أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّاَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ نُّعۡجِزَ اللّٰهَ فِى الۡاَرۡضِ وَلَنۡ نُّعۡجِزَهٗ هَرَبًا ۞

ترجمہ:

اور ہم نے یہ یقین کرلیا کہ ہم ہرگز اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے اور نہ ہرگز اس سے بھاگ سکتے ہیں

تفسیر:

الجن : ١٢ میں فرمایا : ( جنات نے کہا) اور ہم نے یہ یقین کرلیا ہے کہ ہم ہرگز اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے اور نہ ہرگز اس سے بھاگ سکتے ہیں۔

اس آیت میں ” ظن “ کا لفظ ہے اور اس سے مراد یقین ہے، اس کا معنی ہے : ہم زمین میں جہاں کہیں بھی ہوں، ہم آسمان کی طرف بھاگ کر اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے، اس کا دوسرا معنی ہے : جب اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ کسی معاملہ کا ارادہ فرمائے تو ہم اس سے بھاگ کر اس کو عاجز نہیں کرسکتے، یعنی دلائل سے ہم پر یہ منکشف ہوا یا اللہ تعالیٰ کی آیات میں غور و فکر سے ہم کو یہ معلوم ہوا کہ ہم اللہ سبحانہ ٗ سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 12