أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عٰلِمُ الۡغَيۡبِ فَلَا يُظۡهِرُ عَلٰى غَيۡبِهٖۤ اَحَدًا ۞

ترجمہ:

وہ ہر غیب کا جاننے والا ہے، سو وہ اپنے ہر غیب پر کسی کو مکمل مطلع نہیں فرماتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ ہر غیب کا جاننے والا ہے سو وہ اپنے ہر غیب پر کسی کو مکمل مطلع نہیں فرماتا۔ ماسوا ان کے جن کو اس نے پسند فرما لیا ہے جو اس کے ( سب) رسول ہیں، سو وہ اس رسول کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر فرما دیتا ہے۔ تاکہ اللہ اس بات کو ظاہر فرما دے کہ بیشک ان سب رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے ہیں، اور جو کچھ ان کے پاس یہ اس سب کا اللہ نے احاطہ فرما لیا ہے اور اس نے ہر چیز کا شمار کرلیا ہے۔ ( الجن : ٢٨۔ ٢٦ )

غیب کا لغوی اور اصطلاحی معنی

اس آیت میں ” غیب “ کا لفظ ہے، غیب کا لغوی معنی ہے : جو چیز حاضر نہ ہو، اور غیب کا اصطلاحی معنی ہے : جس چیز کا حواس خمسہ اور ہدایت عقل سے یعنی بغیر غور و فکر کے ادراک نہ کیا جاسکے وہ غیب ہے، جیسے اللہ عزوجل کی ذات، ہم اللہ تعالیٰ کو حواس خمسہ سے جان سکتے ہیں اور نہ بغیر غور و فکر کے جان سکتے ہیں، البتہ غور و فکر کر کے یہ جان سکتے ہیں کہ یہ جہان حادث ہے اور ہر حادث کا کوئی محدث اور موجد ہوتا ہے، پس ضروری ہے کہ اس جہان کا بھی کوئی موجد ہو، اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ موجد واجب اور قدیم ہو کیونکہ اگر وہ ممکن اور حادث ہو تو اس کے لیے پھر کوئی موجد ماننا پڑے گا، اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ موجد واحد ہو کیونکہ اگر اس جہان کے متعدد موجد ہوں تو اس جہان کی تخلیق کے نظام میں یکسانیت نہیں ہوگی اور چونکہ اس جہان کی تخلیق میں یکسانیت ہے، اس لیے ماننا پڑے گا کہ اس جہان کا خالق واحد ہے، پس غورو فکر کرنے سے معلوم ہوگیا کہ اس جہان کا موجد واجب، قدیم اور واحد ہے اور اللہ سبحانہٗ کی یہی شان ہے، پس ہم غورو فکر کر کے اللہ عزوجل کو جان لیتے ہیں اور بغیر غور و فکر کے اللہ تعالیٰ کو نہیں جان سکتے، سو اللہ تعالیٰ غیب ہے۔

اسی طرح ہم جنت اور دوزخ کو حواس خمسہ سے نہیں جان سکتے، نہ ان کو دیکھ سکتے ہیں، نہ ان کی آواز سن سکتے ہیں، نہ ان کی کسی چیز کو چکھ سکتے ہیں، نہ ان کو سونگھ سکتے ہیں، نہ ان کو چھو سکتے ہیں، نہ بغیر غور و فکر کے عقل سے ان کو جان سکتے ہیں، البتہ غور و فکر کرکے یہ جان سکتے ہیں کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزاروں اور نافرمانوں میں فرق ہونا چاہیے، سو اطاعت گزاروں کے لیے انعام ضروری ہے اور نافرمانوں کے لیے سزا ضروری ہے اور انعام کا محل جنت ہے اور سزا کا محل دوزخ ہے، سو ہم عقل سے غور و فکر کر کے جنت اور دوزخ کو جان سکتے ہیں، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ اس دنیا میں ظلم کرتے کرتے مرجاتے ہیں اور ان کو اس دنیا میں ان کے ظلم پر کوئی سزا نہیں ملتی، اور بہت لوگ اس دنیا میں ظلم سہتے سہتے مرجاتے ہیں اور ان کو ان کی مظلومیت کے اوپر کوئی جزا نہیں ملتی، تو اگر اس جہان کے بعد کوئی اور جہان نہ ہو تو ظالم بغیر سزا کے رہ جائے گا اور مظلوم بغیر جزاء کے رہ جائے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس جہان کے بعد کوئی اور جہان بھی ہو، جس میں ظالم کو دوزخ میں اور مظلوم کو جنت میں داخل کیا جائے، پس اس طرح ہم عقل سے غور و فکر کر کے جنت اور دوزخ کو جان لیتے ہیں مگر بغیر غور و فکر کے ہم جنت اور دوزخ کو نہیں جان سکتے، اس لیے جنت اور دوزخ بھی غیب ہیں، جس طرح اللہ عزوجل کی ذات غیب ہے۔

غیب کی دو قسمیں ذاتی اور عطائی

غیب کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ غیب ہے، جس کو جاننے کا کوئی سبب اور ذریعہ ہو، خواہ اس کا سبب عقل ہو یا اللہ تعالیٰ کی وحی اور اس کی دی ہوئی خبر ہو، مثلاً ہم نے جنت اور دوزخ کے وجود کو عقل کے ذریعہ جانا، لیکن جنت میں ثواب کی تمام تفاصیل اور دوزخ میں عذاب کی تمام اقسام کو محض عقل سے نہیں جانا جاسکتا، ان کے علم کا ذریعہ صرف اللہ تعالیٰ کی وحی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں پر وحی فرماتا ہے اور انبیاء (علیہم السلام) اپنی امتوں کو خبر دیتے ہیں، اور غیب کی دوسری قسم وہ ہے جس کے جاننے کا کوئی ذریعہ نہ ہو، اس غیب کو عقل سے جانا جاسکتا ہو نہ وحی سے، جیسے اللہ تعالیٰ کے علوم غیر متناہیہ، ان کو علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور مخلوق کے لیے اس کے علم کی کوئی سبیل نہیں ہے، اس غیب کو ذاتی کہتے ہیں اور غیب کی پہلی قسم کو غیب عطائی کہتے ہیں، ان کو علم غیب ذاتی اور علم غیب عطائی بھی کہتے ہیں، اس کی یہ تعریف بھی ہے کہ جو غیب تعلیم اور بتانے کے بغیر ہو وہ غیب ذاتی ہے، نہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔

