے نکال لیں گے۔ الحدیث (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٤٣٩، صحیح مسلم الحدیث : ١٨٤)
مرجئہ، معتزلہ اور خوارج کا رد
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف کافر کے دوست اور رشتہ دار اور اس کی شفاعت کر کے اس کو عذاب سے نہیں چھڑا سکیں گے اور مسلمانوں کے دوست اور احباب اور ان کے واقف کار ان کی شفاعت کرکے ان کو دوزخ کے عذاب سے چھڑا لیں گے، اور اس حدیث میں مرجئہ کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ فاسق مومن کو دوزخ کا عذاب بالکل نہیں ہوگا کیونکہ اس حدیث میں مذکور ہے کہ کچھ فساق مؤمنین کے قدموں تک دوزخ کی آگ ہوگی اور کچھ آدھی پنڈلیوں تک دوزخ کی آگ ہوگی، اور اس میں خوارج اور معتزلہ کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ فساق مؤمنین ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور ان کو دوزخ سے نکالنے کے لیے شفاعت نہیں ہوگی اور اس حدیث میں پل صراط کا بھی ثبوت ہے، اس کا بھی معتزلہ انکار کرتے ہیں۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 10