ابرھہ اور اَبُورِغال ۔ پرانی کہانی نئے کردار
ابرھہ اور اَبُورِغال ۔ پرانی کہانی نئے کردار
ابرھہ، ایک غلام، حبشہ کی فوج میں شامل ہوا، آہستہ آہستہ اپنی چالاکی سے ایک مقام حاصل کر لیا، 525ء میں روم اور حبشہ کی عیسائی ریاستوں نے فیصلہ کیا کہ یمن پر چڑھائی کی جائے اور یمن کی یہودی حکومت سے عیسائیوں کے قتل کا بدلہ لیا جائے، اس مہم کے لئے ستر ہزار آرمی روانہ ہوئے اور “ اریاط اور ابرھہ “ دو کمانڈرز مقرر کیے گئے، یمن فتح کرنے اور یہودیوں کے قتل عام کے بعد چالاک ابرھہ نے اریاط کو بھی قتل کر دیا اور حبشہ کے بادشاہ کی اشیرباد سے یمن کا گورنر بن گیا۔
مکہ اس زمانے میں مشرق اور مغرب کے درمیان ہونے والی تجارت کا مرکز تھا اور انٹرنیشنل ٹریڈ وے کا مرکزی پوائنٹ تھا، حج و عمرہ کے سیزن بھی اس تجارت میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے۔
ابرھہ سے مکہ کی یہ پوزیشن برداشت نہیں ہو رہی تھی لہٰذا اس نے سب سے پہلے تو یمن میں ایک بہت بڑا کلیسا تعمیر کروایا اور دنیا کا تجارتی اور مذہبی مرکز یمن کو بنانے کا پروگرام بنایا اور کہا میں نے یہاں ایک کعبہ بنا دیا ہے لوگ حج کرنے یہاں آیا کریں۔
اپنے کعبہ کی حیثیت منوانے کے لئے اصلی کعبہ کو ختم کرنے اور مکہ پر قبضہ کرنے پروگرام بنایا، اب اسے کوئی بہانہ / ایکس کیوز ( excuse ) نہیں مل رہا تھا جس کی بنیاد پر وہ کعبہ پر حملہ کر سکے، اس نے ایک پلان تیار کیا اور خفیہ طور اپنے کعبہ میں آگ لگوا دی، بعض تاریخی روایات کے مطابق اس کے اندر کچھ نوجوانوں سے کہہ کر پیشاب پاخانہ کروا دیا اور قریش پر الزام لگا دیا کہ انہوں نے بغض اور دشمنی میں میرے کعبہ کی توہین کی ہے لہٰذا میں ان سے بدلہ لوں گا اور ان کے کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا، اس مہم کے لئے 60 ہزار کا لشکر تیار کیا جس میں فرنٹ لائن پر 13 ہاتھی بھی شامل تھے۔
#۔ آج کے ابرھے بھی اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے لئے اور معاشی اور سیاسی مقاصد ( economical and political extension ) کے لئے، قبضے گروپ کے طور پر ہر روز نئے نئے ناموں، نئے الزامات کے ساتھ مختلف ملکوں پر چڑھ دوڑتے ہیں جس کی مثالیں یہاں گنوانے کی ضرورت نہیں آپ خود بہت سمجھدار ہیں۔۔۔
ابرھہ نے کعبہ کو ڈھانے کے لئے لشکرکشی کر دی،
اس کے لئے یہ علاقہ جانا پہچانا نہیں تھا اور ویسے بھی مکہ کے چاروں طرف اونچے پہاڑوں سے ساٹھ ہزار آرمی گزارنا آسان نہیں تھا اسے گائیڈ ( facilitator ) کی ضرورت تھی جب وہ طائف کے قریب پہنچا تو بنو ثقیف نے اپنے علاقے اور اپنے خداؤں کو بچانے کے لئے اس سے خفیہ ڈیل کی کہ آپ ہمیں کچھ نہ کہیں تو ہم آپ کو مکہ تک پہنچنے کے لئے مدد دیں گے آپ اپنے مقاصد آسانی سے حاصل کر سکیں گے لہٰذا ڈیل ہو گئی اور “ ابو رغال “ نامی شخص کو گائیڈ کے طور پر اس کے ساتھ کر دیا، مکہ کے قریب پہنچ کر ابورغال مر گیا، سال ہا سال تک عرب لوگ ابو رغال کی غداری اور کعبہ سے بے وفائی کے جرم میں اس کی قبر پر جمع ہو کر اس پر لعنتیں کرتے اور قبر پر جوتے اور پتھر مارتے تھے۔
