أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّاَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا ۞

ترجمہ:

اور بیشک مساجد اللہ کی ( عبادت کے لیے) ہیں تو اس کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو۔

الجن : ١٨ میں فرمایا : اور بیشک مساجد اللہ ( کی عبادت) کے لیے ہیں تو اس کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو۔

مسجد میں ادا کی جانے والی عبادات اور اطاعت

اس آیت میں مساجد سے مراد وہ عمارتیں ہیں جن کو تمام ادیان اور مذاہب والے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بناتے ہیں۔

سعید بن جبیر نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھنا : ہمارے لیے مساجد میں آنا اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنا کیسے ممکن ہوگا جب کہ ہم آپ سے بعید ہوتے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی کہ مساجد کو اللہ کے ذکر اور اس کی عبادت کے لیے بنایا گیا ہے۔

حسن بصری نے کہا : مساجد سے مراد تمام روئے زمین ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے مسجد بنادیا یہ، حدیث میں ہے :

تمام روئے زمین کو میرے لیے مسجد اور آلہ تمیم بنادیا گیا ہے۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٢٢، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٣٠، سنن بیہقی ج ١ ص ٢١٢)

سعید بن المسیب اور طلق بن حبیب نے کہا : مساجد سے مراد وہ اعضاء ہیں جن پر بندہ سجدہ کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ ان اعضاء کی نعمت مجھے صرف اللہ سبحانہٗ نے عطاء کی، سو میں ان اعضاء سے صرف اللہ وحدہٗ لا شریک کے لیے سجدہ کروں گا، عطاء نے کہا : تمہاری مساجد تمہارے وہ اعضاء ہیں جن پر تمہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، سو تم ان اعضاء کو غیر خالق کے لیے ذلیل نہ کرو، حدیث میں ہے :

حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں، پیشانی پر، ہاتھوں پر، گھٹنوں پر اور قدموں کے سروں پر۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨١٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٤، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٠٩٥)

نیز حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٩١، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٨٩١، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٧٢، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٠٩٣)

احادیث میں مساجد کا اطلاق خصوصیت کے ساتھ تین مساجد پر کیا گیا ہے : مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد بیت المقدس۔

حدیث میں ہے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین مساجد کے علاوہ اور ( کسی مسجد کی طرف) سامان سفر نہ باندھا جائے، مسجد حرام، مسجد رسول اور مسجد اقصیٰ (صحیح البخاری رقم الحدیث ١١٨٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٩٧، موطأ امام مالک رقم الحدیث : ٢٤٣ )

نیز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری اس مسجد میں نماز پڑھنا دیگر مساجد میں نماز پڑھنے، سے ہزار گناہ افضل ہے سوا مسجد حرام کے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٩٠، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٥، سنن بیہقی ج ٥ ص ٢٤٦ )

نیز احادیث میں دیگر مساجد پر بھی مسجد کا اطلاق کیا گیا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اضمار شدہ گھوڑوں کا الحفیاء سے ثنیۃ الوداع تک مقابلہ کرایا، اور غیر اضمار شدہ گھوڑوں کا ثنیۃ الوداع سے لے کر مسجد بنوزیق تک مقابلہ کرایا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٢٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٧٠، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٥٧٥)

اضمار شدہ گھوڑوں سے ایسے گھوڑے مراد ہیں جن کو پہلے دو تین دن خوب کھلایا پلایا جائے، پھر دو تین دن بھوکا رکھا جائے تاکہ ان کی طاقت برداشت اور جفاکشی زیادہ ہوجائے۔

نیز اس آیت میں فرمایا ہے : تو اس کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو۔

