ولادتِ مولائے کائنات اور تیرہ رجب کا جشن!

حضرت مولا علی پاک کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت ایمان اور بغض نفاق ہے. آپ قاسم ولایت اور مولا المومنین ہیں. کوئی سنی ایسا نہیں ہے جسے مولائے کائنات مولا علی پاک کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت اور آپ سے ذات خوشی نہ ہوتی ہو.

پھر یہ تیرہ رجب کے جشن پر اتنی کشمکش کیوں؟
کہیں کوئی معترض ہے اور کہیں کوئی گج وج کر منانے اور نا منانے والوں کو بغض علی میں مبتلا سمجھ رہا ہے.

حضرت مولا علی پاک کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت اور وفات تو ہزار سال قبل ہو چکی تاریخیں بھی جو لکھی گئی وہ بھی صدیاں پرانی ہیں

پھر یہ جھگڑا کس بات کا؟

اصل میں ہم سنیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے بہت سے معاملات غیروں سے مستعار لیے ہیں.

کثیر معاملات کو عرصہ گزر چکا اس لیے اب تشبہ رہا نہیں لیکن یہ جشن ایسا جشن ہے جس کو خود رواف. ض نے چند سال قبل اس طرح شروع کیا کہ ابھی ان کی بتیاں بجھی بھی نہ تھیں کہ پنڈی کے راستے سنیوں میں سرایت کرتا گیا.

اب جو معترض ہیں وہ بھی حق بجانب ہیں کہ

اگر یہ جشن اتنا ہی ضروری اور اہم تھا تو پہلے کیوں نہیں منایا گیا آخر محبت اہل بیت منانے کے یہ طور طریقے ہمیں پہلے کیوں نہیں یاد آتے؟

جو اس کو درست کہہ رہا ہے الاصل فی الاشیاء اباحۃ کے تحت وہ بھی غلط نہیں.
کہ ہمارے جملہ اعراس، تیجہ چالیسواں وغیرہ بے شمار کار خیر اسی کے گرد گھومتے ہیں

لیکن اس کے تحت ہر معاملے میں غیروں کے نقش قدم پر چلنا بھی مناسب نہیں.

تو پھر اس عُقدے کا حل کیا ہے؟

یہ بات بالکل درست ہے کہ رواف. ض نے ہر مہینے میں نئے نئے جشن متعارف کرانا شروع کر دئیے ہیں جس کے پیچھے سنی بھی چلتے جارہے ہیں.
اسلام اپنی حقیقی روح کی بجائے محض ان دنون میں ہی منحصر سمجھا جا رہا ہے.

اباحت اور ذکر خیر کے تحت اگر ان ایام کو اپنے طریقے سے منانے کی اجازت دینی ہے تو بغیر کسی اختلاف کے علمائے اہلسنت کو اس پر ایک اعلامیہ جاری کر کے اجازت دے دینی چاہیے تاکہ کشمکش نہ رہے.
اور انتشار ختم ہو.

یا پھر

مل بیٹھ کر یہ اعلامیہ جاری کیا جانا چاہیے کہ معاملات اہلسنت کے مطابق ولادت صرف آقا کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی منائی جائے گی باقی سب سے اعراس منعقد کیے جائیں گے.
چاہے وہ حیات ہوں یا صاحب مزار.

اسی طرح بھی یہ انتشار ختم ہو سکتا ہے.

یاد رہے علماء کرام سے مراد امام اہلسنت کے پیروکار ہیں ایرانی مال پر پلنے والوں کی طرف التفات کی ضرورت نہیں.

خیر اندیش

فرحان رفیق قادری عفی عنہ

25/1/2024