اللہ تعالیٰ کے غیر پر عالم الغیب کا اطلاق جائز نہیں

ہمارے نزدیک عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے، ہرچند کہ اللہ تعالیٰ کی وحی اور الہام کے ذریعہ سے انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کو بھی علم غیب ہوتا ہے، بلکہ عام مسلمانوں کو بھی علم غیب ہوتا ہے کیونکہ ہر مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات، فرشتوں اور جنت اور دوزخ کا علم ہے، اور چونکہ یہ سب امور غیب ہیں اس لیے ان کا علم، علم غیب ہے لیکن عرف شرع میں عالم الغیب اللہ تعالیٰ کی صفت مخصوصہ ہے، اس لیے خواہ عام مسلمانوں کو علم غیب حاصل ہو لیکن ان کو عالم الغیب کہنا جائز نہیں ہے، جیسے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عزیز اور جلیل ہیں لیکن محمد عزوجل کہنا جائز نہیں ہے اور جیسے آپ صاحب برکت اور صاحب عل وہیں لیکن محمد تبارک و تعالیٰ کہنا جائز نہیں ہے۔

الجن : ٢٦ میں اظہار بہ معنی اطلاع کتب لغت سے

اس آیت میں ایک لفظ ہے : ” فلا یظھر “ علامہ حسین بن محم راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ ” یظھر “ کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

” ای لا یطلع علیہ “ یعنی اللہ تعالیٰ اس غیب پر کسی کو مطلع نہیں فرماتا، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ( التوبہ : ٣٣) تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو ہر دین غالب کر دے۔

اس آیت میں ” لیظھر “ کا معنی ظہور بھی صحیح ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو تمام دینوں پر ظاہر کر دے، اور اس کا معنی معاونت او غلبہ بھی صحیح یہ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو تمام دینوں پر غالب کر دے۔

(المفردات ج ٢ ص ٤١٤، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم ابن منظور الافریقی المصری المتوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں :

واظھرنا اللہ علی الامر ای اطلع۔ اللہ تعالیٰ نے کسی معاملہ کا ہم پر اظہار کیا یعنی ہم کو اس پر مطلع فرما دیا۔

( لسان العرب ج ٩ ص ٢٠٢، دارصادر، بیروت، ٢٠٠٣ ء)

علامہ سید محمد بن مرتضیٰ زبیدی متوفی ٢١٠٥ ھ لکھتے ہیں :

کہا جاتا ہے کہ میری جو چیز چوری ہوئی تھی، اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اس کا اظہار کردیا، یعنی مجھ کو اس پر مطلع کردیا۔

( تاج العروس شرح القاموس ج ٣ ص ٣٧٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت)

الجن : ٢٦ میں اظہار بہ معنی اطلاع کتب تفاسیر سے

مفسرین کرام نے بھی اس آیت میں ” لیظھر “ کا معنی مطلع کرنا کیا ہے۔

علامہ ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ رسولوں کو جس قدر غیب پر مطلع کرنا چاہتا ہے، انہیں مطلع فرماتا ہے۔

ابن زید نے کہا : اللہ تعالیٰ انبیاء پر جتنا چاہتا ہے غیب نازل فرماتا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غیب یعنی قرآن نازل کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں قیامت کے غیب کی خبر دی۔ ( جامع البیان جز ٢٩ ص ١٥١، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ علی بن محمد الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ نے بھی ان دونوں قولوں کو نقل کیا ہے۔ (النکت والعیون ج ٦ ص ١٢٢، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ علی بن احمد الوالحدی المتوفی ٤٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ کو جس غیب کا علم ہے وہ عام لوگوں میں سے کسی کو اس پر مطلع نہیں فرماتا، ما سوار سولوں کے، کیونکہ اس غیب سے ان کی نبوت پر استدلال کیا جاتا ہے، تاکہ وہ معجزہ سے غیب کی خبر دیں، اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ جس کو رسالت اور نبوت کے لیے چن لیتا ہے، اس کو اپنے غیب میں سے جتنا چاہتا ہے مطلع فرماتا ہے۔ ( الوسیط ج ٤ ص ٣٦٩، دارلکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ الحسین بن مسعود البغوی المتوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

وہ عالم الغیب ہے، پس وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں فرماتا ماسوا ان کے جن کو اس نے چن لیا ہے جو اس کے سب رسول ہیں۔ ( معالم التنزیل ج ٥ ص ١٦٣، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

علامہ عبد الرحمان بن علی بن محمد الجوزی الحنبلی المتوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :

علم غیب صرف اللہ کے لیے ہے، پس اس کو جس غیب کا علم ہے وہ اس پر کسی کو مطلع نہیں فرماتا ماسوا ان کے جن کو اس نے پسند فرمایا ہے جو اس کے سب رسول ہیں، اور اس کا معنی یہ ہے کہ جس کو اس نے رسالت کے لیے چن لیا اس کو جتنا چاہتا ہے، اپنے غیب سے مطلع فرماتا ہے۔ ( زاد المسیرج ٨ ص ٣٨٥، مکتب اسلامی، بیروت، ١٤٠٧ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

