وَاِنِّىۡ كُلَّمَا دَعَوۡتُهُمۡ لِتَغۡفِرَ لَهُمۡ جَعَلُوۡۤا اَصَابِعَهُمۡ فِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَاسۡتَغۡشَوۡا ثِيَابَهُمۡ وَاَصَرُّوۡا وَاسۡتَكۡبَرُوا اسۡتِكۡبَارًا ۚ – سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 7
sulemansubhani نے Thursday، 25 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاِنِّىۡ كُلَّمَا دَعَوۡتُهُمۡ لِتَغۡفِرَ لَهُمۡ جَعَلُوۡۤا اَصَابِعَهُمۡ فِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَاسۡتَغۡشَوۡا ثِيَابَهُمۡ وَاَصَرُّوۡا وَاسۡتَكۡبَرُوا اسۡتِكۡبَارًا ۚ ۞
ترجمہ:
اور بیشک میں نے جب بھی ان کو بلایا تاکہ تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے اوپر اپنے کپڑے لپیٹ لیے اور ضد کی اور بہت زیادہ تکبر کیا.
نوح : ٧ میں فرمایا : ( نوح نے کہا :) اور بیشک میں نے جب بھی ان کو بلایا تاکہ تو ان کو معاف فرمائے، تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے اوپر کپڑے لپیٹ لیے اور ضد کی اور بہت زیادہ تکبر کیا۔
حضرت نوح (علیہ السلام) جب بھی انہیں ایمان اور اعمال صالحہ کی طرف بلاتے تاکہ ان کی مغفرت ہوجائے تو وہ اعراض کرتے اور آپ کا وعظ نہ سننے کی کوشش کرتے، اس لیے وہ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے اور اپنے اوپر کپڑے لپیٹ لیتے تاکہ حق اور صداقت کی کوئی آواز ان کے کانوں تک پہنچنے نہ پائے، وہ اپنے کفر اور شرک پر اصرار کرتے اور اس پر جمے رہتے اور حضرت نوں (علیہ السلام) کے وعظ سننے اور اس کے قبول کرنے کو اپنی بڑائی اور انانیت کے خلاف سمجھتے۔
القرآن – سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 7