لِّلسَّآئِلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 25
sulemansubhani نے Wednesday، 24 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لِّلسَّآئِلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ ۞
ترجمہ:
سوال کرنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا
تفسیر:
المعارج : ٢٥ میں فرمایا : ( وہ حق معلوم) سائل کا ہے اور محروم کا۔
سوال کرنے کے جواز کا ضابطہ
سائل سے مراد ہے : جو مانگتا ہو اور محروم سے مراد وہ شخص ہے جو ضرورت مند ہونے کے باوجود سوال نہیں کرتا اور مال دار شخص اس کے سوال نہ کرنے کی وجہ سے اس کو خوشحال سمجھتا ہے، اس وجہ سے وہ اپنے حق سے محروم رہتا ہے، اس آیت میں سائل سے مراد پیشہ ورگدا گر نہیں ہیں، درج ذیل حدیث میں سوال کرنے کا ضابطہ بیان فرمایا ہے :
حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی (رض) بیان کرتے ہیں : ایک بڑی رقم کا مقروض ہوگیا تھا، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ سے اس کے متعلق سوال کروں، آپ نے فرمایا : اس وقت تک ہمارے پاس ٹھہرو جب تک صدقہ کا مال آجائے، ہم اس میں سے تمہیں دینے کا حکم کریں گے، پھر فرمایا : اے قبیصہ ! تین شخصوں کے علاوہ اور کسی کے لیے سوال کرنا جائز نہیں ہے، ایک وہ شخص جو مقروض ہو، اس کے لیے اتنی مقدار کا سوال جائز ہے جس سے اس کا فرض ادا ہوجائے، اس کے بعد وہ سوال رک جائے، دوسرا وہ شخص جس کے مال کو کوئی آفت نا گہانی پہنچی ہو جس سے اس کا مال تباہ ہوگیا ہو، اس کے لیے اتنا سوال کرنا جائز ہے، جس سے اس کا گزارہ ہوجائے، تیسرا وہ شخص جو فاقہ زدہ ہو اور اس کے قبیلہ کے تین عقل مند آدمی اس بات پر گواہی دیں کہ واقعی یہ فاقہ زدہ ہے تو اس کے لیے بھی اتنی مقدار کا سوال کرنا جائز ہے جس سے اس کا گزارہ ہوجائے، اور اے قبیصہ ! ان تین شخصوں کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے اور جو ( ان کے علاوہ کسی اور صورت میں) سوال کر کے کھاتا ہے وہ حرام کھاتا ہے۔ ( العیاذ باللہ)
مقروض کے لیے ادائیگی قرض کے واسطے سوال کی اجازت اس وقت ہے، اس نے کسی جائز ضرورت کی وجہ سے قرض لیا ہو، اگر کسی گناہ کی خاطر قرض لیا ہے تو سوال کی اجازت نہیں، فاقہ زدہ کے لیے اس کی قوم کے تین ذی عقل آدمیوں کی گواہی بطور استحباب ہے ورنہ دو آدمیوں کی گواہی بھی کافی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشہ ور گداگری اسلام میں ناجائز ہے اور اسلامی حکومت پر فرض ہے کہ پیشہ ور گداگروں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ آج کل بعض لوگ مصنوعی طور پر اور بعض عمداً معذور بن جاتے ہیں اور اپنے ہاتھ پیر خراب کر کے ایسی وضع اختیار کرتے ہیں کہ دیکھنے والوں کو ترس آئے اور زیادہ سے زیادہ بھیک ملے، ایمان کے بعد سب سے بڑی نعمت سلامتی اعضاء ہے، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو ضائع کرتے ہیں اور کفران ِ نعمت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ بعض لوگ میک اپ کا سہارا لے کر مصنوعی بیماریاں ظاہر کرتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں، بعض مصنوعی طور پر نابینا یا لنگڑے بن جاتے ہیں، ایسے تمام لوگوں کو گرفتار کر کے سخت سزا دینی چاہیے تاکہ اس مکروہ پیشہ کی حوصلہ شکنی ہو اور پیشہ ور گداگری کی لعنت کا خاتمہ ہو۔
اس آیت میں سائلین اور محرومین کا حق فرمایا ہے، اس میں یہ نکتہ ہے کہ اگر مال دار لوگ سائلین اور محرومین کو کچھ مال دے رہے ہیں تو ان پر احسان نہیں کر رہے بلکہ مال داروں کے مال میں یہ ان کا حق ہے جس کو وہ ان تک پہنچا رہے ہیں۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 25