یعنی اللہ غیب پر صرف چنے ہوئے لوگوں کو مطلع فرماتا ہے، جو اسکے رسول ہیں۔

( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٧٨، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ )

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

پس بیشک اس کو اپنے غیب سے جتنا چاہتا ہے مطلع فرماتا ہے، تاکہ وہ غیب اس کی نبوت پر دلالت کرے۔

قاضی عبد اللہ بن عمرشافعی متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں :

وہ عالم الغیب ہے پس وہ اپنے غیب سے کسی کو مطلع نہیں فرماتا، ماسوا ان کے جن کو اس نے پسند فرما لیا ہے جو اس کے سب رسول ہیں۔ ( تفسیر بیضاوی مع عنایۃ القاضی ج ٩ ص ٣٠١، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٧ ھ)

حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

یہاں یہ فرماتا ہے کہ وہ غیب اور شہادت کا عالم ہے اور اس کی مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے کسی علم پر مطلع نہیں ہوتا، ماسوا ان کے جن کو وہ خود مطلع فرمائے۔ ( تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٤٧٨، دارالفکر، بیروت، ١٤١٩ ھ)

علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ علی الاطلاق علم غیب کے ساتھ منفرد ہے، پس اس کے علم غیب پر مخلوق میں سے کوئی بھی اس طرح کامل مطلع نہیں ہوتا کہ اس کو مکمل انکشاف تام ہوجائے، جس سے علم الیقین واجب ہوجائے، ماسوا ان کے جن کو اس نے چن لیا ہے جو اس کے رسول ہیں تاکہ ان کو وہ اپنے بعض ان غیوب پر مطلع فرمائے جو ان کی رسالت سے متعلق ہوں۔

(روح البیان ج ١٠ ص ٢٣٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)

علامہ ابو اللیث نصر بن محمد الحضی السمر قندی متوفی ٣٧٥ ھ لکھتے ہیں :

وہ اپنی مخلوق میں سے اپنے غیب پر کسی مطلع نہیں فرماتا مگر جس کو اپنی رسالت کے لیے پسند فرما لیتا ہے تو اس کو جس غیب پر چاہتا ہے مطلع فرماتا ہے تاکہ وہ غیب اس کی نبوت پر دلیل ہو۔ ( بحر العلوم، تفسیر سمر قندی ج ٣ ص ٤١٤، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٣ ھ)

الجن : ٢٦ میں اظہار بہ معنی اطلاع کے تراجم

شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی متوفی ٦٩١ ھ اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :

پروردگار زمانے ودر دانند غیب پس آگاہ نسازید بر غیب خود ہیچ کس یکے را مگر آنراک کہ پسند دارد از رسول۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی متوفی ١١٩٦ ھ لکھتے ہیں :

پس مطلع نمے سازد بر علم غیب خود ہیچ یک را مگر کسے کہ پسند کرد اور امراد از پیغمبر است۔

شاہ رفیع الدین محدث دہلی متوفی ١٢٣٣ ھ لکھتے ہیں :

وہ ہی جاننے والا غیب کا پس نہیں خبردار کرتا اور غیب اپنے کے کسی کو مگر جس کو پسند کرتا ہے پیغمبروں میں سے۔

شاہ عبد القادر محدث دہلوی متوفی ١٢٣٠ ھ لکھتے ہیں :

جاننے ولا بھید کا، سو نہیں خبر دیتا اپنے بھید کی مگر جس کو پسند کرلیا کسی رسول کو۔

علامہ سید محمد محدث اعظم ہند کچھوچھوی متوفی ١٣٨٣ ھ لکھتے ہیں :

اور وہ غیب کا جاننے والا ہے تو نہیں مکمل آگاہی دینا غیب پر کسی کو مگر جسے چن لیا رسول سے۔

( معارف القرآن ص ٦٨٩، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

غزالی دوراں علامہ سید احمد سعید کا ظمی متوفی ١٤٠٦ ھ لکھتے ہیں :

وہ غیب جانے والا ( ہے) تو اپنے غیب پر کسی کو ( کامل) اطلاع نہیں دیتا، مگر جنہیں پسند فرما لیا جو اس کے سب رسول ہیں۔ ( البیان ص ٧٤٥۔ ٧٤٤، کا ظمی پبلی کیشنز، ملتان)

پیر محمد کرم شاہ الازہری متوفی ١٩٩٨ ء لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ غیب کو جاننے والا ہے پس وہ آگاہ نہیں کرتا اپنے غیب پر کسی کو بجز اس رسول کے جس کو اس نے پسند فرما لیا ہو۔

( جمال القرآن ص ٩٤٦، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

الجن : ٢٦ میں اظہار بہ معنی تسلط پر بحث و نظر

بعض محترم اکابر (رح) نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے :

غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرنا، سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔

اس ترجمہ میں چند امور ہماری ناقص فہم میں نہیں آسکے، جن کا ذکر حسب ذیل ہے :

(١) ہم کتب لغت کے حوالوں سے لکھ چکے ہیں کہ اس آیت میں ” یظھر “ کا معنی مطلع کرنا ہے، اور تمام مفسرین نے ” یظھر “ کی تفسیر میں لکھا ہے : اس کا معنی مطلع کرنا ہے، لہٰذا اس کے معنی میں مسلط کرنا مراد نہیں ہے، نیز قرآن مجید میں ہے :

وَمَا کَانَ اللہ ُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰـکِنَّ اللہ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآئُ (آل عمران : ١٧٩)

اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے لیکن اللہ جن کو چاہتا ہے چن لیتا ہے اور وہ اللہ کے ( سب) رسول ہیں۔

” القرآن یسفر بعضہ بعضا “ بعض قرآن بعض کی تفسیر کرتا ہے، سو جس طرح اس آیت میں رسولوں کو غیب پر مطلع کرنے کا ذکر ہے، اسی طرح الجن : ٢٦ میں بھی ” یظھر “ سے غیب پر مطلع کرنا مراد ہے اور غیب پر مسلط کرنا مراد نہیں ہے۔

