أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبۡدُ اللّٰهِ يَدۡعُوۡهُ كَادُوۡا يَكُوۡنُوۡنَ عَلَيۡهِ لِبَدًا ۞

ترجمہ:

اور جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وہ جتھا بن کر اس پر پل پڑتے ؏

آپ کی عبادت کو دیکھنے کے لیے ہجوم کی متعدد تفاسیر

الجن : ١٩ میں فرمایا : اور جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وہ جتھا بن کر اس پر پل پڑتے۔

اس آیت میں ” لبدا “ کا لفظ ہے، یہ ” لبدۃ “ کی جمع ہے، اس کا معنی ہے : ٹھٹ کے ٹھٹ، ہجوم، بھیڑ، جماعت درجماعت۔

اس پر مفسرین کا اتفاق ہے کہ اس آیت میں عبد اللہ سے مراد ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، البتہ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے یا جنات کا قول ہے۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہونے کی صورت میں اس آیت کے تین محمل ہیں۔

(١) اللہ عزوجل کا مقدس بندہ نماز فجرپڑھنے کے لیے کھڑا ہوا تھا، اس وقت ان کے پاس جنات آئے اور وہ آپ سے قرآن مجید کی تلاوت سننے لگے اور جنات نے آپ کے گرد جمگھٹا بنا لیا، وہ آپ کی عبادت کرنے پر اور قیام، رکوع اور سجود میں آپ کے اصحاب کی آپ کی اقتداء کرنے پر تعجب کر رہے تھے، کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے ایسا منظر نہیں دیکھا تھا اور نہ اس سے پہلے قرآن مجید کی مثل کوئی کلام سنا تھا۔

(٢) مکہ میں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین مکہ کی مخالفت کر کے بتوں کی پرستش کے بجائے اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت کرتے تو مشرکین آپ کی عداوت میں آپ کے گرد جمع ہوجاتے اور یوں لگتا جیسے وہ عنقریب آپ پر حملے کردیں گے۔

(٣) قتادہ نے کہا : جب آپ عبادت کے لیے کھڑے ہوتے تو تمام انسان اور جنات آپ کی مخالفت میں مجتمع ہوجاتے اور حق کو مٹانے اور اسلام کا نور بجھانے کے لیے ایک دوسرے کی حمایت کرتے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے اعداء کے خلاف آپ کی نصرت کی اور آپ کے مخالف خائب و خاسر ہوگئے۔

اور اگر اس آیت میں جنات کے قول کا ذکر فرمایا ہو تو اس کا معنی یہ ہے : جب اللہ کا بندہ اللہ کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے تو پھر یہ کفار کیوں اس کے گرد جمع ہو کر اس کو اللہ سبحانہٗ کی عبادت سے روکنے کا قصد کرتے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 19