#۔ آج بھی بہت سے نام نہاد مسلمان سیاسی لیڈرز اپنے اپنے مفادات کے لئے آج کے ابرھوں سے سودے بازیاں کر رہے ہیں اور انہیں مدد فراہم کر رہے ہیں اور انہیں facilitate کر رہے ہیں، تاریخ کی لعنتیں اور جوتے ان کا مقدر ہیں۔ ۔۔
نام لینے کی ضرورت نہیں آپ بہت سمجھدار ہیں۔
ابرھہ کا لشکر مکہ پہنچا تو مکہ کے لیڈر نبی کریم کے دادا عبد المطلب اور قریش چونکہ میدان میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے لہٰذا انہوں نے پہاڑوں میں پناہ لے لی ، وہ لشکر پر جگہ جگہ پتھر برساتے اور بھاگ جاتے، روتے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے کہ آپ اپنے گھر کی حفاظت فرمائیں۔
#۔ قریش اور مکہ والوں کی اتنی ہی استطاعت تھی کہ وہ پتھر مار سکتے تھے، دوسرے لفظوں میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ “ پتھر vs میزائل “ دنیا کی طاقت ور اور مسلح آرمی کے مقابلے میں بے بس نہتے ہاتھوں میں پتھر اور زبان پر دعائیں۔
#۔ آج کے ابرھہ کا اگر یہ امت میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتی تو کم از کم اپنے ایمان کو خالص کر کے دعائیں تو مانگ سکتی ہے ۔ نام لینے کی ضرورت نہیں آپ بہت سمجھدار ہیں۔۔۔۔
کعبے کے سامنے پہنچ کر ابرھہ کے ہاتھی بیٹھ گئے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا انہیں مارا پیٹا جاتا دوسری طرف منہ کرتے تو دوڑنے لگتے لیکن کعبہ کی طرف منہ کرتے تو بیٹھ جاتے،
اب اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی حفاظت کے لئے بے شمار چھوٹے چھوٹے پرندے بھیجے جن کے منہ اور پنجوں میں چھوٹے چھوٹے پتھر تھے وہ لشکر پر پتھر برساتے جس کو بھی پتھر لگتا اس کا گوشت جسم سے جھڑنے لگ جاتا خون بہتا اور ہڈیاں نکل آتیں، چند گھنٹوں کے اندر منیٰ اور مزدلفہ کے درمیان وادئ محسّر میں پورے کے پورے لشکر کو اللہ تعالیٰ نے تباہ کر دیا اور انہیں جانوروں کے گوبر کی طرح بنا دیا اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی حفاظت فرمائی۔
یہ واقعہ 571ء کا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے سے پچاس دن پہلے ۔
#۔ آج کے ابرھہ کے ظلم کا خاتمہ ہو گا اور اس کا مقدر بھی تباہی ہے جس کے لئے اپنے وقت پر اللہ کریم کی سکیم حرکت میں آئے گی ۔
سورہ فیل ۔ اے نبی آپ نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟ کیا اس نے ان کی تدبیروں کو اکارت نہیں کر دیا؟ اور ان پر پرندوں جُھنڈ کے جُھنڈ بھیج دیے جو ان پر پتھر پھینک رہے تھے پھر ان کا یہ حال کر دیا جیسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسا۔
محمد اقبال یوکے