کتاب العلم باب 1
نحمده و نصلی ونسلم على رسوله الكريم
۳-کتاب العلم
علم کا بیان
امام بخاری نے کتاب العلم‘‘ کو’’ کتاب الوضوء‘‘ اور ’’ کتاب الصلوۃ‘‘ وغیرہا پر مقدم کیا ہے، کیونکہ ان سب کا جاننا علم پر موقوف ہے اور کتاب العلم‘‘ کو’’ کتاب الایمان‘‘ سے موخر رکھا ہے کیونکہ ایمان ان ہی چیزوں پر ہوتا ہے جو وحی سے معلوم ہوئیں۔
علم، جہل کی ضد ہے علم کا معنی ہے: جاننا، یعنی ذہن میں کسی چیز کا منکشف ہوجانا، متکلمین کے نزدیک علم کی تعریف یہ ہے: یہ صفت جس شخص کے ساتھ قائم ہو، اس کے نزدیک ذکر کردہ چیز منکشف ہو جاۓ، فلاسفہ حالت ادرا کیہ کوعلم کہتے ہیں، علم ادراک الکلیات کے ساتھ خاص ہے اور معرفت ادراک الجزئیات کے ساتھ خاص ہے، عقل سے جو چیز معلوم ہو، اس کو علم کہتے ہیں اور حواس سے جو چیز معلوم ہو اس کو شعور کہتے ہیں، حصول علم کے تین ذرائع ہیں : خبر صادق، حواس سلیمہ اور عقل ۔
1- باب فضل العلم
علم کی فضیلت
وقول الله تعالى (يرفع الله الذين امنوا منكم والذين أوتوا العلم درجات والله بما تعملون خبير » (المجادلة :۱۱)، وقوله عزوجل رب زدنی علماء (طہ:114)
اور اللہ تعالی کا یہ ارشاد: ’’ تم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے، اللہ ان کو درجات کی بلندی عطا فرماۓ گا اور تم جو کچھ عمل کر تے ہو اللہ اس کی خوب خبر رکھنے والا ہے ‘(المجادلة :11 ) اور اللہ عزوجل کا یہ ارشاد : اے میرے رب! میرے علم کو زیادہ فرما0 ‘‘ ( طہ: 114 ) ۔
امام بخاری نے علم کی فضیلت پر استدلال کرنے میں صرف ان دو آیتوں سے استدلال کیا ہے اور علم کی فضیلت میں احادیث کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ علم کی فضیلت میں بہت سی احادیث مروی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ جو چیز قرآن مجید سے ثابت ہو، وہ قوی ترین دلیل ہے ۔