قُلۡ اُوۡحِىَ اِلَىَّ اَنَّهُ اسۡتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الۡجِنِّ فَقَالُوۡۤا اِنَّا سَمِعۡنَا قُرۡاٰنًاعَجَبًا سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 1
sulemansubhani نے Saturday، 27 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قُلۡ اُوۡحِىَ اِلَىَّ اَنَّهُ اسۡتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الۡجِنِّ فَقَالُوۡۤا اِنَّا سَمِعۡنَا قُرۡاٰنًاعَجَبًا ۞
ترجمہ:
آپ کہیے کہ میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے ( قرآن) سنا اور کہا : ہم نے بہت عجیب قرآن سنا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ میری طرف سے یہ وحی کی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے ( قرآن) سنا اور کہا : ہم نے بہت عجیب قرآن سنا ہے۔ جو سیدھی راہ کی طرف دیتا ہے، پس ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ اور بیشک ہمارے رب کی بزرگی بہت بلند ہے، اس نے نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ بیٹا۔ ( الجن : ٣۔ ١)
الجن کا لغوی اور اصطلاحی معنی
علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :
جن کا اصل معنی ہے : کسی چیز کا حواس سے مخفی ہونا، قرآن مجید میں ہے :
فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ الَّیْلُ رَاٰ کَوْکَبًا (الانعام : ٧٦) جب رات نے اس کو چھپالیا تو اس نے ستارہ دیکھا۔
” الجنان “ قلب کو کہتے ہیں کیونکہ وہ حواس سے مخفی ہوتا ہے ” المجن “ اور ” المجنۃـ“ کا معنی ڈھال ہے جو اپنے صاحب کو دشمن کے وار سے محفوظ رکھتی ہے اور چھپاتی ہے، قرآن مجید میں ہے :
اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً (المجادلۃ : ١٦) انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا۔
اور حدیث میں ہے :” الصوم جنۃ “ روزہ ڈھال ہے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٤٩٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١١٥١ )
جنت ہر اس باغ کو کہا جاتا ہے جس میں بہت گھنے درخت ہوں جو زمین کو چھپا لیں۔
اور آخرت کی جنت کو جنت اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ زمین کے باغ سے مشابہ ہے یا اس وجہ سے کہ اس کی نعمتیں انسانوں کی آنکھیوں اور باقی حواس سے مخفی ہیں، قرآن مجید میں ہے :
فَـلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ( السجدہ : ١٧) سو کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپائی گئی ہے۔
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ” جنت “ کا لفظ فرمایا ہے، جو جمع کا صیغہ ہے کیونکہ ” جنت “ سات ہیں : جنت الفردوس، جنت عدن، جنت النعیم، جنت الماویٰ ، دارالسلام، دارالخلد اور علیین۔
اور جب تک پیٹ میں بچہ رہے اس کو الجنین کہتے ہیں کیونکہ پیٹ کا بچہ بھی لوگوں کے حواس سے مخفی ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :
وَاِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّۃٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِکُمْ (النجم : ٣٢) جب تم اپنی مائوں کے پیٹوں میں بچے تھے۔
اور الجن اس روحانی مخلوق کو کہتے ہیں جو تمام حواس سے مخفی ہوتی ہے، اس کے مقابلہ میں انس ہے، اس بناء پر الجن میں فرشتے اور شیاطین بھی داخل ہیں، پس ہر فرشتہ جن ہے کیونکہ وہ مستور ہے لیکن ہر جن فرشتہ نہیں ہے، اسی بناء پر ابو صالح نے کہا : تمام فرشتے جن ہیں، ایک قول یہ ہے کہ روحانی مخلوق کی تین قسمیں ہیں، جو اخبار اور نیک ہیں اور وہ فرشتے ہیں اور جو اشرار اور بدکار ہیں وہ شیاطین ہیں، اور جو متوسط ہیں جن میں اخیار بھی ہیں اور اشرار بھی ہیں وہ جنات ہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے : جنات نے کہا :
وَاَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقٰسِطُوْنَ (الجن : ١٤) اور ہم میں سے چند اطاعت گزار ہیں اور کچھ سرکش ہیں۔
جنات کی ایک قسم کے متعلق فرمایا :
وَالْجَآنَّ خَلَقْنٰـہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ ۔ (الحجر : ٢٧) اور ہم نے اس سے پہلے جنات کو دھوئیں والی آگ سے پیدا کیا۔
(المفردات ج ١ ص ١٢٨، مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)
علامہ جمال الدین محمد بن مکرم افریقی مصرفی متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں :
الجن، جان کی ایک قسم ہے، اس کو جن اس لیے کہتے ہیں کہ یہ آنکھوں سے مخفی ہوتا ہے اور اس لیے کہ وہ لوگوں کو دکھائی نہیں دیتے۔ ” الجسآن “ جن کا باپ ہے، اس کو آگ سے پیدا کیا گیا پھر اسی سے اس کی نسل چلی، روایت ہے کہ ایک مخلوق زمین میں رہتی تھی، اس نے زمین میں فساد کیا اور خون ریزی کی، پھر اللہ تعالیٰ نے زمین میں فرشتوں کو بھیجا جنہوں نے زمین کو صاف کیا۔
