أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّاَنَّا مِنَّا الۡمُسۡلِمُوۡنَ وَمِنَّا الۡقٰسِطُوۡنَ‌ؕ فَمَنۡ اَسۡلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوۡا رَشَدًا‏ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم میں سے چند اطاعت گزار ہیں اور کچھ سرکش ہیں سو جنہوں نے اطاعت کی انہوں نے ہدایت کا راستہ تلاش کرلیا

تفسیر:

الجن : ١٤ میں فرمایا : ( جنات نے کہا) اور بےہم میں سے چند اطاعت گزار ہیں اور کچھ سرکش ہیں، سو جنہوں نے اطاعت کی، انہوں نے ہدایت کا راستہ اختیار کرلیا۔

یعنی قرآن مجید کی آیات سننے کے بعد ہم میں اختلاف ہوگیا، ہم میں سے بعض اسلام لے آئے اور بعض کفر پر برقرار رہے، اس آیت میں ” الفاسطون “ کا لفظ ہے، اس کا واحد ” القاسبط “ ہے، اس کا معنی ہے : ظالم کیونکہ وہ حق سے عدول کرنے والا ہوتا ہے، اور ” المقسط “ کا معنی ہے : عادل، کیونکہ اس میں باب افعال کا ہمزہ سلب مآخذ کے لیے ہے یعنی ظلم کی نفی کرنے والا اور ایسا شخص حق کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس آیت میں ” تحروا “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے، حق کے راستہ کا قصد کرنا ہی مفہوم میں تحری قبلہ کے الفاظ بولے جاتے ہیں۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 14