اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِسٰلٰتِهٖ ؕ وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا – سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 23
sulemansubhani نے Monday، 29 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِسٰلٰتِهٖ ؕ وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ۞
ترجمہ:
مگر اللہ کی طرف سے پیغامات کو پہنچانا میرے ذمہ ہے، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو بیشک اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔
الجن : ٢٣ میں فرمایا : مگر اللہ کی طرف سے پیغامات کو پہنچانا میرے ذمہ ہے۔ الایۃ
اس آیت کا معنی ہے : مجھے کوئی چیز کسی عذاب یا کسی مصیبت سے بچا نہیں سکتی، سوا اس کے کہ میں اللہ کے اس پیغام کو پہنچائوں جس کو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے، کیونکہ اللہ کے پیغام کو پہنچانا اللہ ہی کی طرف سے ہے اور اس کی اعانت اور اس کی توفیق سے ہے۔
اس کے بعد فرمایا : اور جو اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی کرے گا تو بیشک اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔
گناہ گار مسلمانوں کی عدم مغفرت پر معتزلہ کا استدلال اور اس کے جوابات
معتزلہ نے اس آیت کے اس حصہ سے یہ استدلال کیا ہے کہ جو مسلمان گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو اور وہ بغیر توبہ کے مرجائے تو وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ دوزخ کی آگ میں رہے گا کیونکہ وہ بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والے کا مصداق ہے اور جس طرح کافر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا، اس طرح فاسق مسلمان بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا، ان کے اس استدلال کے حسب ذیل جوابات ہیں :
(١) امام رازی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اس آیت کا آخری حصہ اس آیت کے پہلے حصہ سے مربوط ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ جو شخص اللہ کا پیغام پہنچانے میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا یعنی اللہ کا صحیح پیغام نہیں پہنچائے گا، وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔
(٢) امام رازی نے دوسرا یہ جواب دیا ہے کہ جو شخص ہر حکم میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا، وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور ہر حکم میں اللہ اور رسول پر ایمان لانے کا بھی حکم شامل ہے اور جو اس حکم کی بھی نافرمانی کرے گا، وہ مسلمان ہی نہیں ہوگا، لہٰذا یہ آیت مومن مرتکب کبیرہ کو شامل نہیں ہے۔
(٣) جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو کم درجہ کا اور معمولی سمجھ کر اس حکم کی نافرمانی کرے گا، وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا کیونکہ ایسا شخص مسلمان نہیں رہے گا۔
(٤) جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی نافرمانی کو حلال اور جائز سمجھ کر اس کی نافرمانی کرے گا وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔
(٥) جو شخص بہ طور اہانت اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا، وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا، کیونکہ مؤخر الذکر دونوں صورتوں میں وہ مسلمان ہی نہیں رہے گا۔
القرآن – سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 23