أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَدۡ خَلَقَكُمۡ اَطۡوَارًا ۞

ترجمہ:

حالانکہ اس نے تم کو بہ تدریج پیدا کیا ہے۔

نوح : ١٤ میں فرمایا : حالانکہ اس نے تم کو بہ تدریج پیدا کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا مخلوق کو بتدریج پیدا فرمانا

اس آیت کی تقریر اس طرح ہے کہ تم اللہ پر ایمان کیوں نہیں لاتے حالانکہ اس نے تم کو اولاً مٹی سے بنایا، پھر مٹی کو سبزہ اور غلہ بنایا، پھر اس سے غذا بنائی، پھر غذا سے خون بنایا، پھر خون سے نطفہ بنایا، پھر اس نطفہ کو جما ہوا خون بنایا، پھر اس خون کو گوشت کا ٹکڑا بنایا، پھر اس کو ہڈیوں اور گوشت کی صورت دی، پھر اس میں روح پھونکی، پھر تم کو جنین بنایا، پھر ولید بنایا، پھر رضیع ( دودھ پیتا) بنایا، پھر صبی (بچہ) بنایا، پھر غلام ( نوخیز لڑکا) بنایا، پھر مراھق (قریب بہ بلوغ) بنایا، پھر بالغ بنایا، پھر شاب ( جوان) بنایا، پھر رجل ( قوی مرد) بنایا، پھر کحول ( چالیس سال کی عمر کا ( بنایا، پھر شیخ بنایا، ساٹھ سال کے بعد شیخ فانی بنایا، پھر میت بنایا اور قبر میں پہنچایا تو دفین بنانا اور جب قبر میں ہڈیاں بوسیدہ ہوگئیں تو رمیم بنایا اور جب ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو کر خاک میں مل کر خاک ہوگئیں تو پھر تم کو مٹی بنادیا۔

اس آیت کی دوسری تقریر اس طرح ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم ان کی تعظیم اور توقیر نہیں کرتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حضرت نوح اللہ کے نبی ہیں، ان کی توقیر اللہ کی توقیر ہے، تم اللہ کی وجہ سے ان کی تعظیم اور توقیر کیوں نہیں کرتے، تم ان پر ایمان لائو اور ان کے پیغام کو قبول کرو اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو مانو، اس نے تم کو بتدریج پیدا کیا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 14