عبادت کے اندر اللہ تعالیٰ کے دیگر احکام کی اطاعت بھی داخل ہے، مثلاً مساجد میں مال غنیمت کو تقسیم کرنا بھی جائز ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بحرین سے مال آیا، آپ نے فرمایا : اس مال کو مسجد میں پھیلا دو ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جس قدر اموال غنیمت آئے تھے، یہ ان میں سب سے زیادہ مال تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں نماز پڑھانے گئے اور آپ نے اس مال کی طرف بالکل توجہ نہیں فرمائی، نماز پڑھانے کے بعد آپ اس مال کے پاس آ کر بیٹھ گئے، پھر آپ جس کو بھی دیکھتے اس مال میں سے عطاء فرماتے، اتنے میں حضرت عباس (رض) آئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے بھی مال عطاء کیجئے کیونکہ میں نے اپنی جان کا فدیہ بھی دیا تھا اور عقل کی جان کا فدیہ بھی دیا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ اس مال میں سے لے لیں، حضرت عباس نے کپڑا بچھایا اور اس ڈھیر سے مال اٹھا اٹھا کر اس کپڑے پر رکھنے لگے، پھر اس گٹھڑکو اٹھانا چاہا تو اس کو نہ اٹھا سکے، پھر انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! کسی کو حکم دیں وہ اس گٹھڑ کو میری طرف اٹھا دے، آپ نے فرمایا : نہیں، حضرت عباس نے کہا : پھر آپ خود اٹھا دیں، آپ نے فرمایا : نہیں ! آپ خود اٹھائیں۔ حضرت عباس نے اس سے کچھ مال کم کیا اور کچھ اور مال اس میں رکھا، حتیٰ کہ پھر اس کی چوٹی بن گئی، انہوں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کسی سے کہیں کہ وہ اس مال کو اٹھا کر مجھ پر رکھ دے، آپ نے فرمایا : نہیں، انہوں نے کہا : پھر آپ خود اٹھا کر رکھ دیں، آپ نے فرمایا : نہیں، پھر انہوں نے اس میں سے کچھ مال کم کیا، پھر اس گٹھڑ کو اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیا، پھر وہ چلے گئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظر کافی دیر تک ان کا تعاقب کرتی رہی، حتیٰ کہ وہ نظر سے اوجھل ہوگئے، آپ کو ان کی حرص پر تعجب ہو رہا تھا، پھر جب تک اس مال میں سے ایک درہم بھی باقی تھا آپ اس جگہ سے نہیں اٹھے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٢١ )

اسی طرح مسجد میں لوگوں کو فقراء پر صدقہ کرنے کی ترغیب دینا بھی جائز ہے اور فقراء پر صدقہ کرنا بھی جائز ہے، حدیث میں ہے :

حضرت جریر بن عبد اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ مسجد میں کچھ فقراء آئے، جو ننگے پیر اور ننگے بدن تھے، انہوں نے اپنے گلوں میں کفنیاں یا عبائیں پہنی ہوئی تھیں، ان سب کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا ان کے فقر و فاقہ کو دیکھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ انور متغیر ہوگیا، آپ اندر گئے، پھر باہر آئے، اور حضرت بلال (رض) کو اذان دینے کا حکم دیا، پھر انہوں نے اقامت کہی اور آپ نے ( ظہر کی) نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا اور یہ آیات تلاوت فرمائیں :

یٰٓـاَََیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ اِنَّ اللہ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔ (النساء : ١)

اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ہے، ( الیٰ قولہ تعالیٰ ) بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے۔

اتَّقُوا اللہ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَد (الحشر : ١٨) اللہ سے ڈرو ! اور انسان کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ وہ کل آخرت کے لیے کیا بھیج رہا ہے۔