(لسان العرب ج ٣ ص ٢١٩۔ ٢١٨، ملتقطا، دار صادر، بیروت، ٢٠٠٢ ء)
علامہ سید محمد بن محمد زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :
جن و انس کے بر خلاف ہے، اس کا واحد جنی ہے، الصحاح میں مذکور ہے : اس کو جن اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہ دکھائی نہیں دیتا، زمانہ جاہلیت میں فرشتوں کو جنات کہا جاتا تھا کیونکہ فرشتے آنکھوں سے مخفی ہوتے ہیں، ابلیس کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ ملائکہ میں سے جن تھا، زمحشری نے کہا ہے کہ جناب اور ملائکہ ایک نوح ہیں لیکن ان میں سے جو خبیث اور سرکش ہو وہ شیطان ہے اور جو پاکیزہ ہو وہ فرشتہ ہے، ہمارے شیخ نے کہا ہے کہ مصنف ( صاحب قاموس) کا جن کی تفسیر ملائکہ سے کرنا مردود ہے، کیونکہ ملائکہ نور سے پیدا کیے گئے ہیں نہ کہ نار سے، جب کہ جن نار سے پیدا کیا گیا ہے اور ملائکہ معصوم ہوتے ہیں اور ان میں تناسل نہیں ہوتا، اور نہ وہ مذکر اور مؤنث بھی ہوتا ہے، اسی وجہ سے جمہور علماء نے ” الا ابلیس “ ( البقرہ : ٣٤) کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ یہ استثناء منقطعغ ہے اور استنثاء متصل اس صورت میں ہے چونکہ یہ فرشتوں کے ساتھ مل جل کر رہتا تھا اس لیے تغلیبا ً اس کو بھی فرشتوں منقطع ہے اور با استثناء متصل اس صورت میں ہے چونکہ یہ فرشتوں کے ساتھ مل جل کر رہتا تھا اس لیے تغلیبا ً اس کو بھی فرشتوں کے ساتھ شامل کر کے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ ( تاج العروس شرح القاموس ج ٩ ص ١٦٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت)
جنات کے متعلق فلاسفہ اور مفکرین کی آراء
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
جناب کے ثبوت میں علماء کا شروع سے اختلاف رہا ہے، اکثر فلاسفہ سے یہ منقول ہے کہ وہ جناب کے ثبوت کا انکار کرتے ہیں کیونکہ ابوعلی بن سینانے اپنے رسالہ ” حدود الاشیاء “ میں لکھا ہے : الجن حیوان ھوائی ہے، جو مختلف اشکال میں مشکل ہوجاتا ہے اور اس اسم کی شرح ہے، اس کا یہ کہنا کہ یہ اسم کی شرح ہے اس پر دلالت کرتا ہے کہ واقع میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، لیکن جمہور ارباب ملل اور انبیاء (علیہم السلام) کے مصدقین جنات کے ثبوت کو مانتے ہیں اور قد ماء فلاسفہ بھی جنات کے ثبوت کو مانتے ہیں اور جنات کو ارواح سفلیہ کہتے ہیں، ان کا قول ہے کہ جناب کی ماہیات مختلف ہوتی ہیں، بعض شریر ہوتے ہیں اور بعض شریف ہوتے ہیں جو نیکیوں سے محبت کرتے ہیں، اور بعض خبیث ہوتے ہیں وہ برائیوں اور آفتوں سے محبت رکھتے ہیں، اور ان کی انواع کا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی علم کو نہیں، یہ موجودات مجردہ ہیں (غیر مادی ہیں) اور خبروں کے عالم ہوتے ہیں اور افعال شاقہ پر قادر ہوتے ہیں، ان کا سننا اور دیکھنا ممکن ہے۔ جنات کے متعلق دوسرا قول یہ ہے کہ وہ اجسام ہیں : قرآن مجید میں جناب اور ملائکہ کا ثبوت ہے، اور اس کا ثبوت ہے کہ ملائکہ کو افعال شاقہ پر عظیم قوت حاصل ہوتی ہے اور جنات بھی اسی طرح ہیں، پھر یہ ملائکہ ہمارے پاس ہمیشہ حاضر ہوتے ہیں اور وہ کراماً کاتبین ہیں اور وہ محافظ فرشتے ہیں اور یہ فرشتے قبض روح کے وقت بھی حاضر ہوتے ہیں اور یہ فرشتے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھی حاضر ہوتے تھے اور مسلمانوں اور حاضرین مجلس میں سے کوئی بھی ان کو نہیں دیکھتا تھا اور قبض روح کے وقت بھی ان کا کوئی نہیں دیکھتا تھا، بہر حال یہ بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ہر فرد میں علوم کثیرہ پیدا کرے اور اس کو مشکل اور شدید دشوار افعال پر قدرت عطاء کر دے اور اس تقدیر پر جنات کا وجود ممکن ہے، خواہ ان کے اجسام لطیف ہوں یا کثیف ہوں اور ان کے اجرام کبیر ہوں یا صغیر ہوں، اور وہ ہم کو دکھائی نہ دیتے ہوں۔ (تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٦٤۔ ٦٦١ ملخصا، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
سر سید احمد خان لکھتے ہیں :
قرآن میں جن کا جو لفظ آیا ہے، اس سے بدوی اور دیگر غیر متمدن اور غیر تربیت یافتہ لوگ مراد ہیں۔ قرآن مجید میں چودہ جگہ ” الجن و الانس “ کا لفظ آیا ہے اور ہر موقع پر ان غیر متمدن لوگوں کو کسی نئی صفت اور خاصیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
(تفسیر القرآن ج ٣ ص ٨٩۔ ٧٩ ملخصا، علی گڑھ، ١٨٨٥ ء، بہ حوالہ دائرہ معارف اسلامیہ ج ٧ ص ٤٦٦، دانش گاہ پنجاب، لاہور)
غلام احمد پرویز لکھتے ہیں :