(٢) غیب پر مسلط کرنے کا معنی ہے : غیب پر غالب کرنا اور غیب پر غالب کرنے سے متبادر یہ ہوتا ہے کہ غیب کے ہر فرد کا رسولوں کو علم ہو، اور غیب کا ہر فرد خواہ وہ غیب متناہی ہو، رسولوں کو معلوم نہیں ہوتا، حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کے قصہ میں اس کی واضح دلیل ہے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق اعلیٰ حضرت (رض) نے تصریح کی ہے آپ علم تدریجی ہے، جو نزول قرآن کی تکمیل کے ساتھ مکمل ہوا، اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ پہلے کچھ غیب کا علم نہیں تھا جس کا بعد میں علم ہوا، پھر آپ غیب پر مسلط اور غالب کیسے ہوئے، جب کہ سورة الجن ابتدائی سورتوں میں سے ہے۔

(٣) نیز اس ترجمہ سے یہ متبادر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب رسولوں کو غیب پر مطلع نہیں فرماتا بلکہ اپنے پسندیدہ رسولوں کو غیب پر مطلع فرماتا ہے، کیونکہ علماء کی عبارات میں مفہوم مخالف معتبر ہوتا ہے، اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ رسول غیر پسندیدہ ہیں کیونکہ اس ترجمہ میں رسولوں کو پسندیدہ کی صفت کے ساتھ مفید کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے تمام رسول پسندیدہ اور مختار ہیں۔

(٤) اللہ تعالیٰ اپنے غیب کا رسولوں پر اظہار نہیں فرماتا، اس کے غیوب غیر متناہی ہیں اور رسولوں کے علوم متناہی ہیں، اور متناہی غیر متناہی کا محل نہیں بن سکتا، اسی لیے اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں کو اپنے بعض غیوب پر مطلع فرماتا ہے اور اس کی مقدار رسولوں کے مرتبہ کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے، ہمارے رسول سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں سے زیادہ علم غیب عطاء فرمایا، جو تمام مخلوق کے علم سے زیادہ ہے۔

(٥) اس آیت میں ” من “ بیانیہ ہے کیونکہ ” من ارتضی “ مبھم ہے اور اس کا بیان ” من رسول “ ہے جب کہ اس ترجمہ میں ” من “ تبعیضیہ “ کا لحاظ کیا گیا ہے اور اس آیت میں ” من “ کا تبعیضیہ ہونا ہماری سمجھ میں اس لیے نہیں آسکا کہ ” من “ تبعیضیہ کے بعد امور متعدد کا ذکر ہوتا ہے، جیسے ” اخذت من الدراھم “ ہمارے ناقص علم کے مطابق اس آیت کا ترجمہ اس طرح ہے : وہ ہر غیب کا جاننے والا ہے، سو وہ اپنے ہر غیب پر کسی کو مکمل مطلع نہیں فرماتا، ماسوا ان کے جن کو اس نے پسند فرمالیا ہے، جو اس کے سب رسول ہیں۔

(٦) اسی طرح بعض محترم اکابر رحمہم اللہ نے آل عمران : ١٧٩ کا جو ترجمہ کیا ہے، اس کو بھی ہم نہیں سمجھ سکے، وہ ترجمہ یہ ہے۔

اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ اے عام لوگو ! تمہیں غیب کا علم دے دے، ہاں ! اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے۔

اس ترجمہ میں بھی ” من “ کو تبعیضیہ قراردیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ نے بعض رسولوں کو غیب پر مطلع فرمایا ہے اور بعض کو نہیں، کیونکہ علماء کی عبارت میں مفہوم مخالفت معتبر ہوتا ہے، ہماری ناقص فہم کے اعتبار سے اس آیت کا ترجمہ اس طرح ہے :

اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ تم ( عام مسلمانوں کو) غیب پر مطلع کرے لیکن اللہ ( غیب پر) مطلع ( کرنے کے لیے) جن کو چاہتا ہے چن لیتا ہے اور وہ اللہ کے سب رسول ہیں۔

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ، آل عمران : ١٧٩ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس آیت میں ” من “ ابتداء غایت کے لیے ہے اور تمام رسل (علیہم السلام) میں پسندیدگی کو عام فرمانے کے لیے ہے تاکہ یہ آیت اس پر دلالت کرے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو غیب پر مطلع فرمایا ہے اور بعض کو نہیں، کیونکہ علماء کی عبارات میں مفہوم مخالف معتبر ہوتا ہے، ہماری ناقص فہم کے اعتبار سے اس آیت کا ترجمہ اس طرح ہے :

اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ تم ( عام مسلمانوں کو) غیب پر مطلع کرے لیکن اللہ ( غیب پر) مطلع ( کرنے کے لیے) جن کو چاہتا ہے چن لیتا ہے اور وہ اللہ کے سب رسول ہیں۔

علامہ سید محمود آلوسی حنفی ١٢٧٠ ھ، آل عمران : ١٧٩ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس آیت میں ” من “ ابتداء غایت کے لیے ہے اور تمام رسل (علیہم السلام) میں پسندیدگی کو عام فرمانے کے لیے ہے تاکہ یہ آیت اس پر دلالت کرے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو غیب پر مطلع فرمایا ہے، وہ اس قوی اصل پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسل صلوات اللہ علہیم میں یہی سنت ہے کہ وہ انہیں غیب پر مطلع فرماتا ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ یہ ” من “ تبعیض کے لیے ہے کیونکہ مغیبات پر مطلع فرمانا بعض رسولوں کے ساتھ اور بعض اوقات میں مخصوص ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا ہو۔ واضح رہے کہ یہ تو درست ہے کہ غیب کی اطلاع بعض اطلاعات کے ساتھ خاص ہو، لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ غیب کی اطلاع بعض رسولوں کے ساتھ مخصوص ہے، اور شاید کہ صحیح بات کہ اس کے برعکس ہے۔