( آپ نے فرمایا :) ایک شخص اپنے دینار سے صدقہ کرے، اپنے درہم سے صدقہ کرے، اپنے کپڑے سے صدقہ کرے، چار کلو گندم سے صدقہ کرے، چار کلو کھجور سے صدقہ کرے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کو صدقہ کرے، پھر انصار میں سے ایک شخص تھیلی اٹھا کر لائے جس کے بوجھ سے ان کا ہاتھ تھکا جا رہا تھا، اس کے بعد صدقہ دینے والے لوگوں کا تانبا بندھ گیا، یہاں تک کہ میں نے غلے اور کپڑوں کے دو ڈھیر دیکھے، میں نے دیکھا کہ اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ خوشی سے اس طرح تمتما رہا تھا جیسے آپ کا چہرہ سونے کا ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر وہ شخص جو اسلام میں کسی نیک کام کی ابتداء کرتا ہے، اس کو اپنے نیک کام کا بھی اجر ملے گا اور بعد میں اس نیکی پر عمل کرنے والوں کا بھی اجر ملے گا، اور ان عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور ہر وہ شخص جس نے اسلام میں کسی برے عمل کی ابتداء کی اس کو اپنے برے عمل کا بھی گناہ ہوگا اور بعد میں اس برائی پر عمل کرنے والوں کا بھی گناہ ہوگا اور ان برے عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠١٧، سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٥٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٣)

حضرت عبد الرحمان بن ابوبکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم میں سے آج کسی نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : میں مسجد میں داخل ہوا تو ایک سائل سوال کر رہا تھا، میں نے عبد الرحمان کے ہاتھ میں ایک روٹی کا ٹکڑا دیکھا، میں نے عبد الرحمان سے لے کر اس سائل کو روٹی کا ٹکڑا دے دیا۔

( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٦٧٠، المستدرک ج ١ ص ٤١٢، طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ١٥٠١ طبع جدید)

مسجد میں مقروض اور قیدی کو باندھنا بھی جائز ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑ سواروں کی ایک جماعت کو نجد کی طرف بھیجا، وہ بنو حنیفہ کے ایک شخص کو لے کر آئے، اس کا نام ثمامہ بن اثال تھا، پھر انہوں نے اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٦٩، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٦٧٩، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٨٩)

مسجد میں بیمار کو ٹھہرانا اور ان کی عیادت کرنا بھی جائز ہے۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں : جنگ خندق کے دن حضرت سعد بن معاذ (رض) کا کندھا زخمی ہوگیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا، تاکہ نزدیک سے ان کی عیادت کرلیں اور مسجد میں بنو غفار کا بھی خیمہ تھا مسلمان صرف اس چیز سے گھبرا گئے کہ ان کی طرف خون بہہ کر آ رہا تھا، انہوں نے کہا اے خیمے والو ! تمہاری طرف سے ہمارے پاس کیا چیز بہہ کر آرہی ہے ؟ دیکھا تو حضرت سعد کے زخم سے خون بہہ رہا تھا اور وہ اسی میں فوت ہوگئے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٣، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣١٠١، سنن نسائی رقم الحدیث : ٧١٠)

مسجد میں برے کام کی مذمت میں احادیث

نیز اس آیت میں فرمایا ہے : تو اس کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو۔

اس آیت کے اس حصہ میں مشرکین کی مذمت کی ہے جو مسجد حرام میں اللہ سبحانہٗ کو چھوڑ کر اپنے خود ساختہ بتوں کو اپنی حاجات میں پکارا کرتے تھے اور ان بتوں کی عبادت کرتے تھے، مجاہد نے کہا کہ جب یہود اور نصاریٰ اپنے گرجوں اور اپنے کلیسائوں میں داخل ہوتے تو اللہ سبحانہٗ کے ساتھ شرک کیا کرتے تھے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مؤمنوں کو یہ حکم دیا کہ وہ جب کسی بھی مسجد میں داخل ہوں تو صرف اللہ عزوجل کو اپنی حاجات میں پکاریں، اسی کی عبادت کریں اور صرف اسی سے دعا کریں، گویا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم مسجد میں کسی بت یا کسی خود ساختہ معبود کی عبادت نہ کرو اور نہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو حقیقی حاجت روا سمجھ کر پکارو اور نہ اپنی عبادت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا حصہ رکھو اور نہ کسی اور کو شریک کرو۔