قرآن کریم میں ” جن “ اور ” انس “ کے الفاظ متعدد مقامات پر اکٹھے آئے ہیں۔ انس کے عنوان میں بتا چکے ہیں کہ عربوں میں ” الانس “ ان قبیلوں کو کہتے تھے جو ایک مقام پر مستقل طور پر سکونت پذیر ہوجائیں گے، لیکن جن وہ قائل تھے جو جنگلوں اور صحرائوں میں جگہ بہ جگہ پھرتے رہتے تھ اور اس طرح شہر والوں کی نگاہوں سے اوجھل رہتے تھے۔ انہیں خانہ بدوش قبائل ( Nomadic Tribes) کہا جاتا ہے۔ اب بھی دنیا میں جہاں جہاں اس قسم کے قائل پائے جاتے ہیں وہ شہر والوں سے دور دور، جنگلوں اور بیابانوں میں رہتے ہیں۔ آج کل وسائل، رسائل و رسائل کے عام ہوجانے سے، ان قبائل اور شہر والوں کی زندگی میں بہت سے امور مشترک ہوچکے ہیں، اس لیے ان میں کوئی بنیادی بعد محسوس نہیں ہوتا، لیکن جس زمانے میں ملنے جلنے کے وسائل اور نشر و اشاعت کے طریق عام نہیں تھے، شہر والوں اور ان خانہ بدوش صحرا نشینوں کے تمدن و معاشرت، عادات واطوار، خصائص و خصائل اور ذہنی اور نفسیاتی کیفیات وغیرہ میں اس قدر فرق تھا کہ یہ دونوں ایک نوع کے افراد نظر نہیں آتے تھے۔ عربوں میں یہ صحرا نشین قبائل بہت زیادہ تھے ( انہیں بدیا اعراب کہا جاتا تھا) چونکہ قرآن کا پیغام شہریوں اور صحرا نشینوں سب کی طرف تھا، اس لیے اس نے جن و انس دونوں گروہوں کو مخاطب کیا ہے۔ ان مقامات پر غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ وہاں جن سے مراد انسان ہی ہیں، یعنی وہ وحشی قبائل (Gypsis) جو جنگلوں اور صحرائوں میں رہا کرتے تھے، مثلاً سورة انعام میں ہے :” یٰـمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ “ (الانعام : ١٣٠) اے گروہ جن و انس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول آئے تھے ؟ قرآن نے کسی رسول کا ذکر نہیں کیا جو جن تھا اور سورة اعراف میں اس کی تصریح کردی کہ رسول، بنی آدم میں سے، انہی کی طرف بھیجے گئے تھے۔ ( الاعراف : ٣٥) سورة جن اور سورة احقاف میں مذکور ہے کہ جنوں کی ایک جماعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قرآن سننے کے لیے آئی۔ اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ ’ ’ جنوں ‘ کی طرف رسول انسانوں میں سے ہی ہوتے تھے۔ انہی سورتوں ( سورة جن اور سورة احقاف) سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جو جن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قرآن سننے کے لیے آئے تھے وہ انسان ہی تھے۔
(لغات القرآن ص ٤٤٦، ادارہ طلوع اسلام، لاہور، ١٩٨٤ ء)
جنات کے متعلق مفسرین کی آراء
علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی البصری المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :
ایک قول یہ ہے کہ جنات تمام انسانوں کو پہچانتے ہیں، اسی لیے وہ تمام انسانوں کی طرف اپنے کلام کا وسوسہ ڈدالتے ہیں، جنات کی اصل میں اختلاف ہے، حسن بصری سے منقول ہے کہ جن ابلیس کی اولاد ہیں، جیسے انس حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور ان دونوں میں سے مومن بھی ہیں اور کافر بھی ہیں، اور یہ ثواب اور عقاب میں شریک ہیں، ان دونوں فریقوں میں سے جو مومن ہو وہ اللہ کا ولی ہے اور ان دونوں فریقوں میں سے جو کافر ہو وہ شیطان ہیں۔
ضحاک نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جن الجان کی اولاد ہیں اور شیاطین نہیں ہیں اور ان پر موت آتی ہے اور ان میں سے مومن بھی ہیں اور کافر بھی، اور شیاطین ابلیس کی اولاد ہیں، ان پر ابلیس کے ساتھ ہی موت آئے گی۔ اس میں اختلاف ہے کہ جنات میں سے مؤمنین جنت میں داخل ہوں گے یا نہیں، جیسا کہ ان کی اصل میں اختلاف ہے جن لوگوں کا یہ زعم ہے کہ جنات الجان کی اولاد ہیں، ابلیس کی ذریت نہیں ہیں، وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے ایمان کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے اور جو یہ کہتے ہیں کہ جنات ابلیس کی ذریت ہیں، ان کے دو قول ہیں : حسن بصری نے کہا : وہ جنت میں داخل ہوں گے، اور مجاہد نے کہا : وہ جنت میں داخل ہوں گے، اگرچہ ان کو دوزخ سے دور کردیا جائے گا۔
( النکت و العیون ج ٦ ص ١٠٩، دارالکتب العربیہ، بیروت)
علامہ بو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :
امام بیہقی کی روایت میں ہے کہ جناب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زاد ( خوراک) کا سوال کیا تو آپ نے فرمایا تمہارے لیے ہر ہڈی میں خوراک ہے، اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ جنات کھاتے ہیں، اطباء اور فلاسفہ کی ایک جمات نے جنات کے کھانے کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بسیط ہیں اور ان کا کھانا صحیح نہیں ہے اور ان کا یہ قول قرآن اور سنت سے مردود ہے اور مخلوقات میں بسیط اور مرکب نہیں ہیں، واحد محض صرف اللہ سبحانہ ہے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنات کو ان کی اصل صورتوں میں دیکھنا محال نہیں ہے، جیسا کہ آپ فرشتوں کو ان کی اصل صورتوں میں دیکھتے تھے اور ہمارے لیے جنات اکثر سانپوں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں، حدیث میں ہے :
