أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ قَالُوۡا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا  ۙ وَّ لَا يَغُوۡثَ وَيَعُوۡقَ وَنَسۡرًا‌ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے کہا : تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور بغوث اور یعوق اور نسر کو ہرگز نہ چھوڑنا

تفسیر:

نوح : ٢٣ میں ان بتوں کا ذکر فرمایا ہے جن کی حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم عبادت کرتی تھی، اور ان کی قوم کے سرداران کو ان بتوں کی عبادت کرنے کی تلقین کرتے تھے۔

ود، سواع، بغوث، یعوق اور نسر و غیرہا کی تاریخی حیثیت

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

محمد بن قیس نے کہا : یہ بات ( ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر) حضرت آد م (علیہ السلام) کی اولاد میں سے نیک لوگ تھے اور ان کے پیرو کار تھے جو ان کے اقتداء کرتے تھے، جب وہ نیک لوگ فوت ہوگئے تو ان کے پیرو کاروں نے کہا : اگر ہم ان نیک لوگوں کے مجسمے بنالیں تو پھر ہم کو عبادت کرنے میں زیادہ ذوق اور شوق حاصل ہوگا، سو انہوں نے ان کے مجسمے بنا لیے، اور جب یہ نسل بھی ختم ہوگئی اور دوسری نسل آئی تو ابلیس نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ تمہارے آباء و اجداد ان مجسموں کی عبادت کرتے تھے اور ان ہی کی وجہ سے ان پر بارش برسائی جاتی تھی، سو بعد کے لوگوں نے ان کی عبادت کرنی شروع کردی۔

( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٧١٥٤ )

قتادہ اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ ود دومۃ الجندل میں بنو کلب کا بت تھا، اور سواع رباط میں ہذیل کا بت تھا، اور یغوث جرف میں مراد کے بنو غطیف کا بت تھا، یہ سب میں تھا، یعوق بلخ میں ہمدان کا بت تھا اور نسر ذی کلاع کا بت تھا جو حمیر سے تھے، قتادہ نے کہا : یہ وہ بت تھے جن کی حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم عبادت کرتی تھی، پھر بعد میں اہل عرب نے ان کو اپنا معبود بنا لیا ( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٧١٥٦ )

امام عبد الرحمان بن محمد ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عرو بن الزبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) بیمار ہوئے اور ان کے گردان کے بیٹے تھے، ان میں ود، بغوث، سواع اور نسر تھے اور ودان کے سب سے بڑے بیٹے اور سب سے زیادہ نیک تھے۔ ( تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٨٩٩٦)

امام ابو جعفر نے ود کا ذکر کیا اور کہا : ود مسلمان شخص تھا اور بہت نیک تھا اور اپنی قوم میں بہت محبوب تھا، جب وہ فوت ہوگیا تو لوگ اس کی قبر پر ارض بابل میں گئے اور اس کی یاد میں رونے لگے، جب ابلیس نے ان کی آہ زاری کو دیکھا تو وہ ان کے پاس انسانی شکل میں آیا اور کہنے لگا : اس شخص کی یاد میں، میں تمہارے رنج و غم کو دیکھ رہا ہوں، تمہارا کیا خیال ہے میں اس شخص کی مثال کا ایک مجسمہ تمہارے لیے بنا دوں، تم اس مجسمہ کو اپنی مجلس میں رکھ لینا، پھر تمہارا دل بہل جائے گا، انہوں نے کہا : ہاں ! ٹھیک ہے، سو اس نے ود کی مثل کا ایک مجسمہ بنادیا اور انہوں نے اس کو اپنی مجلس میں رکھ لیا، اور وہ اس کو یاد کرتے رہتے تھے، جب ابلیس نے دیکھا کہ وہ اس کو بہت یاد کرتے ہیں تو اس نے ان لوگوں سے کہا : کیا خیال ہے میں تم میں سے ہر شخص کے گھر میں ود کی مثال کا ایک مسجمہ بنا کر رکھ دوں، ان لوگوں نے اس پیش کش کو قبول کرلیا، اور وہ ان مجسموں کو دیکھ کر ود کو یاد کرتے رہے، پھر ان کی نسل نے اپنے آباء و اجداد کو یہ کرتے ہوئے دیکھا اور وہ یہ بھول گئے کہ ان کے آباء و اجداد صرف ان بتوں کو دیکھ کر ود کو یاد کرتے تھے، حتیٰ کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر ان بتوں کو اپن معبود بنا لیا، پھر وہ نسل در نسل ان بتوں کی عبادت کرتے رہے، اور اللہ کو چھوڑ کر جس بت کی سب سے پہلے عبادت کی گئی وہ ود کا بت تھا۔ ( تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٨٩٩٧)