اور نہ مسجد میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے احکام کی اطاعت کے سوا کسی اور کام کو کیا جائے۔ حدیث میں ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنی گم شدہ چیز کا مسجد میں اعلان کیا : تم کہو : اللہ تمہاری اس چیز کو واپس نہ کرے کیونکہ مساجد کو اس لیے نہیں بنایا گیا۔

( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٦٨، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٧٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٥٦٧، مسند احمد ج ٢ ص ٣٤٩ )

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے اس بدبودار درخت کی کوئی چیز کھائی ( لہسن یا پیاز) وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو ان چیزوں سے ایذاء پہنچتی ہے جن چیزوں سے انسانوں کو ایذاء پہنچتی ہے۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٥٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٦٤، مسند احمد ج ٣ ص ٣٧٤)

امام نسائی کی روایت میں لہسن، پیاز اور گندنے کا ذکر ہے۔ ( سنن نسائی رقم الحدیث ٧٠٧) بیڑی، سگریٹ، حقہ اور نسوار کا بھی یہی حکم ہے۔

عمرو بن شعیب اپنے والد سے ( حضرت عبد اللہ بن عمرو) سے اور وہ اپنے دادا ( حضرت عمرو بن العاص) (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں ( غیر شرعی) اشعار پڑھنے سے منع فرمایا اور مسجد میں خریدو فروخت کرنے سے منع فرمایا اور جمعہ کی نماز سے پہلے مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٠٧٩، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٢، سنن نسائی رقم الحدیث : ٧١٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٤٩ )

حسن بصری سے مرسلا ًروایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ اپنی مسجدوں میں دنیاوی باتیں کریں گے، تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو، اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ ( مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٧٤٣ )

حضرت ابو الدرداء، حضرت ابو امامہ اور حضرت واثلہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : تم اپنی مسجدوں کو اپنے بچوں، اپنے پاگلوں، اپنے جھگڑوں سے اور اپنی بلند آوازوں سے دور رکھو، اور اپنی سونتی ہوئی تلواروں سے اور اپنی حدود کو قائم کرنے سے دور رکھو اور ہر سات دن بعد مسجد میں دھونی دو ( خوشبو پھیلائو) اور وضو کے آلات مسجدوں کے دروازوں پر رکھو (العلل المتناہیہ رقم الحدیث : ٦٧٧، اس حدیث کی سند ضعیف ہے)

مسجد میں نیک اعمال کرنے کی فضلیت میں احادیث

حضرت ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھے۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٠٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧١٤، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٦٧، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣١٦، سنن نسائی رقم الحدیث : ٧٣٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٢٤، سنن دارمی رقم الحدیث : ١٣٩٣، موطأ امام مالک رقم الحدیث : ٥٧، مسند احمد ج ٥ ص ٢٩٥)

حضرت کعب بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی دن کے وقت سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر اس میں بیٹھتے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٠٨٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧١٦، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٧٨١، سنن نسائی رقم الحدیث : ٧٣٢، سنن دارمی رقم الحدیث : ١٥٢٠، مسند احمد ج ٦ ص ٣٨٦)

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو لوگ اندھیروں میں پیدل چل کر مسجد میں آتے ہیں، انہیں قیامت کے دن بھر پور نور کی بشارت دے دو ۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٦١، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٢٣ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم جنت کی کیا ریوں کے پاس سے گزرو تو چر لیا کرو، پوچھا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جنت کی کیا ریاں کیا چیز ہیں ؟ آپ نے فرمایا : مساجد، پوچھا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان میں چرنا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :” سبحان اللہ والحمد للہ والا الہ الا اللہ واللہ اکبر “ پڑھنا۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٥٠٩)