( روح المعانی جز ٤ ص ٢١٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

ہر چند کہ علامہ آلوسی نے اس آیت میں ” من “ کو ابتداء غایت کے لیے قرار دیا ہے، لیکن اس کا مآل میں بھی وہی ہے جو ” من ‘ بیانیہ کا ہے کیونکہ دونوں صورتوں میں معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو غیب پر مطلع فرماتا ہے، نہ کہ بعض رسولوں کو، بلکہ علامہ آلوسی نے ” من “ تبعیضہ کو صراحتہً رد کردیا ہے اور ہم نے ’ ’ من “ بیانیہ اس لیے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :” وَلٰـکِنَّ اللہ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآئُ “ (آل عمران : ١٧٩) ” من یشاء “ میں ” من “ موصول ہے اور اسم موصول مبھم ہوتا ہے اور اس مبھم کا یہ تقاضا ہے کہ اس کا بیان کیا جائے، پس ” من رسلہ “ ” من یشاء “ کا بیان مقدم ہے، یعنی اللہ جن کو چاہتا ہے ان کو غیب کی اطلاع کے لیے پسند فرما لیتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے سب رسول ہیں۔

علامہ اسماعیل بن محمد القونوی المتوفی ١١٩٥ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں جمع کے صیغہ سے ” رسل “ فرمایا ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق اس وقت معتبر ہوتی ہے جب وہ تمام رسولوں کی تصدیق کے ساتھ ہو اور اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر رسولوں کے پسندیدہ ہونے کا ذکر فرمایا تاکہ اس پر تنبیہ ہو کہ غیب کی اطلاع دینا تمام رسولوں کے لیے عام ہے اور یہ صرف ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خصائص میں سے نہیں ہے۔

اس پر خشی نے لکھا ہے :

اس میں یہ اشارہ ہے کہ اس آیت میں ” من رسلہ “ میں ” من “ بیانیہ ہے، تبعیضیہ نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے۔ ہماری تحقیق یہ ہے کہ آل عمران : ١٧٩ اور الجن : ٢٦ میں مذکور ” من “ بیانیہ ہے، تبعیضیہ نہیں ہے۔ میں نے بہت غور و فکر کے بعد ان آیتوں کو اسی طرح سمجھا ہے، اگر یہ درست ہے تو اس گناہ گار پر یہ اللہ کا کرم ہے اور اس کے رسول کا فیضان ہے ورنہ یہ میری سوء فہم اور مطالعہ کا نقص ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بری ہیں۔

علامہ زمحشری کا کرامات اولیاء کا انکار کرنا

علامہ زمحشری متوفی ٥٣٩ ھ نے لکھا ہے : اس آیت سے کرامات باطل ہوجاتی ہیں کیونکہ جن لوگوں کی طرف کرامات منسوب ہوتی ہیں، ہرچند کہ وہ پسندیدہ اولیاء ہیں لیکن وہ رسول نہیں ہیں اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے غیب کی اطلاع کو اپنے ان پسندیدہ بندوں کے ساتھ خاص کرلیا ہے جو اس کے رسول ہیں اور ولیوں کو اللہ غیب کی خبر نہیں دیتا، اسی طرح نجومی اور کاہن جو مستقبل میں ہونے والے حوادث کی خبر دیتے ہیں، وہ بھی باطل ہوگئی کیونکہ نجومی اور کاہن اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندے اور رسول نہیں ہیں۔ ( الکشاف ج ٤ ص ٦٣٥۔ ٦٣٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٧ ھ)

الجن : ٢٦ کی تفسیر میں امام رازی کی تحقیق

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ، علامہ زمخشری کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

میرے نزدیک اس آیت میں زمخشری کے قول پر کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ اس آیت میں غیب سے مراد عموم نہیں ہے اور اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی غیب کو کسی پر ظاہر نہیں فرماتا، بلکہ غیب سے مراد مخصوص غیب ہے اور وہ ہے وقت وقوع قیامت کا علم۔ پس اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس خاص غیب کو کسی پر ظاہر نہیں فرماتا، پھر استثناء کر کے فرمایا : ہاں ! جو اس کے پسندیدہ بندے ہیں ان پر اس غیب کو ظاہر فرماتا ہے اور وہ پسندیدہ بندے اللہ تعالیٰ کے سب رسول ہیں، اگر کوئی یہ کہے کہ اللہ اس غیب کو کسی رسول پر ظاہر نہیں فرمایا تو ہم کہیں گے : نہیں بلکہ قرب قیامت میں اللہ سبحانہٗ اس غیب کو ظاہر فرمائے گا، جب وہ قیامت کو قائم فرمائے گا کیونکہ اس نے فرمایا ہے :

وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآئُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰٓئِکَۃُ تَنْزِیْلًا۔ (الفرقان : ٢٥ )

اور جس دن آسمان بادلوں سمیت پھٹ جائے گا اور فرشتوں کو لگا تار اتارا جائے گا۔

اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فرشتوں کو اس وقت معلوم ہوجائے گا کہ قیامت کس وقت واقع ہوگی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ استثناء منقطع ہو، گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ عالم الغیب ہے پس وہ اپنے مخصوص غیب یعنی وقت وقوع قیامت پر کسی کو مطلع نہیں فرماتا، پھر اس کے بعد فرمایا : لیکن جن سے وہ راضی ہے وہ اس کے رسول ہیں، سو وہ اس رسول کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر فرما دیتا ہے، جو اس کو سرکش جنات اور انسانوں کے شر سے محفوظ رکھتے ہیں، نیز اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو ان لوگوں کے سوال کے جواب میں ذکر فرمایا ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کی تحقیر کرتے ہوئے اور آپ کا مذاق اڑاتے ہوئے آپ سے وقت وقوع قیامت کا سوال کرتے تھے۔

