اَلَمۡ تَرَوۡا كَيۡفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا – سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 15
sulemansubhani نے Friday، 26 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلَمۡ تَرَوۡا كَيۡفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ۞
ترجمہ:
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان اوپر تلے پیدا کیے ہیں.
نوح : ١٦۔ ١٥ میں فرمایا : کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح سات آسمان اوپر تلے پیدا کیے ہیں۔ اور ان میں چاند کو روشن فرمایا، اور سورج کو چراغ بنایا۔
اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور توحید پر دلائل اور آسمانوں کے انطباق اور چاند کے آسمانوں میں ہونے کی توجیہ
اللہ تعالیٰ نے اپنی تخلیق اور توحید پر جو دلائل قائم کیے ہیں، وہ دو قسم کے ہیں : ایک وہ دلائل ہیں جو انسان کے اپنے اندر ہیں اور دوسرے وہ دلائل ہیں جو اس خارجی کائنات میں ہیں، انسان کے اپنے اندر جو دلائل ہیں، ان کی تقریر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بتدریج پیدا کیا ہے، اب سوال یہ ہے کہ انسان ممکن اور حادث ہے، کیونکہ انسان عدم سے وجود میں آیا ہے تو ضروری ہوا کہ اس کو عدم سے وجود میں لانے کی کوئی علت ہو اور اگر وہ علت بھی ممکن ہے اور حادث ہوئی تو اس کے لیے پھر کسی علت کی ضرورت ہوگی اور یوں غیر متناہی علتیں لازم آئیں گی اور یہ محال ہے، اس لیے ضروری ہوا کہ انسان کی پیدائش کی علت حادث اور ممکن نہ ہو بلکہ واجب اور قدیم ہو، اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ علت واحد ہو کیونکہ تعدد و جباء اور تعدد قد ماء محال ہے، نیز تمام انسانوں کی بتدریج پیدائش کا طریقہ واحد ہے اور یہ اس کی دلیل ہے کہ ان کا موجد بھی واحد ہو کیونکہ اگر موجد متعدد ہوتے تو ان کے طریقہ ہائے تولید بھی متعدد ہوتے۔
اس خارجی کائنات میں آسمان، چاند اور سورج ہیں اور اسی طریقہ سے ان کی تخلیق کی علت بھی واجب، قدیم اور واحد ہوگی، اللہ تعالیٰ نے اپنی تخلیق اور توحید پر پہلے اس دلیل کا ذکر کیا جو انسان کے اندر ہے، پھر اس دلیل کا ذکر فرمایا جو انسان کے باہر ہے کیونکہ انسان اپنے اندر کی نشانیوں کو باہر کی نشانیوں کی بہ نسبت زیادہ پہچانتا ہے۔
اس آیت میں فرمایا ہے کہ آسمان اوپر تلے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر منطبق ہیں، حالانکہ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ دو آسمانوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٩٨، مسند احمد ج ٢ ص ٣٧٠)
اس کا جواب یہ ہے کہ آسمان ایک دوسرے پر منطبق ہیں، اس سے یہ لازم نہیں آیا کہ وہ ایک دوسرے سے مم اس ہوں اور پیاز کے چھلکوں کی طرح ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں، دو آسمان ایک دوسرے سے منفصل ہونے کے باوجود اوپر تلے اور ایک دوسرے پر منطبق ہوسکتے ہیں۔
دوسراسوال یہ ہے کہ نوح : ١٦ میں فرمایا ہے : ان ( آسمانوں) میں چاند کو روشن فرمایا حالانکہ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق چاند آسمان دنیا سے بہت نیچے اور زمین سے پونے دو لاکھ میل کی مسافت پر ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ آسمان دنیا زمین کو محیط ہے اور تمام زمینیں اور فضاء اور خلاء سب آسمانوں کے احاطہ میں ہیں، اس لیے جب چاند خلاء میں ہے تب بھی وہ آسمانوں کے احاطہ میں ہے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ چاند کسی آسمان میں مرکوز ہو یا نصب ہو، جیسے ہم کہتے ہیں : پاکستان کا صدر مملکت سر زمین پاکستان میں ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ زمین کے کسی حصہ میں مرکوز ہو، اگر وہ ہوائی جہاز میں اسلام آباد سے کراچی پرواز کررہا ہو تب بھی یہ کہا جائے گا کہ وہ پاکستان میں ہے، اسی طرح جب چاند اور سورج اپنے اپنے مدار میں خلاء کے اندر گردش کر رہے ہوں گے، تب بھی آسمانوں کے احاطہ میں ہوں گے، اس لیے یہ کہنا صحیح ہے کہ چاند اور سورج آسمانوں میں ہیں۔
القرآن – سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 15