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صبح کی نماز پڑھانے کافی دیر سے آئے، حتیٰ کہ قریب تھا کہ ہم سورج کو نکلتا ہوا دیکھ لیتے، پھر آپ جلدی جلدی آئے، پس نماز کی اقامت کہی گئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اختصار کے ساتھ نماز پڑھائی، آپ نے سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے دعا کی، اور ہم سے فرمایا : تم اسی طرح اپنی اپنی صفوں میں بیٹھے رہو جس طرح بیٹھے ہو، پھر ہماری طرف مڑ کر فرمایا : میں اب تمہیں بتائوں گا کہ مجھے صبح آنے میں کیوں دیر ہوگئی، میں رات کو اٹھا، میں نے وضو کیا اور جتنی نماز میرے مقدر میں تھی میں نے اتنی نماز پڑھی، پھر مجھے نماز میں اونگھ آگئی، حتیٰ کہ نیند آگئی، پس میں نے اچانک رب تبارک و تعالیٰ کو نہایت حسین صورت میں دیکھا، پس رب نے فرمایا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے کہا : اے میرے رب ! میں حاضر ہوں، فرمایا : مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا : میں از خود نہیں جانتا، اس طرح تین مرتبہ فرمایا، پھر میں نے دیکھا کہ میرے رب نے اپنی ہتھیلی میرے دو کندھوں کے درمیان رکھ دی، حتیٰ کہ میں نے اس کی پوروں کی ٹھنڈک اپنے سینہ کے درمیان محسوس کی، پھر ہر چیز میرے لیے منکشف ہوگئی اور میں نے جان لیا، پھر فرمایا : اے محمد ! میں نے کہا : اے میرے رب ! میں حاضر ہوں، فرمایا : مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا : کفارات میں، فرمایا : کفارے کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا : پیدل چل کر نماز کے لیے جانا، نماز پڑھنے کے بعد مسجد میں بیٹھنا، تکلیف کے وقت کامل وضو کرنا، فرمایا : پھر کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا : درجات میں، فرمایا : وہ کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا : کھانا کھلانا، نرمی سے بات کرنا اور اس وقت نماز پڑھنا جب لوگ سوئے ہوئے ہوں، پھر فرمایا : دعا کرو اور کہو : اے اللہ ! میں تجھ سے نیک کاموں کے کرنے کا اور برے کاموں سے بچنے کا سوال کرتا ہوں اور مسکینوں سے محبت کرنے کا اور یہ کہ تو مجھ کو معاف فرما اور مجھ پر رحم فرمام اور جب تو کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے فتنہ سے بچا کر اٹھا لینا، اور میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور ان کی محبت کا جن سے تو محبت کرے اور اس عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھ کو تیری محبت کے قریب کر دے، آپ نے فرمایا : یہ کلمات برحق ہیں، تم ان کو یاد کرلو اور دوسروں کو سکھائو، اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کر کے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے، میں نے اس حدیث کے متعلق امام محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ حدیث صحیح ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٣٥)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مرد کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا ایک نماز ہے اور اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا پچیس نمازیں ہیں اور جامع مسجد میں نماز پڑھنا پانچ سو نمازیں ہیں اور مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازیں ہیں، اور میری اس مسجد میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازیں ہیں اور مسجد حرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ نمازیں ہیں۔ ( سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١١٤١٣)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : اے اللہ ! جتنی برکتیں مکہ میں نازل فرمائی ہیں، مدینہ میں اس سے چار گنا برکتیں نازل فرما۔ ( صحیح البخاری : ١٨٨٥) اور مکہ میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازیں ہیں تو مدینہ میں ایک نماز کا ثواب کم از کم تین لاکھ نمازیں ہونا چاہیے۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے :” اعوذ باللہ العظیم و بوجھہ الکریم و سلطانہ القدیم من الشیطان الرجیم “ فرمایا : جب بندہ یہ دعا پڑھ لے تو شیطان کہتا ہے : یہ سارے دن کے لیے مجھ سے محفوظ ہوگیا۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٦٦ )

القرآن – سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 18