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مدینہ میں جنات کی ایک جماعت اسلام لا چکی ہے، اگر تم نے ان سانپوں میں سے کسی کو گھروں میں رہتے ہوئے دیکھا تو اس کو تین دفعہ نکلنے کے لیے خبردار کرو، اگر اس کے بعد بھی وہ سانپ نظر آئے تو اس کو مار دو ، وہ شیطان ہے۔ ( صحیح مسلم، کتاب الالسلام، رقم الحدیث : ١٤١ )
حضرت ابو البابہ بن عبد المنذر البدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ( صحیح مسلم، کتاب السلام، رقم الحدیث : ١٣٢)
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان گھروں میں جنات سانپوں کی شکل میں رہتے ہیں، اگر تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اس کو تین دفعہ ڈرائو، اگر وہ نکل جائے تو فبہا ورنہ اس کو قتل کردو، وہ کافر ہے۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٢٥٧ )
جناب اجسام عاقلہ خفیہ ہیں، جن پر ناریت یا ھوایت غالب ہوتی ہے، ایک قول یہ ہے کہ یہ ارواح مجردہ کی ایک نوع ہیں، ایک قول یہ ہے کہ یہ ابدان سے جدا ہونے والے نفوس شریرہ ہیں۔
(تفسیر البیضاوی مع الخفا جی ٩ ص ٢٨٩، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٧ ھ)
سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :
جناب اجسام عاقلہ میں جن پر ناریت غالب ہے، اس کی دلیل یہ آیت ہے :
وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ۔ (الرحمن : ١٥) اور جن کو خالص آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔
ایک قول یہ ہے کہ یہ اجسام ھوائیہ ہیں اور تمام صورتوں کو قبول کرلیتے ہیں یا ان کی ایک قسم مختلف اشکال کو قبول کرلیتی ہے، یہ لوگوں کی نگاہوں سے مخفی رہتے ہیں، اور کبھی اپنی صورت ِ اصلیہ کی مغائر صورت میں دکھائی دیتے ہیں اور کبھی اپنی اس اصلی صورت میں دکھائی دیتے ہیں، جس صورت میں ان کو پیدا کیا گیا اور یہ مشاہدہ انبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیہم کے ساتھ مخصوص ہے، اور ان اولیاء کرام کے ساتھ مخصوص ہے، جن کو اللہ تعالیٰ ان کی اصلی صورت دکھانا چاہے، ان کو سخت مشکل اور دشوار کاموں کے کرنے کی قوت حاصل ہوتی ہے، اور اس میں کوئی عقلی مانع نہیں ہے کہ بعض اجسام لطیفہ کی نوع دیگر اجسام لطیفہ کی ماہیت سے مخالف ہو اور ان میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ حیات کو اور افعال عجیبہ پر قدرت کو قبول کرلیں، اور جدید سائنس نے بعض اجسام لطیفہ میں ایسے خواص کو ثابت کیا ہے جن سے عقل حیرات ہوتی ہے، تو ہوسکتا ہے جنات کے اجسام بھی اسی طرح ہوں، اور عالم طبعی میں اتنے عجائبات ہیں کہ عقل ان کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ ( روح المعانی جز ٢٩ ص ٤٢، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)
اس امر کی تحقیق کہ آیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنات کو دیکھا تھا یا نہیں ؟
بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنات کو نہیں دیکھا نہ ان کا کلام سنا تھا، آپ کی طرف صرف جنات کے کلام کی وحی نازل کی گئی تھی۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنات کے سامنے قرآن مجید پڑھا تھا نہ ان کو دیکھا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کے ساتھ عکاظ کے بازار کا قصد کر کے گئے، اس اثناء میں شیاطین ( جنات) اور آسمان کی خبروں کے درمیان کوئی چیز حائل ہوگئی تھی اور ان کے اوپر آگ کے گولے پھینکے جاتے تھے، پھر شیاطین واپس آجاتے تھے، وہ ایک دوسرے سے پوچھتے : اب کیا ہوگیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان کوئی چیز حائل ہوگئی ہے اور ہم پر آگ کے گولے پھینکے جاتے ہیں، انہوں نے کہا : تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان وہی چیز حائل ہوئی ہے جو تازہ ظہور میں آئی ہے، تم زمین کے مشارق اور مغارب میں سفر کرو اور دیکھو کہ کون سی چیزظہور میں آئی ہے، پھر وہ روانہ ہوئے اور زمین کے مشارق اور مغارب کا سفر کیا اور وہ اس پر غور کرتے تھے کہ ان کے اور آسمان کی خبروں کے درمیان کیا چیز حائل ہوئی ہے، پھر وہ جنات تہامہ میں پہنچے جہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک کھجور کے درخت کے پاس تھے، اس وقت آپ عکاظ کے بازار کا قصد کرنے والے تھے اور آپ اپنے اصحاب کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے، جب جنات نے قرآن مجید سنا تو انہوں نے کہا : غور سے سنو، یہی وہ چیز ہے جو تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہوئی ہے، پھر وہ وہیں سے اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور انہوں نے کہا : اے ہماری قوم !
اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا۔ یَّہْدِیْٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰ مَنَّا بِہٖط وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا۔ (الجن : ٢۔ ١)
ہم نے عجیب قرآن ( کلام) سنا ہے جو سیدھا راستہ دکھاتا ہے، ہم اس کے ساتھ ایمان لائے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کریں گے۔۔
اور اللہ عزوجل نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل فرمائی :
قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ (الجن : ١)
( اے رسول مکرم ! ) آپ کہیے کہ میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے قرآن مجید سنا۔
اور آپ کی طرف جناب کے قول کی وحی کی گئی تھی۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث ٧٧٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٤٩، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٢٣، مسنداحمد ج ١ ص ٢٥٢ طبع قدیم، مسند احمد ج ٤ ص ١٢٩ طبع جدید۔ رقم الحدیث : ٢٢٧١، مؤسستہ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٠ ھ، لسنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث ١١٦٢٥٠۔ ١١٦٢٤، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٢٣٦٩، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٥٢٦، المستدرک ج ٢ ص ٥٠٣، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٢ ص ٢٢٦۔ ٢٢٥ )
اور بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنات کو دیکھا تھا، ان میں سے ایک حدیث یہ ہے :
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود (رض) سے پوچھا : کیا آپ میں سے کوئی شخص اس رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا، جب آپ کی جنات سے ملاقات ہوئی تھی ؟ انہوں نے کہا : ہم میں سے کوئی آپ کے ساتھ نہیں تھا، لیکن ایک رات ہم نے آپ کو گم پایا اور ہم کو یہی خیال آتا تھا کہ کسی دشمن نے آپ کو دھوکا دے دیا، یا آپ کے ساتھ کوئی نا خوش گوار واقعہ پیش آیا، ہم نے انتہائی پریشانی میں وہ رات گزاری، جب صبح ہوئی تو ہم نے آپ کو غار حرا کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا، ہم نے کہا : یا رسول اللہ ! اور ہم نے آپ سے اپنی پریشانی بیان کی، آپ نے فرمایا : میرے پاس ایک جن دعوت دینے آیا، میں ان کے پاس گیا اور میں نے ان کے سامنے قرآن پڑھا، پھر آپ ہم کو لے کر گئے اور ان کے نشانات اور آگ کے نشانات ہمیں دکھائے، شعبی نے بیان کیا کہ انہوں نے آپ سے ناشتہ طلب کیا تھا، عامر نے کہا : یہ ایک جزیرہ کے جن تھے، آپ نے فرمایا : ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام پڑھا گیا ہو جب وہ تمہارے ہاتھوں میں آئے گی تو گوشت سے بھر جائے گی، اور اسی طرح گوبر تمہارے جانوروں کا چارہ بنے گا، پس اے مسلمانو ! ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کیا کرو، یہ تمہارے بھائی جنات کی (اور ان کے جانوروں کی) خوراک ہیں۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور یہ امام مسلم کی شرط کے مطابق ہے۔
(مسند احمد ج ١ ص ٤٣٦ طبع قدیم، مسند احمد ج ٧ ص ٢١٥، ٢١٤ طبع جدید۔ رقم الحدیث : ٤١٤٩، مؤسستہ الرسالۃ، بیروت، ١٤١٦ ھ، دلائل النبوۃ ج ٢ ص ٢٢٩، صحیح مسلم رقم الحدیث، ٤٥٠، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٥٨، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٤٢٣٧، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٣٢٠، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٨٢، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١ ص ٥٥، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٨٥، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٨، دلائل النبوۃ ج ٢ ص ٢٢٩ )
اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنات کو دیکھا تھا اور اس رات حضرت ابن مسعود آپ کے ساتھ نہ تھے اور بعض روایات میں ہے کہ اس رات آپ نے جنات کو دیکھا تھا اور حضرت ابن مسعود آپ کے ساتھ تھے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ جنات سے ملاقات کی رات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، پس ان سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبد اللہ ! کیا تمہارے ساتھ پانی ہے ؟ میں نے کہا : میرے ساتھ ایک مشکیزہ میں پانی ہے، آپ نے فرمایا : مجھ پر وہ ڈالو، پھر آپ نے وضو کیا، سو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبد اللہ بن مسعود ! یہ پاک مشروب ہے اور پاک کرنے والا ہے۔ ( شعیب الارنووط نے کہا : اس حدیث کی سند ضعیف ہے، کیونکہ اس کی سند میں ابن الہیعہ ہے اور وہ ضعیف راوی ہے، مسند احمدج ١ ص ٩٨ طبع قدیم، مسند احمد ج ٦ ص ٣٣٣۔ رقم الحدیث : ٣٧٨٢ طبع جدید، مؤسستہ الرسالۃ ٗ بیروت، ١٤١٦ ھ، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٥، سنن دارقطنی ج ١ ص ٧٨ طبع قدیم)
جنات کو دیکھنے اور نہ دیکھنے میں احادیث میں تطبیق
حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ نے بھی ان احادیث کو روایت کیا ہے، بعض احادیث میں ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) لیلۃ الجن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں تھے اور بعض احادیث میں ہے کہ وہ اس شب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، اور بعض احادیث میں ہے کہ جنات نے از خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن مجید سنا تھا، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تہامہ میں کھجوروں کے جھنڈ کے پاس اپنے بعض اصحاب کو صبح کو نماز پڑھا رہے تھے، اور بعض احادیث میں ہے کہ آپ قصداً انہیں تبلیغ کرنے کے لیے تشریف لے گئے تھے، حافظ ابن کثیر ان احادیث میں تطبق دیتے ہوئے لکھتے ہیں :
یہ تمام احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قصداً جنات کی طرف گئے تھے اور آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دی، اور انکے لیے وہ احکام شرعیہ بیان کیے جن کی انہیں ضرورت تھی، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلی بار جنات نے آپ سے قرآن مجید سنا ہو اور اس وقت آپ کو یہ علوم نہ ہو کہ جناب قرآن سن رہے ہیں، جیسا کہ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت میں ہے، اور اس کے بعد جنات کا وفد آپ کے پاس آیا ہو جیسا کہ حضرت ابن مسود (رض) کی روایت میں ہے، اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنات سے خطاب فرما رہے تھے، اس اثناء میں حضرت ابن مسعود آپ کے ساتھ نہ تھے اور آپ سے دور تھے، اور حضرت ابن مسعود کے علاوہ آپ کے اصحاب میں سے کوئی آپ کے ساتھ نہیں گیا تھا اور یہ سنن بیہقی کی روایت میں ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب پہلی بار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنات کی طرف تشریف لے گئے، اس بار آپ کے ساتھ حضرت ابن مسعود (رض) تھے، نہ کوئی اور صحابی تھے جیسا کہ مسند احمد کی حدیث میں ہے اور حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے، اور حضرت ابن مسعود کے ساتھ جانے کے واقعات پہلی بار جانے کے بعد پیش آئے۔
( تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ١٨١، دارالفکر، بیروت، ١٨١ ھ)
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جناب کو دیکھنے پر دلائل
یہ امر متفق علیہ ہے کہ حضرت سلیمان السلام کی جناب پر حکومت تھی اور آپ جناب سے مشقت والے کام لیتے تھے، قرآن مجید میں ہے : حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے جن نے کہا :
قال عفریت من الجن انا اتیک بہ قبل ان تقوم من مقامک وانی علیہ لقوی امین۔ ( النمل : ٣٩)
ایک سرکش جن نے کہا : میں وہ تخت آپ کے پاس اس سے پہلے لے آئوں گا کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں اور بیشک میں اس پر ضرور قوت والا امانت دار ہوں۔
اور جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) جنات کو دیکھتے تھے تو ضروری ہوا کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی یہ وصف حاصل ہو، کیونکہ آپ افضل الرسل ہیں، اور خصوصیت کے ساتھ آپ کے جنات کو دیکھنے اور ان پر تصرف کرنے کی قوت کے حصول پر دلیل یہ حدیث ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک سرکش جن رات کو مجھ پر حملہ آور ہوا تاکہ میری نماز منقطع کر دے، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دی، میں نے ارادہ کیا کہ میں اس کو مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں، حتیٰ کہ تم سب صبح اٹھ کر اس کو دیکھتے، پھر مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان کی یہ دعا یاد آئی : اے میرے رب ! مجھے ایسا ملک عطاء فرما جو میرے بعد اور کسی کے لائق نہ ہو، پھر آپ نے اس کو ناکام واپس کردیا۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٦١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٤١، مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٨)
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
حضرت ابن مسعود (رض) کا مذہب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جناب کو دیکھا ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں تاکہ آپ جنات کے سامنے قرآن پڑھیں، وہ آپ کے ساتھ گئے حتیٰ کہ شعب ابن ابی ادب کے ساتھ مقام الحجون کے نزدیک پہنچے، آپ نے میرے سامنے ایک خط کھینچ کر فرمایا : اس لکیر سے آگے نہ بڑھنا، پھر آپ الحجون کی طرف گئے تے جنات بہت بڑے اجسام میں آپ کی طرف بڑھے، وہ اس طرح دف بجا رہے تھے جس طرح عورتیں دف بجاتی ہیں حتیٰ کہ انہوں نے آپ کو ڈھانپ لیا اور آپ میری آنکھوں سے اوجھل ہوگئے، میں اٹھا پھر آپ نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا، پھر آپ نے قرآن کی تلاوت کی اور آپ کی آواز بلند ہورہی تھی، جنات زمین سے ملے ہوئے تھے میں ان کی آواز سن رہا تھا اور ان کو دیکھ نہیں رہا تھا۔