واضح رہے کہ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی یہ مراد نہیں ہے کہ وہ رسولوں کے سوا کسی کو بھی کسی غیب پر مطلع نہیں فرماتا، اور اس کے حسب ذیل دلائل ہیں :

(١) تقریباً اخبار متواترہ سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ظہور سے پہلے شق اور سطیح نام کے دو کاہن تھے، جنہوں نے یہ خبر دی تھی کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ظہور ہونے والا ہے اور عرب میں اس قسم کے کاہن بہت مشہور تھے، حتیٰ کہ ایران کے بادشاہ کسریٰ نے بھی ان کاہنوں کی طرف جوع کیا تھا، تاکہ ہمارے رسول سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حالات معلوم کرسکے، اس سے واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ رسولوں کے علاوہ دوسروں کو بھی غیب کی خبروں پر مطلع فرما دیتا ہے۔

(٢) تمام مذاہب اور ادیان میں یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ خواب کی تعبیر صحیح ہوتی ہے، اور خواب کی تعبیر بتانے والا مستقل میں پیش آنے والے واقعات کی قبل از وقت خبر دے دیتا ہے اور اس کی تعبیر صادق ہوتی ہے۔

(٣) سلطان سنجر بن ملک بغداد کا بادشاہ تھا، وہ بغداد کی ایک کاہنہ کو خراسان لے گیا اور اس سے مستقبل میں پیش آنے والے امور کے متعلق سوالات کیے، اس کاہنہ نے اس کو ان امور کی خبر دی اور جس طرح اس نے خبر دی تھی بعد میں اسی طرح واقعات پیش آئے۔

(٤) ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی طرف صادق الہامات ہوتے ہیں اور یہ الہامات اولیاء اللہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں بلکہ جادوگروں کی طرف بھی ہوتے ہیں، ہرچند کہ جادوگروں کی دی ہوئی خبریں اکثر جھوٹی ہوتی ہیں لیکن ان کی بعض خبریں سچی بھی ہوتی ہیں، اسی طرح نجومیوں کی دی ہوئی اکثر خبریں جھوٹی ہوتی ہیں، لیکن ان کی بعض خبریں سچی بھی ہوتی ہیں۔ یہ تمام امور مشاہدہ سے ثابت ہیں، پس یہ کہنا کہ قرآن مجید ان زمینی حقائق اور بین الاقوامی مسلمات کے خلاف بتارہا ہے، یہ ایسا قول ہے جو قرآن مجید میں طعن کا دروازہ کھولتا ہے اور یہ باطل ہے، پس اس آیت کی صحیح تاویل یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں پر بھی غیب کا اظہار فرماتا ہے اور دوسروں پر بھی غیب کا اظہار فرماتا ہے۔

(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٧٩۔ ٦٧٨، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام رازی کی تفسیر پر مصنف کا تبصرہ

امام رازی نے اس آیت کی تفسیر میں یہ نہیں لکھا کہ جب اللہ تعالیٰ رسولوں پر بھی اپنے غیب کا اظہار فرماتا ہے اور دوسروں پر بھی غیب کا اظہار فرماتا ہے حتیٰ کہ اولیاء کرام، خواب کی تعبیر بتانے والوں، جادوگروں، کا ہنوں اور نجومیوں پر بھی غیبکا اظہار فرماتا ہے تو پھر اس آیت میں حصر کے ساتھ صرف رسولوں پر اظہار غیب کا کیوں ذکر فرمایا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں کے سوا اور کسی پر غیب کا اظہار نہیں فرماتا اور اسی وجہ سے علامہ زمخشری اور دیگر معتزلہ نے اولیاء اللہ کی کرامات کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کو غیب کا علم نہیں ہوتا اور نہ وہ غیب کی خبردے سکتے ہیں۔

مصنف کے نزدیک اس آیت کی تقریر اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں پر بلا واسطہ اپنے غیب کا اظہار فرماتا ہے اور رسولوں کے سوا اور کسی پر بلاواسطہ غیب کا اظہار نہیں فرماتا اور اس آیت میں اسی اعتبار سے حصر ہے، اور اولیاء کرام پر رسولوں کے یا فرشتوں کے واسطے سے غیب کا اظہار فرماتا ہے۔

الجن : ٢٦ میں ” عالم الغیب “ اور ” علیٰ غیبہ “ سے مراد ہر غیب ہے نہ کہ وقت وقوع قیامت

امام رازی کی تفسیر میں ایک مناقشہ یہ ہے کہ امام رازی نے ” لا یظھر علی غیبہ “ میں غیب سے مراد ایک معین غیب مراد لیا ہے یعنی وقت وقوع قیامت، جب کہ عالم الغیب میں لام استغراق کا ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہر غیب کا جاننے والا ہے۔

اس آیت کا صحیح ترجمہ ہے :

وہ ہر غیب کا جاننے والا ہے، سو وہ اپنے ہر غیب پر کسی کو مکمل مطلع نہیں فرماتا سوا ان کے جن کو اس نے پسند فرما لیا ہے جو اس کے سب رسول ہیں۔

امام رازی نے یہ کہا ہے کہ ” علی غیبہ “ میں لفظ مفردمصاف ہے اور اس کے عمل کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کو ایک غیب پر محمول کیا جائے اور وہ وقت وقوع قیامت ہے اور رہا عموم تو اس پر اس لفظ کی کوئی دلالت نہیں ہے۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٧٨)

