وَّ اَنَّهٗ كَانَ يَقُوۡلُ سَفِيۡهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًا سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 4
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَّ اَنَّهٗ كَانَ يَقُوۡلُ سَفِيۡهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًا ۞
ترجمہ:
اور ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے متعلق ناحق باتیں کہا کرتے تھے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( جنات نے کہا) اور ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے متعلق ناحق باتیں کہا کرتے تھے۔ اور ہم یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ کے اوپر کوئی جھوٹ نہیں باندھتا۔ اور بیشک انسانوں میں سے چند لوگ جنات کی پناہ طلب کرتے تھے، اس سے جنات کی سرکشی زیادہ ہوگئی۔ اور جنات نے بھی یہ گمان کرلیا جیسے تمہارا گمان ہے کہ اللہ مرنے کے بعد کسی کو زندہ نہیں کرے گا۔ ( الجن : ٧۔ ٤)
جنات کا اپنے جرائم کا اعتراف کر کے ان سے برأت کا اظہار کرنا
الجن : ٤ میں ” سفینہ “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : کم عقل اور ” سلطط “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : ظلم میں حد سے تجاوز جنات میں سے جو مشرکین تھے، وہ کہتے تھے، وہ کہتے تھے کہ اللہ سبحانہٗ کی بیوی بھی ہے اور بیٹا بھی ہے، یہ ان کی جہالت اور کم عقلی بھی تھی اور ظلم میں حد سے تجاوز کرنا بھی تھا۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 4