وَالَّذِيۡنَ فِىۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 24
sulemansubhani نے Wednesday، 24 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالَّذِيۡنَ فِىۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ ۞
ترجمہ:
اور جن لوگوں لوگوں کے مالوں میں مقرر حق ہے
تفسیر:
” حق معلوم “ کی تفسیر میں جمہور کا مؤقف
المعارج : ٢٥۔ ٢٤ میں فرمایا : اور جن لوگوں کے مالوں میں مقرر حق ہے سوال کرنے والوں کا اور رسول سے بچنے والوں کا۔
” حق معلوم “ کی تفسیر میں اختلاف ہے، حضرت ابن عباس (رض) ، حسن بصری اور ابن سیرین نے کہا : اس سے مراد زکوٰۃ مفروضہ ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا : جو شخص فرض زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ نفلی صدقات ادا نہ کرے تو کوئی خرج نہیں ہے، رہایہ کہ اس ” حق معلوم “ سے مراد و زکوٰۃ مفروضہ ہے تو اس پر کیا دلیل ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ان سے استثناء کیا ہے جن کی مال خرچ نہ کرنے کی وجہ سے مذمت کی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنے مال سے ” حق معلوم “ ادا کردیتا ہے وہ مذموم نہیں ہوگا، لہٰذا اس حق کو ادا کرنا واجب ہے اور جس کو خرچ کرنا واجب ہو وہ صرف زکوٰۃ ہے اور دوسری دلیل یہ ہے کہ ” حق معلوم “ کا معنی ہے : جس حق کی مقدار معلوم ہو اور صرف زکوٰۃ کی مقدار معلوم اور معین ہے اور صدقات ِ مالیہ کی مقدار معلوم اور معین نہیں ہے۔
مجاہدنے یہ کہا ہے کہ یہ ” حق معلوم “ زکوٰۃ کے علاوہ یعنی جس مال کو بہ طور ندب اور استحباب کے خرچ کیا جائے۔
(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٤٥، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
میں کہتا ہوں کہ مجاہد کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ” حق معلوم “ سے بہ طور استحباب مال خرچ کرنا مراد ہے کیونکہ اس آیت میں ان لوگوں سے استثناء ہے جو مال خرچ نہیں کرتے تھے اور ان کی اللہ تعالیٰ نے مذمت فرمائی ہے، اس کا معنی ہے : ان لوگوں کی مذمت فرمائی ہے جن پر مال خرچ کرنا واجب تھا اور وہ مال کو خرچ نہیں کرتے تھے اور واجب صرف زکوٰۃ ہے اور مستحب کے ترک پر مذمت نہیں کی جاتی، اس لیے ” حق معلوم “ سے بہ طور استحباب خرچ کرنے کو مراد لینا صحیح نہیں ہے۔
علامہ ابو عبد الہ محمد بن احمدمال کی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :
زیادہ صحیح یہ ہے کہ ” حق معلوم “ سے مراد زکوٰۃ مفروضہ ہے، کیونکہ زکوٰۃ کی مقدار معلوم ہے اور باقی کسی صدقہ کی مقدار معلوم نہیں ہے۔ (الجامع الاحکام القران جز ١٨ ص ٢٦٧، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
قاضی عبد اللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں :
جیسے زکوٰۃ اور وہ صدقات جو سائلین کے لیے مقرر کردیئے جاتے ہیں۔
(بیضاوی مع عنایۃ القاضی ج ٩ ص ٢٧٣، دارالکتب العلمیہ، بیرو ت، ١٤١٧ ھ)
امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ مفروضہ ہے۔
( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٧٠٧٦۔ جز ٢٩ ص ٩٩، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
” حق معلوم “ کی تفسیر میں سیدمودودی کی رائے
سید ابو الاعلیٰ متوفی ١٣٩٩ ھ نے ان تمام مفسرین کے خلاف یہ لکھا ہے :
بعض لوگوں نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ مقرر حق سے مراد فرض زکوٰہ ہے، کیونکہ اسی میں نصاب اور شرح دونوں چیزیں مقرر کردی گئی ہیں، لیکن یہ تفسیر اس بناء پر قابل قبول نہیں ہے کہ سورة معارج بالا تفاق مکی ہے اور زکوٰ ۃ ایک مخصوص نصاب اور شرح کے ساتھ مدینہ میں فرض ہوئی ہے، اس لیے مقرر حق کا صحیح مطلب یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک حصہ طے کر رکھا ہے جسے وہ ان کا حق سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ ( تفہیم القرآن ج ٦ ص ٩٠، ترجمان القرآن، لاہور، ١٩٩٠ ء) ( یہ توجیہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اپنی طرف سے طے کردہ صدقہ کو نہ دینا قابل مذمت نہیں ہے، قابل مذمت تب ہوگا جب اللہ عزوجل کی طرف سے فرض کیے ہوئے صدقہ کو نہ دیا جائے اور وہ صرف زکوٰۃ ہے۔ سعیدی غفرلہٗ )
میں کہتا ہوں کہ سورة المزمل بھی مکی ہے اور اس میں یہ صریح آیت ہے :
وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَقْرِضُوا اللہ قَرْضًا حَسَنًا (المزمل : ٢٠ )
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو قرض حسن دیتے رہو۔
سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اس کتاب کی تفسیر میں لکھا ہے :
مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سے مراد پنج وقتہ فرض نماز اور فرض زکوٰۃ ادا کرنا ہے۔
(تفہیم القرآن ج ٦ ص ٣٤، لاہور، ١٩٩٠ ء)
رہا یہ سوال کہ زکوٰۃ کا مخصوص نصاب اور شرح مدینہ منورہ میں مقرر ہوئی ہے، اس کے جواب میں علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :
زکوٰۃ مکہ معظمہ میں بغیر تعیین زکوٰۃ کے فرض کی گئی تھی اور مدینہ منورہ میں نصابوں کی تعیین فرض کی گئی، پس یہ ممکن ہے کہ اس زکوٰۃ سے فرض زکوٰۃ مجملاً مراد لی جائے، پس ان آیات کے مکی ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہے۔
(روح المعانی جز ٢٩ ص ٩٦، دارالفکر بیروت، ١٤١٧ ھ)
نیز علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ جمہور کے نزدیک تک یہ پوری سورت مکی ہے البتہ بعض علماء کے نزدیک اس سورت کا دوسرا رکوع مدنی ہے لیکن علامہ سیوطی نے اس قول کو رد کردیا ہے۔ ( روح المعانی جز ٢٩ ص ٧٣، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
ہر چند کہ سورة المزمل کے دوسرے رکوع کے مکی ہونے میں بعض علماء کا اختلاف ہے، اسی طرح مقرر حق کی تفسیر میں بھی بعض علماء نے اس سے زکوٰۃ کو مراد نہیں لیا، لیکن اکابر مفسرین اور جمہور نے اس سے زکوٰۃ ہی کو مراد لیا ہے اور چونکہ سید مودودی کی تفسیر اس کے خلاف تھی اس لیے ہم نے اس پر تنبیہ کرنا ضروری خیال کیا۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 24