أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَمَّا الۡقٰسِطُوۡنَ فَكَانُوۡا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا ۞

ترجمہ:

اور رہے سرکش تو وہ دوزخ کا ایندھن ہیں

تفسیر:

الجن : ١٥ میں فرمایا : ( جنات نے کہا) رہے سرکش نے تو وہ دوزخ کا ایندھن ہیں۔

امام رازی نے لکھا ہے : جب حجاج بن یوسف نے سعید بن جبیر کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو ان سے پوچھا : تم میرے متعلق رہے ہیں، حجاج نے کہا : تم پر افسوس ہے ! یہ مجھے ظالم کہہ رہا ہے، قرآن مجید میں ہے :” واما القاسطون فکانوا لجھنم حطا۔ “ اور رہے ظالم تو وہ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ ” حطبا “ کا معنی ہے : لکڑیاں اور ایندھن۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ جنات تو آگ سے بنے ہوئے ہیں، پھر انہیں جہنم کی آگ سے کیا تکلیف ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ امام رازی نے کہا : وہ اگرچہ آگ سے بنے ہیں، لیکن وہ متغیر ہو کر گوشت اور خون کے بن گئے، اور صحیح جواب یہ ہے کہ انسان مٹی سے بنا ہوا ہے، لیکن پتھر مارنے سے اس کو تکلف ہوتی ہے، اسی طرح جنات کو بھی دوزخ کی آگ سے تکلیف ہوگی۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 15