دوسری روایت میں ہے : انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : آپ کون ہیں ؟ آپ نے کہا : میں اللہ کا نبی ہوں، انہوں نے کہا : آپ کے حق میں کون گواہی دے گا ؟ آپ نے فرمایا : یہ درخت، پھر فرمایا : آئو اے درخت ! وہ درخت اپنی جڑوں کو کھینچتا ہوا آیا اور آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا، آپ نے اس سے فرمایا : تم میرے لیے کس چیز کی گواہی دیتے ہو ؟ اس درخت نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے فرمایا : جائو ! وہیں لوٹ جائو جہاں سے آئے ہو، حتیٰ کہ وہ درخت اسی طرح لوٹ گیا، حضرت ابن مسعود نے کہا : جب آپ میرے پاس واپس آئے تو آپ نے پورچھا : کیا تم میرے پاس آنا چاہتے تھے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : یہ تمہارے لیے ممکن نہیں تھا، یہ جنات قرآن سننے کے لیے آئے تھے، پھر اپنی قوم کو عذاب سے ڈرانے کے لیے واپس گئے، انہوں نے مجھ سے خوراک کے متعلق سوال کیا تھا، میں نے ان کے لیے ہڈیوں اور مینگنیوں کی خوراک دی، پس تم میں سے کوئی شخص ہڈی سے استنجاء نہ کرے نہ مینگنی سے۔
حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود کی روایات میں امام رازی کی توجیہات اور ان پر۔۔۔۔ مصنف کا تبصرہ
امام رازی لکھتے ہیں :
ان روایات کی تکذیب کی کوئی ضرورت نہیں ہے، حضرت ابن عباس (رض) کا مذہب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنات کو نہیں دیکھا اور حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ کا مذہب یہ ہے کہ آپ نے جناب کو دیکھا ہے اور ان میں تطبیق کی حسب ذیل صورتیں ہیں :
(١) حضرت ابن عباس (رض) نے اس واقعہ کو روایت کیا ہے، جب پہلی بار جنات نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن مجید کی تلاوت سنی تھی اور اس وقت آپ نے جناب کو نہیں دیکھا تھا، پھر اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنات کی طرف جانے کا حکم دیا گیا، جس کو حضرت ابن مسعود (رض) نے روایت کیا ہے۔
(٢) اگر جنات کا واقعہ ایک ہی بار ہوا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو دیکھا اور ان کا کلام سنا اور وہ آپ پر ایمان لائے، پھر جب وہ اپنی قوم کی طرف واپس گئے تو انہوں نے اس واقعہ کی حکایت کرتے ہوئے کہا : ہم نے بہت عجیب قرآن سنا ہے اور اس طرح اور اس طرح ہوا، تب اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وحی کی کہ انہوں نے اپنی قوم سے کیا کہا۔
(امام رازی نے اس تقدیر پر یہ نہیں بیان کیا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنات کو دیکھا تھا اور ان کا کلام سنا تھا تو پھر حضرت ابن عباس (رض) نے جو دیکھنے اور سننے کی نفی کی ہے، اس کا کیا محمل ہوگا ؟ )
(٣) اگر یہ واقعہ ایک ہی مرتبہ ہوا ہے تو یہ کہا جائے گا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنات کی طرف جانے کا حکم دیا گیا تھا اور ان کے سامنے قرآن مجید پڑھنے کا حکم دیا مگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ نہیں سمجھ سکے کہ جنات نے کیا کہا ہے اور انہوں نے قرآن کریم سن کر کیا کیا، تب اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی کی کہ انہوں نے کیا کہا ہے اور کیا کیا ہے۔
(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٦٥، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
امام رازی کی یہ توجیہ بھی دو وجہ سے صحیح نہیں ہے، اولاً اس لیے کہ اس توجیہہ میں بھی حضرت ابن عباس (رض) کی دیکھنے اور سننے کی نفی کا محمل بیان نہیں کیا، اور ثانیاً اس لیے کہ یہ کہنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنات کا کلام نہیں سمجھ سکے، بہت سنگین جسارت ہے، ہم تو اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت جبریل اور دیگر فرشتوں کا کلام سمجھ لیں، حیوانات، پہاڑوں، پتھروں اور درختوں کا کلام سمجھ لیں، اللہ سبحانہٗ کی وحی کو سمجھ لیں اور جنات کا کلام نہ سمجھ سکیں۔ ہم امام رازی کو بہت بڑا مفسر اور محقق گردانتے ہیں، مگر ان کی یہ بات ہم سے ہضم نہیں ہوسکی، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے زیادہ جواب دینے کے شوق میں امام رازی سے یہ تقصیر ہوگئی۔ دیگر مفسرین نے ان روایات کے متعلق جو کچھ لکھا ہے اب ہم اس کو پیش کر رہے ہیں۔
مذکورہ احادیث کے متعلق دیگر مفسرین اور محدثین کی توجیہات
علامہ قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :
ایک قول یہ ہے کہ لیلۃ الجن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنات کو دیکھا تھا اور یہ قول زیادہ ثابت ہے۔
(الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ٥، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :
یہ آیت اس میں ظاہر ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنات کے سننے کا علم اللہ تعالیٰ کی وحی سے ہوا اور آپ نے جنات کا مشاہدہ نہیں کیا اور احادیث سے یہ ثابت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنات کو دیکھا ہے اور اس کی توجیہہ یہ ہے کہ یہ واقعہ متعدد بار ہوا ہے۔ ( روح المعانی جز ٢٩ ص ١٤٣، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)
