أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّاَنَّا لَا نَدۡرِىۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا ۞

ترجمہ:

اور ہمیں معلوم نہیں کہ ( اس سے) زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا انکے رب نے ان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے

تفسیر:

الجن : ١٠ میں فرمایا : جنات نے کہا : اور ہمیں معلوم نہیں کہ ( اس سے) زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔

اس کی تفسیر میں دو قول ہیں :

(١) ہم کو یہ معلوم نہیں کہ چوری چھپے فرشتے کی باتیں سننے سے زمین والوں کے ساتھ کسی خیر کا ارادہ کیا گیا ہے یا شرکاء۔

(٢) سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے زمین والوں کے ساتھ شرکاء کا ارادہ کیا گیا ہے تاکہ وہ آپ کی نبوت کی تکذیب کر کے ہلاک ہوجائیں، جس طرح پچھلی امتیں اپنے نبیوں کی تکذیب کر کے ہلاک ہوگئیں یا آپ کی بعثت سے ان کے ساتھ خیر کا ارادہ کیا گیا تاکہ وہ آپ پر ایمان لا کر ہدایت پاجائیں اور دنیا اور آخرت میں سرفراز ہوں۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 10