كَلَّا ؕ اِنَّا خَلَقۡنٰهُمۡ مِّمَّا يَعۡلَمُوۡنَ سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 39
sulemansubhani نے Wednesday، 24 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَلَّا ؕ اِنَّا خَلَقۡنٰهُمۡ مِّمَّا يَعۡلَمُوۡنَ ۞
ترجمہ:
ہرگز نہیں ! بیشک ہم نے ان کو اس چیز سے بنایا ہے جس کو وہ جانتے ہیں
تفسیر:
المعارج : ٣٩ میں فرمایا : ہرگز نہیں ! بیشک ہم نے ان کو اس چیز سے بنایا ہے جس کو وہ جانتے ہیں۔
اس آیت میں ” کلا “ کا لفظ ہے، اس لفظ کا معنی کسی شخص کی فاسد طمع پر اس کو ڈاٹنا، اور اس کو رد کرنا ہے، اس آیت منشاء مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر استدلال کرنا ہے، اس کی تقریر یہ ہے کہ اے مشرکو ! تم اس پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو ایک گندے قطرے سے بنایا ہے تو جب میں ابتداء ًتم کو ایک گندے قطرہ سے پیدا کرسکتا ہوں تو دوبارہ تم کو کیوں پیدا نہیں کرسکتا۔
مشرکین مکہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے تو گویا ان سے کہا گیا کہ جب تم قیامت، حشر و نشر اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے ہو تو پھر کس بناء پر یہ توقع کر رہے ہو کہ تم جنت میں داخل کیا جائے گا۔
مشرکین مکہ مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے اور ان کو حقیر جانتے تھے تو گویا کہ ان سے کہا گیا کہ تم کس بناء پر مسلمانوں کو حقیر جانتے ہو، تم اپنی اصل پر غور تو کرو، تم کو ایک حقیر بوند سے پیدا کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو میں مشارق اور مغارب کے رب کی قسم کھاتا ہوں کہ بیشک ہم ضرور قادر ہیں۔ کہ ان کے بدلہ میں ہم ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں۔ پس ( اے رسول مکرم ! ) آپ ان کو ان کی بےہودہ باتوں اور کھیل تماشے میں چھوڑ دیں حتیٰ کہ یہ اس دن سے آ ملیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ (المعارج : ٤٢۔ ٤٠ )
تبیان القرآن سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 39