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمیر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :

محمد بن قیس نے کہا ہے کہ یغوث، یعوق اور نسر، حضرت آدم اور حضرت نوح (علیہما السلام) کے درمیان عہد کے لوگ ہیں، یہ بہت نیک لوگ تھے اور ان کے بہت پیروکار تھے، جب یہ نیک لوگ فوت ہوگئے، تو ان کے پیروکاروں نے کہا : اگر ہم ان کی مثال کے مجسمے بنالیں تو ہماری عبادت میں زیادہ ذوق اور شوق ہوگا، پھر انہوں نے ان کی مثال کے مجسمے بنا لیے، پھر جب ان کی نسل ختم ہوگئی اور ان کی دوسری نسل آئی تو ابلیس نے ان کے دماغوں میں یہ خیال ڈال دیا کہ تمہارے آباء و اجداد ان بتوں کی عبادت کرتے تھے اور ان ہی کی وجہ سے بارش ہوتی تھی، سو انہوں نے ان کی عبادت کرنی شروع کردی۔ اس کے بعد حافظ ابن کثیر نے حافظ ابن عساکر کی یہ روایت نقل کی ہے :

حافظ ابن عساکر نے حضرت شیث (علیہ السلام) کی سوانح میں یہ روایت ذکر کی ہے : حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : حضرت آدم (علیہ السلام) کی چالیس اولاد ہوئی، بیس بیٹے اور بیس بیٹیاں، ان میں سے جو زندہ رہے وہ ھابیل اور قابیل تھے اور صالح اور عبد الرحمان، جن کا نام عبد الحارث رکھا تھا، اور ود کو ہی شیث کہا جاتا تھا، اور ان کو ھبۃ اللہ بھی کہا جاتا تھا، اور ان کے بھائیوں نے ان کو سردار بنادیا تھا اور ان کے بیٹوں کے نام سواع، بغوث، یعوق اور نسر تھے۔

(تاریخ دمشق الکبیر ج ٢٥ ص ١٨٥، داراحیاء التراث العربی، بیروت) ( تفسیرابن کثیر ج ٤ ص ٤٧٠، دارالفکر، بیروت، ١٤١٩ ھ)

امام رازی نے تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٥٧، علامہ قرطبی نے جز ١٨ ص ٢٨١ میں، علامہ بغوی نے معالم التنزیل ج ٥ ص ١٥٧ میں، اور علامہ آلوسی نے روح المعانی جز ٢٩ ص ١٣٣۔ ١٣٢ میں ان روایات کو نقل کر کے ان پر اعتماد کیا ہے۔

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

یہ بھی حکایت بیان کی جاتی ہے کہ ود کا بت مرد کی صورت کا تھا، سواع کا بت عورت کی صورت کا تھا، یغوث کا بت شیر کی صورت کا تھا، یعوق کا بت گھوڑے کی صورت پر تھا اور نسرکا بت گدھ کی صورت کا تھا، اور یہ حکایت ان تصریحات کے منافی ہے کہ یہ بت نیک انسانوں کی صورتوں پر بنائے گئے تھے اور یہ تصریحات ہی اصح ہیں۔

(روح المعانی جز ٢٩ ص ١٣٣، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

واضح رہے کہ سید ابو الاعلیٰ مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ نے اسی اصح روایت کو اختیار کیا ہے۔

(تفہیم القرآن ج ٦ ص ١٠٤، ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، ١٤١١ ھ)

اس روایت کی تحقیق کہ کفار مکہ جن بتوں کی عبادت کرتے تھے، یہ وہی بت تھے جن کی کفار نوح عبادت کرتے تھے

حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم جن بتوں کی عبادت کرتی تھی ان کے متعلق امام بخاری نے اپنی سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ہے :

