حَتّٰٓى اِذَا رَاَوۡا مَا يُوۡعَدُوۡنَ فَسَيَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَضۡعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا – سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 24
sulemansubhani نے Monday، 29 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حَتّٰٓى اِذَا رَاَوۡا مَا يُوۡعَدُوۡنَ فَسَيَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَضۡعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا ۞
ترجمہ:
( یہ کفار اس وقت تک نہیں مانیں گے) حتیٰ کہ یہ اس عذاب کو دیکھ لیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے سو یہ عنقریب جان لیں گے کہ کس کے مددگار بہت کم زور اور شمار میں بہت کم ہیں.
الجن : ٢٤ میں فرمایا : (یہ کفار اس وقت تک نہیں مانیں گے) حتیٰ کہ یہ اس عذاب کو دیکھ لیں، جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے، سو یہ عنقریب جان لیں گے کہ کس کے مددگار بہت کم زور اور شمار میں بہت کم ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک کفار کی ذلت اور مؤمنوں کی عزت اور وجاہت
کفار مکہ آپ کی عداوت میں اکٹھے ہو کر آپ کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور آپ کی نصرت کرنے والے مسلمانوں کو بہت قلیل اور کم زور سمجھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ کل قیامت کے دن ان کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کا عدد کم ہے اور کون کم زور ہے یاد دنیا میں ہی ان کو غزوہ بدر سے علم ہوجائے گا کہ کون سا گروہ قوی ہے اور کون سا گروہ کمزور ہے۔
قیامت کے دن کفار بہت خوارد اور زبوں ہوں گے، ذلت اور رسوائی میں مبتلا ہوں گے، اس دن ان کا کوئی حامی اور مددگار ہوگا اور نہ ان کا کوئی شفاعت کرنے والا ہوگا اور اسکے بر خلاف مسلمان بہت عزت اور کرامت کے ساتھ ہوں گے، انبیاء مرسلین اور فرشتے ان کی شفاعت کریں گے، قرآن مجید میں ہے :
فَاِذَا جَآئَ تِ الصَّآخَّۃُ ۔ یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ ۔ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ ۔ لِکُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ ۔ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ۔ ضَاحِکَۃٌ مُّسْتَبْشِرَۃٌ۔ وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْہَا غَبَرَۃٌ۔ تَرْہَقُہَا قَتَرَۃٌ۔ اُولٰٓـئِکَ ہُمُ الْکَفَرَۃُ الْفَجَرَۃُ ۔ (عبس : ٣٣۔ ٤٢ )
پس جب کان بہرے کردینے والی ( قیامت) آجائے گی اس دن انسان اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ ان میں سے ہر انسان کو اس دن صرف اپنی فکر ہوگی جو اس کو کافی ہو۔ اس دن بہت سے چہرے روشن ہوں گے۔ مسکراتے ہوئے ہشاش بشاش۔ اور بہت سے چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے۔ ان پر سیاہی چڑھی ہوئی ہوگی یہی لوگ کافر بدکار ہیں۔
نیز قرآن مجید میں ہے :
وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ۔ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ۔ وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍم بَاسِرَۃٌ۔ تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ۔ (القیامہ : ٢٢۔ ٢٥ )
اس دن بہت سے چہرے تر و تازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دکھ رہے ہوں گے۔ اور کتنے چہرے اس دن بےرونق اور اداس ہوں گے وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ انکے ساتھ کمر توڑ دینے والا معاملہ کیا جائے گا۔
نیز مؤمنین کی عزت افزائی کے متعلق فرمایا :
وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْہِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ ۔ سَـلٰـمٌ عَلَیْکُمْ (الرعد : ٢٣۔ ٢٤ )
اور فرشتے مؤمنوں کے پاس ہر دروازے سے داخل ہوں گے ( اور کہیں گے) سلام علیکم۔
اور اللہ عزوجل بھی ان کو سلام کہے گا :
سَلٰمٌقف قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ ۔ (یٰسین) رب رحیم کی جانب سے سلام کہنا ہے.
القرآن – سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 24