مفسرین کے بعد اب ہم ان روایات کے متعلق محدثین کی تصریحات پیش کر رہے ہیں :
قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں :
حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود (رض) کی حدیثوں میں تعارض ہے، اور ان میں تطبیق اس طرح ہے کہ یہ دونوں الگ الگ واقعے ہیں اور ان میں کوئی تعارض اور تنافی نہیں ہے۔ ( اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ٢ ص ٣٦٤، دارالوفاء، بیروت، ١٤١٩ ھ)
علامہ یحییٰ بن شرف نواوی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں :
علماء نے یہ لکھا ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعے ہیں، حضرت ابن عباس (رض) کی حدیث کا تعلق نبوت کی ابتداء سے ہے، جب جنات آئے اور انہوں نے آپ سے قرآن مجید کی تلاوت سنی اور اس وقت یہ آیت نازل ہوئی، ” قل اوحی الی الایۃ “ اور حضرت ابن مسعود (رض) کی حدیث میں اس کے بہت بعد کے واقعہ کا ذکر ہے، اس وقت اسلام مشہور ہوچکا تھا اور اللہ ہی کو علم ہے کہ اس کے بعد کتنا عرصہ گزر چکا تھا۔ ( صحیح مسلم بشرح النواوی ج ٢ ص ١٦٤٤، مکتبہ نراز مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) کی حدیث کا تعلق بعث کے ابتدائی ایام کے ساتھ ہے اور حضرت ابن مسعود کی حدیث کا تعلق، اس کے بعد بعد کا ہے، کیونکہ اس کو حضرت ابوہریرہ (رض) نے روایت کیا اور وہ ہجرت کے بعد (٧ ھ) میں اسلام لائے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جنات کے متعدد وفود کا آنا ثابت ہے۔ ( فتح الباری ج ٩ ص ٦٨٧، دارالفکر، بیروت، ١٤٣٠ ھ)
ہم نے الاحقاف : ٣٢۔ ٢٩ میں بھی ان روایات پر بحث کی ہے، لیکن یہاں زیادہ تفصیل لکھی ہے۔
انسان کے جسم میں جنات کے تصرف کی بحث
جنات کے موضوع میں ایک بحث یہ بھی ہے کہ جن انسان کے جسم میں داخل ہوجاتا ہے اور اس کے اعضاء پر تصرف کرتا ہے اور اس کے ثبوت میں بہت حکایات بیان کی جاتی ہیں، ہم نے ” شرح صحیح مسلم “ کی ساتویں جلد میں اس پر بحث کی، اس کے عنوانات حسب ذیل ہیں :
(١) انسان کے جسم پر جن کے تصرف اور تسلط کے متعلق علماء اسلام کے نظریات۔ شرح صحیح مسلم ج ٧ ص ٦٤٤
(٢) انسان کے جسم میں جن کے دخول اور اس کے تصرف اور تسلط کے متعلق مصنف کا مؤقف۔ شرح صحیح مسلم ج ٧ ص ٦٤٩
بتیان القرآن میں بھی ہم نے اس مسئلہ پر بحث کی ہے، اس کا عنوان ہے :
انسان کے اعضاء پر جنات کے تصرف کی نفی۔ بتیان القرآن ج ٦ ص ٧٧
الجن : ١ میں فرمایا : آپ کہیے کہ میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے ( قرآن) سنا، اور کہا : ہم نے بہت عجیب قرآن سنا ہے۔
صحابہ کرام کے جنات کے قول کی خبر دینے کے فوائد
اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا کہ آپ اپنے اصحاب کو یہ بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے واقعہ ٔ جن کے متعلق آپ پر کیا وحی فرمائی ہے، اس کے حسب ذیل فوائد ہیں :
(١) تاکہ حضرات صحابہ کو یہ معلوم ہوجائے کہ جس طرح آپ کو انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا ہے، اسی طرح آ کو جنات کی طرف بھی مبعوث فرمایا ہے۔
(٢) قریش یہ جان لیں کہ جنات کے خمیر میں سرکشی ہے، اس کے باوجود جب انہوں نے قرآن مجید کے اعجاز کو جان لیا تو وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور آپ کی نبوت پر ایمان لے آئے، اور قرآن مجید سنتے ہی مسلمان ہوگئے۔
(٣) اس آیت سے معلوم ہوا کہ جنات بھی انسانوں کی طرح مکلف ہیں، ان میں سے نیکوں کو ثواب اور بدکاروں کو عذاب ہوگا۔
(٤) جنان ہمارا کلام سنتے ہیں اور ہماری لغات کو جانتے ہیں، اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف مبعوث ہیں تو ضروری ہوا کہ آپ بھی ان کی زبان سمجھتے ہوں، ورنہ آپ کیسے ان کے سوالات کے جواب دیں گے۔
(٥) جنات نے کہا : ہم اسلام کو اپنی قوم کی طرف پہنچائیں گے، اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص مسلمان ہوجائے وہ دوسروں تک خصوصاً اپنی قوم تک اسلام کا پیغام پہنچائے۔
” وحی “ اور ” نفر “ کا معنی ہے
نیز اس آیت میں ” وحی “ کا لفظ ہے، وحی کا معنی ہے : کلام خفی، دل میں کسی نیک بات کا ڈالنا، اگر نبی کے دل میں بات ڈالی جائے تو وحی ہے اور ولی کے دل میں نیک بات ڈالی جائے تو وہ الہام ہے، اور وحی کا اصطلاحی معنی ہے : وہ کلام خفی جو انبیاء (علیہم السلام) کے دلوں میں ڈالا جائے خواہ فرشتہ کے واسطہ سے ہو یا اس کے بغیر، قرآن مجید میں ہے :
وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ (الانعام : ١٩) آپ کہیے : مجھ پر اس قرآن کی وحی کی گئی ہے۔
نیز اس آیت میں ” نفر “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : تین سے لے کر نوافراد کی جماعت۔
نیز جنات نے کہا : ہم نے بہت عجیب قرآن سنا ہے، یعنی اس میں جو فصاحت اور بلاغت سے نصیحتیں کی گئی ہیں، ہم کو ان پر بہت تعجب ہے، یہ ایسا فصیح کلام ہے جس کی کوئی مثالی نہیں ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 1