أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِرَبِّ الۡمَشٰرِقِ وَالۡمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

سو میں مشارق اور مغارب کے رب کی قسم کھاتا ہوں کہ بیشک ہم ضرور قادر ہیں

تفسیر:

مشارق اور مغارب کی توجیہہ

المعارج : ٤٠ میں مشارق اور مغارب کا ذکر ہے، قرآن مجید میں مشرق اور مغرب کا واحد کے صیغہ کے ساتھ بھی ذکر ہے اور تثنیہ کے ساتھ بھی ذکر ہے اور جمع کے صیغہ کے ساتھ بھی ذکر ہے۔

واحد کے صیغہ کے ساتھ اس آیت میں ذکر ہے :” وَ ِ اللہ ِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ “ (البقرہ : ١١٥)

تثنیہ کے صیغہ کے ساتھ اس آیت میں ذکر ہے :” رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ ۔ “ (الرحمن : ١٧)

جمع کے صیغہ کے ساتھ اس آیت میں ذکر ہے :” کَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا “ (الاعراف : ١٣٧)

سال میں ٥٦٣ دن ہوتے ہیں اور سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے بھی اتنے ہی مقام ہیں، گویا ہر روز کا ایک الگ مشرق اور ایک الگ مغرب ہوتا ہے، اس اعتبار سے جمع کے صیغہ کے ساتھ مشارق اور مغارب فرمایا، سردی اور گرمی میں نمایاں فرق کے ساتھ دو مشرق اور دو مغرب ہوتے ہیں، ایک انتہائی آخری مشرق اور مغرب اور دوسرا ابتدائی قریب ترین مشرق اور مغرب، اس لحاظ سے مشرقین اور مغربین فرمایا اور ایک مطلقاً طلوع اور غروب کے مقام، جن میں اس تفصیل سے قطع نظر ہو، اس اعتبار سے مشرق اور مغرب فرمایا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 40