ابن جریج سے روایت ہے کہ عطاء نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ قوم نوح جن بتوں کی عبادت کرتی تھی وہ بت عرب میں اب بھی ہیں، رہا ود تو وہ دومۃ الجندل میں بنو کلب کا معبوڈ ہے، رہا سواع، تو وہ ہذیل کا معبود ہے، رہا بغوث تو وہ مراد معبود ہے، پھر بنو غطیف کا جوف میں سبا کے پاس معبود ہے، ریا یعوق تو وہ ہمدان کا معبود ہے اور رہا نسر تو وہ حمیر کا ذی الکلاع کے لیے معبود ہے، یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نیک لوگوں کے اسماء ہیں، جب یہ نیک لوگ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ جن مجالس میں وہ بیٹھے ہیں، وہاں ان نیک لوگوں کے مجسمے بنا کر رکھ دیئے جائیں اور ان نیک لوگوں کے ناموں پر ان بتوں کے نام رکھ دیئے جائیں، پھر جب تک ان لوگوں کی نسل باقی رہی، ان بتوں کی عبادت نہیں کی گئی اور جب وہ لوگ فوت ہوگئے اور ان کا علم نہ رہا تو ان کی عبادت کی جانے لگی۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٢٠ )

امام بخاری کی اس رایت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ تقریباً تمام مفسرین نے لکھا ہے کہ ود حضرت آدم (علیہ السلام) کا بیٹا تھا، اور اسی کا نام شیث تھا اور باقی ود کے بیٹے تھے اور یہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) سے بہت پہلے گزر چکے تھے اور یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ کیی صالحین نہیں تھے۔

اور اس پر دوسرا اعتراض حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ نے سند کے لحاظ سے کیا ہے کہ اس حدیث کو عطا خراسانی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے، حالانکہ عطا خراسانی کا حضرت ابن عباس سے سماع نہیں ہے، لہٰذا اس حدیث کو سند منقطع ہے، پس یہ حدیث ضعیف ہے، پھر اس کا ایک کمزور سا جواب دیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اس کی سند میں مذکور عطاء سے مراد عطاء خراسانی نہ ہو بلکہ عطاء بن ابی رباح ہو، اور ابن جریج نے اس کو عطاء بن ابی رباح سے بھی روایت کیا ہے اور یہ بات امام بخاری سے کیسے مخفی رہ سکتی ہے کیونکہ ان کے حدیث وارد کرنے کی شرط اتصال ہے۔ ( فتح الباری ج ٩ ص ٦٧٠، دارالفکر، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

علامہ بدر الدین عینی متوفی ٨٥٥ ھ نے اس جواب کو رد کردیا ہے، وہ لکھتے ہیں :

امام بخاری کا حدیث لانے کے لیے اتصال کی شرط عائد کرنا اس کو مستلزم نہیں ہے کہ ان سے یہ مخفی نہ ہو کہ اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، پس سبحان ہے وہ ذات جس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے، نیز جس حدیث میں عطاء خراسانی منفردہو اس کی حدیث کو امام مسلم وارد کرتے ہیں۔ ( عمدۃ القاری ج ١٩ ص ٣٧٧، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)

اس روایت پر سب سے قومی اعتراض امام رازی نے کیا ہے، وہ لکھتے ہیں :

یہ پانچ بت سب سے بڑے بت تھے، پھر یہ بت حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم سے اہل عرب کی طرف منتقل ہوئے، پس ود بنو کلب کا ہوگیا، اور سواع ہمدان کا ہوگیا، یغوث مذحج کا ہوگیا، یعوق مراد کا ہوگیا اور نسرحمیر کا ہوگیا، اسی وجہ سے اہل عرب کو عبدود اور عبد یغوث کہا جاتا تھا، تاریخی کتب میں اسی طرح مذکور ہے اور اسی پر یہ اشکال ہے کہ طوفان کے زمانہ میں تمام دنیا ملیا میٹ ہوچکی تھی تو یہ بت کیسے باقی بچ گئے، اور عرب کی طرف منتقل ہوئے اور یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ان بتوں کو اپنے ساتھ کشتی میں لے آئے تھے، پھر انہوں نے ان بتوں کو حفاظت کے ساتھ رکھا تاآں کہ یہ امانت عربوں کے پاس پہنچ گئی، کیونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) بتوں کے محافظ نہیں تھے بت شکن تھے۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٥٧، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

ان دلائل کی بناء پر یہ کہنا صحیح نہیں کہ عرب میں جن بتوں کی پرستش ہوتی تھی، یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے صالحین کی صورتوں کے مجسمے ہیں اور یہ وہی بت ہیں جن کی حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پرستش کرتی تھی، ہاں ! یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ان ناموں کا ذکر پچھلے لوگوں سے سنتے آئے تھے تو انہوں نے اپنے بتوں کے بھی وہی نام رکھ لیے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 23