وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَؕ سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 34
sulemansubhani نے Wednesday، 24 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَؕ ۞
ترجمہ:
اور جو لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں
تفسیر:
المعارج :34 میں فرمایا : اور جو لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
نماز کی حفاظت سے متعلق امور
نمازوں کی حفاظت میں کچھ وہ امور ہیں جو نماز پر مقدم ہیں، مثلاً یہ کہ انسان کی توجہ نماز کے وقت کی طرف مبذول رہے اور جیسے ہی نماز کی وقت شروع ہو وہ نماز کی تیاری میں مصروف ہوجائے، وضو کرے اور پاک اوصاف لباس پہنے، جماعت سے نماز پڑھنے کے لیے مسجد کی طرف روانہ ہوا، اور نماز شروع کرنے سے پہلے اپنے دل کو دنیاوی وسوسوں سے فارغ کرلے اور غیر اللہ کی طرف توجہ سے خالی الذہن ہوجائے، اور دکھاوے اور سنانے سے حتی الامکان احتراز کرے، اور کچھ وہ امور ہیں جو نماز میں داخل ہیں، مثلاً یہ کہ قرأت کے دوران اس کا ذہن متوجہ ہو، اور جب تسبیحات پڑھے تو ان کے معنی میں غور کرتا رہے اور نماز میں دائیں بائیں توجہ نہ کرے، حدیث میں ہے :
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نماز میں اپنی نظر کہاں رکھوں ؟ آپ نے فرمایا : اے انس ! اپنے سجدہ کی جگہ، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ تو بہت سخت کم ہے، آپ نے فرمایا : پھر فرض نمازوں میں اس طرح کرو۔ ( السنن الکبریٰ ، للبیہقی ج ٢ ص ٢٨٤، نشر السنہ، ملتان)
اور کچھ وہ امور ہیں جو نماز سے مؤخر ہیں اور وہ یہ ہیں کہ نماز پڑھنے کے بعد فضول کاموں اور لہو و لعب میں مشغول نہ ہو اور نماز پڑھنے کے بعد حتی الامکان گناہوں سے بچا رہے۔
اس کی مزید تفصیل المؤمنون : ٩ میں ملاحظہ فرمائیں۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 34