وَقَدۡ اَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا ۚ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا ضَلٰلًا سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 24
sulemansubhani نے Saturday، 27 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَقَدۡ اَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا ۚ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا ضَلٰلًا ۞
ترجمہ:
اور بیشک انہوں نے بہت لوگوں کو گم راہ کردیا، اور ( اے میرے رب ! ) ظالموں میں صرف گم راہی کو زیادہ کرنا
تفسیر:
نوح : ٢٤ میں فرمایا : اور بیشک انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا، اور ( اے میرے رب ! ) ظالموں میں صرف گم راہی کو زیادہ کرنا۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کی توجیہ اور اس دعا کو بد دعا کہنے کی مذمت
حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ بتایا کہ ان کافر سرداروں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے اور ان کو بتوں کی پرستش میں مشغول کردیا ہے، تو اس سے ظاہر ہوگیا کہ انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔ اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے خلاف دعا کی کہ اے اللہ ! ان کی گمراہی کو اور زیادہ کرے۔
اس جگہ یہ سوال وارد ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو تو اس قوم کو ہدایت دینے کے لیے مبعوث کیا گیا تھا، انہوں نے ان کے گمراہ ہونے کی دعا کیوں کی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا منشاء یہ نہیں تھا کہ ان کو صراط مستقیم سے گم راہ کردیا جائے، اور ان کو دین میں گمراہی کے راستہ پر ڈال دیا جائے بلکہ ان کا منشاء یہ تھا کہ وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کے خلاف جو سازشیں کر رہے تھے اور آپ کو دین و دنیا میں نقصان پہنچانے کی جو تدبیریں کر رہے تھے ان میں ان کو گمراہ کردیا جائے، تاکہ وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرسکیں اور اپنی سازشوں میں ناکام اور نامراد ہوجائیں، دوسرا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں ” ضلال “ سے مراد اس کا اثر اور نتیجہ ہے یعنی عذاب، اور مراد یہ ہے کہ اے اللہ ! ان کے عذاب کو اور زیادہ کر دے۔
مفتی شفیع دیو بندی نے اس سوال کے جواب میں لکھا ہے : حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کی گمراہی بڑھا دینے کی دعا اس لیے فرمائی کہ جلد ان کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور ہلاک کردیئے جائیں۔ ( معارف القرآن ج ٨ ص ٥٦٧) سید مودودی نے لکھا ہے : وہ اپنی قوم سے پوری طرح مایوس ہوچکے تھے، ایسے ہی حالات میں حضرت موسیٰ نے بھی فرعون اور قوم فرعون کے حق میں یہ بددعا کی تھی۔ ( تفہیم القرآن ج ٦ ص ١٠٤) شیخ امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کے تیسرے مرحلہ میں پہنچ کر دیکھ لیا کہ اس قوم میں جتناجوہر تھا وہ نکل آیا ہے، اس کے مٹ جانے میں ہی خیر ہے۔ (تدبر قرآن ج ٨ ص ٦٠٤) ان جوابات کی رکاکت ظاہر ہے اور محتاج بیاں نہیں۔
اس آیت کی تفسیر میں اور اس کے بعد کی آیات کی تفسیر میں مفتی محمد شفیع دیو بندی متوفی ١٣٩٦ ھ، سید ابو الاعلیٰ مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ اور شیخ امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے کہ حضرت نوح نے اپنی قوم کے لیے بد دعا کی، اور سید مودودی اور امین احسن اصلاحی نے اس بحث میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی حوالہ دیا ہے کہ انہوں نے بھی اپنی قوم کے لیے بد دعا کی تھی۔ ( معارف القرآن ج ٨ ص ٥٦٧، تفہیم القرآن ج ٦ ص ١٠٤، تدبر قرآن ج ٨ ص ١٠٤) یہ ان انبیاء کرام (علیہم السلام) کی شان میں شدید بےادبی اور گستاخی ہے، انبیاء (علیہم السلام) کا کوئی فعل یا قول بد نہیں ہوتا، ان کا ہر قول اور فعل امت کے لیے نمونہ اور حسن ہوتا ہے، اس کی تفسیر میں یوں لکھنا لازم تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ناکامی اور نا مرادی کی دعا کی یہ ان کے خلاف عذاب زیادہ ہونے کی دعا کی، جس طرح ہم نے لکھا ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 24