امام رازی کا یہ قول قواعد کے خلاف ہے کیونکہ کلام عرب کے استقراء اور تتبع سے یہ قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ جب مصدر یا اسم جنس مضاف ہو تو وہ اضافت استغراق کے لیے ہوتی ہے اور جو غیب اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے، وہ صرف وقت وقوع قیامت کا علم نہیں ہے بلکہ وہ ہر غیب کا علم ہے۔

شیخ رضی الدین محمد بن الحسن الاسترا باذی متوفی ٦٨٦ ھ لکھتے ہیں :

فینظر فی ذالک الاسم فان لم یکن معہ قرینۃ لا حالیۃ ولا مقالیۃ دالۃ انہ بعض مجھول من کل ولا دالۃ علی انہ بعض معین فھی اللام الی جیء بھا للتعریف اللفظی والا سم المجلی بھا لا ستغراق الجنس فعلی ھذا قولہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الماء طاھر ای کل الماء طاھر۔

پس اس اسم کو دیکھا جائے گا اگر اس کے ساتھ کوئی ایسا لفظی یا معنوی قرینہ نہ ہو کہ اس سے بعض معین یا غیر معین فرد مراد ہے تو اس اسم پر جو لام ہوگا وہ معرفہ بنانے کے لیے ہوگا اور اس کا مدخول استغراق جنس کے لیے ہوگا، اس بناء پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد ” الماء طاھر “ کا معنی ہے : ہر پانی طاہر ہے۔

( شرح کافیۃ ابن الجاجب ج ٣ ص ٣١٩، ملخصا، دارالکتب العلیمہ، بیروت، ١٤١٩ ھ)

نیز ہم بتا چکے ہیں کہ عالم الغیب میں لام استغراق کا ہے، یعنی ہر غیب کا جاننے والا ” الغیب “ معرفہ ہے، اس کے بعد ” علی غیبہ “ کا ذکر ہے اور یہ بھی معرفہ ہے اور جب معرفہ مکرر ہو تو ثانی اول کا عین ہوتا ہے اور جب ” الغیب “ سے مراد ہر غیب ہے تو ضروری ہوا کہ ” غیبہ “ سے بھی مراد غیب ہو، اس لیے اس غیب سے ایک غیب مراد لینا اور اس کو وقت وقوع قیامت پر محمول کرنا صحیح نہیں ہے، اس لیے اس آیت کا صحیح معنی یہی ہے : وہ ہر غیب کا جاننے والا ہے سو وہ اپنے ہر غیب پر کسی کو مکمل مطلع نہیں فرماتا، ماسوا ان کے جن کو اس نے پسند فرما لیا ہے جو اس کے سب رسول ہیں۔ ( چونکہ رسول غیر متناہی علوم کے متحمل نہیں ہوسکتے، اس لیے یہاں مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے بعض غیوب ہیں۔ )

اس قول کا باطل ہونا کہ اللہ تعالیٰ کاہنوں کو بھی غیب کی خبر دیتا ہے

امام رازی کی اس تفسیر میں دوسرا مناقشہ یہ ہے کہ امام رازی نے کہا ہے کہ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں کے سوا اور کسی کو غیب کی خبر نہیں دیتا، کیونکہ کبھی کاہن بھی غیب کی خبر دیتے ہیں، پس ثابت ہوا کہ غیر رسول بھی عض غیوب پر مطلع ہوجاتے ہیں۔ ( تفسیر کبیرج ١٠ ص ٦٧٩)

یہ قول اس لیے صحیح نہیں ہے کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے جنات چوری چھپے آسمانوں پر جا کر فرشتوں کی باتیں سن لیتے تھے اور آ کر کاہنوں کو بتا دیتے تھے اور کاہن ایک بات کے ساتھ کئی جھوٹی باتیں ملا کر لوگوں کو بتا دیتے تھے لیکن ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد جنات کو آسمانوں پر جانے سے سختی کے ساتھ روک دیا گیا، لہٰذا اب کاہن کسی غیب پر مطلع نہیں ہوسکتے۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کاہنوں کے متعلق دریافت کیا، آپ نے فرمایا : وہ کوئی چیز نہیں ہیں، لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! کبھی کبھی وہ ہم کو کسی چیز کی خبر دیتے ہیں اور وہ سچ نکلتی ہے، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ حق بات فرشتوں سے چوری چھپے سن کر لاتا ہے، پھر اپنے ولی کے کان میں ڈال دیتا ہے اور اس میں سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٥٦١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٢٨ )

قاضی عیاض مالکی متوفی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں :

امام رازی نے کہا ہے کہ کاہنوں کے متعلق ایک قوم کا گمان ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں کوئی چیز ڈالی جاتی ہے اور وہ اس وجہ سے غیب کو جان لیتے ہیں اور جو شخص علم غیب کا دعویٰ کرے، شریعت نے اس کو جھوٹا قرار دیا ہے اور اس کی تصدیق کرنے سے منع کیا ہے۔

قاضی عیاض مالکی متوفی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں :

امام رازی نے کہا ہے کہ کاہنوں کے متعلق ایک قوم کا گمان ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں کوئی چیز ڈالی جاتی ہے اور اس وجہ سے غیب کو جان لیتے ہیں اور جو شخص علم غیب کا دعویٰ کرے، شریعت نے اس کو جھوٹا قرار دیا ہے اور اس کی تصدیق کرنے سے منع کیا ہے۔

قاضی مازری نے کہا ہے کہ کہانت کی حسب ذیل اقسام ہیں :

(١) کسی انسان کا جن دوست ہو، وہ آسمانوں پر جا کر چوری چھپے فرشتوں کی باتیں سنے، پھر جا کر اس انسان کو اس کی خبر دے دے اور جب سے ہمارے نبی سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے، یہ قسم باطل ہوگئی، جیسا کہ سورة الجن کی ابتدائی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمائی ہے۔

