عَلٰٓى اَنۡ نُّبَدِّلَ خَيۡرًا مِّنۡهُمۡۙ وَمَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِيۡنَ سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 41
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عَلٰٓى اَنۡ نُّبَدِّلَ خَيۡرًا مِّنۡهُمۡۙ وَمَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِيۡنَ ۞
ترجمہ:
کہ ان کے بدلے میں ہم ان سے بہتر لوگ لے آئیں، اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں
تفسیر:
المعارج : ٤١ میں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ ان مشرکین مکہ کے بدلہ میں کوئی اور مخلوق لے آئے۔
آیا مشرکین کو ہلاک کر کے اللہ تعالیٰ کوئی اور قوم لایا نہیں ؟
اس میں اختلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قدرت کا اظہار کیا ہے یا نہیں اور ان مشرکین مکہ کی جگہ اور قوم وجود میں لایا ہے یا نہیں۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ان کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ مہاجرین اور انصار کو وجود میں لے آیا اور بعض مفسرین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین مکہ کے شرک اور کفر کو توحید اور ایمان سے تبدیل کردیا اور بعض مفسرین نے کہا کہ یہ تبدیلی وقوع میں نہیں آئی کیونکہ بعض مشرکین تا حیات اپنے شرک اور کفر پر قائم رہے اور یہ تبدیلی اس وقت وقوع میں آتی، جب یہ سب ہلاک ہوجاتے اور ان کی جگہ نئی قوم وجود میں آجاتی اور اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے : اللہ اس پر قادر ہے کہ ان کے بدلہ میں کوئی اور قوم لے آئے، اس سے متبادر یہ ہے کہ وہ ان سب کو ہلاک کر کے کوئی اور قوم پیدا کر دے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا نہیں، صرف ان کو ڈرانے کے لیے اس طرح فرمایا تاکہ یہ ایمان لے آئیں اور بہر حال ان میں سے اکثر ایمان لے آئے حتیٰ کہ پورے جزئرہ عرب میں اسلام پھیل گیا۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 41