(٢) کاہن زمین کی اطراف میں گھوم پھر کر خبر دے، لیکن وہ اس سلسلہ میں سچ بھی بولتا ہے اور جھوٹ بھی اور ہم کو ان کی خبروں کے سننے اور ان کی تصدیق کرنے سے کلیۃً منع کیا گیا ہے۔

(٣) بعض لوگوں میں ایسی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ قیامت اور اندازے سے غیب کی بات معلوم کرلیتے ہیں، لیکن اس میں جھوٹی خبروں کا غلبہ ہوتا ہے۔ ( اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ٧ ص ١٥٣، دارالوفاء، بیروت، ١٤١٩ ھ)

اس قول کا باطل ہونا کہ اللہ تعالیٰ خواب کی تعبیر بتانے والوں کو بھی غیب کی خبر دیتا ہے

نیز امام رازی نے کہا : تمام اہل مذاہب اور ادیان اس پر متفق ہیں کہ خواب کی تعبیر کا علم صحیح ہے اور اس سے بھی مستقبل کے واقعات کا علم ہوجاتا ہے، اس سے بھی معلوم ہوا کہ خواب کی تعبیر بتانے والے بھی غیب پر مطلع ہوجاتے ہیں۔

(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٧٩)

 

غیر مسلم جو خواب کی تعبیر بتاتے ہیں، اس کے صحیح اور صادق ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہے، البتہ مسلمان کی بتائی ہوئی تعبیر صحیح ہوسکتی ہے، حدیث شریف میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب زمنہ قریب ہوگا تو مسلمان کا خواب کم جھوٹا ہوگا، تم میں سے جو آدمی جتنا سچ بولتا ہوگا اس کا خواب اتنا سچا ہوگا، اور مسلمان کا خواب نبوت کے پینتالیس (٤٥) حصوں میں سے ایک حصہ ہے اور خواب کی تین قسمیں ہیں : نیک خواب اللہ کی طرف سے بشارت ہے اور درانے والا خواب شیطان کی طرف سے ہے اور بعض خواب انسان کے دل میں آنے والی باتوں کے موافق ہوت ہیں، اگر تم میں سے کوئی شخص ڈرائونا خواب دیکھے تو کھڑاہو کر نماز پڑھے اور لوگوں کو نہ بتائے، آپ نیف فرمایا : میں پائوں میں بیڑیوں کو پسند کرتا ہوں اور طوق کو ناپسند کرتا ہوں، پائوں میں بیڑیوں سے مراد دین میں ثابت قدم رہنا ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٦٣، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٠١٩، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٢٧٠ ملخصاً )

اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا کہ خواب میں قمیص دیکھنے کی تعبیر دین ہے، انسان جتنی لمبی قمیص پہنے ہوئے دیکھے گا، اس میں اتنی زیادہ دین داری ہوگی اور جتنی چھوٹی قمیص ہوگی، اس میں اتنی کم دین داری ہوگی۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٩٠، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٢٨٥، مسند احمدج ٣ ص ٨٥)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا، میں نے اس کو پیا، حتیٰ کہ میں نے دیکھا کہ میرے ناخنوں سے دودھ کی سیرابی نکل رہی تھی، پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر بن الخطاب کو دے دیا، صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” العلم “۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٩١، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٢٨٤)

ان احادیث سے واضح ہوگیا کہ خواب میں جس واقعہ کی پیشگی خبر دی جاتی ہے، اس کی صراحتہً خبر نہیں دی جاتی بلکہ اشارہ اور کنایہ سے بتایا جاتا ہے، جیسے بیڑیوں سے مراد دین میں ثابت قدمی اور طوق سے مراد دوزخی ہونا، اور قمیص پہنے ہوئے دیکھنے سے مراد دین داری اور دودھ پینے سے مراد علم کا حصول ہے اور کسی کو سفید لباس میں دیکھنا اس کا جنتی ہونا ہے۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ورقہ بن نوفل کے متعلق سوال کیا گیا، حضرت خدیجہ (رض) نے کہا : وہ آپ کا دوست تھا اور آپ کی نبوت کے ظہور سے پہلے فوت ہوگیا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے وہ خواب میں دکھایا گیا اور اس پر سفید لباس تھا، اگر وہ دوزخی ہوتا تو اس پر کسی اور رنگ کا لباس ہوتا۔

( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٢٨٨ مسند احمد ج ٦ ص ٦٥ )

اسی طرح قرآن مجید میں ایک خواب کا ذکر ہے، قیدیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا :

اے یوسف ! اے صدیق ! آپ ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائے کہ سات فربہ گائیں ہیں، جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور دوسرے سات خشک خوشے ہیں، ( آپ اس کی تعبیر بتائیں) تاکہ میں واپس جا کر لوگوں کو بتائوں، شاید وہ لوگ جان لیں۔ یوسف نے کہا : تم سات سال تک لگا تار غلہ بوتے رہو اور جو فصل کاٹو اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا، سو اپنے کھانے کے لیے تھوڑی سی مقدار کے۔ اس کے بعد سات سال سخت قحط کے آئیں گے، وہ اس غلہ کو کھا جائیں گے جس کا تم نے پہلے ذخیرہ کیا تھا ماسوا اس کم مقدار کے جس کی تم نے حفاظت کی تھی۔ اس کے بعداگلے سال لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس میں لوگ انگور کا شیرہ خوب نچوڑیں گے ( یوسف : ٤٩۔ ٤٦ )

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں خواب انگور کا شیرہ خواب کا جو ذکر کیا گیا ہے، ان سے یہ واضح ہوگیا کہ خواب کی تعبیر میں صاف اور واضح اور صریح بیان نہیں ہوتا، بلکہ اس میں تلمیحات اور استعارات اور اشارے اور کنایے ہوتے ہیں اور ان کی وہی تعبیر صحیح اور یقینی ہوتی ہے، جو قرآن مجید کی آیات اور احادیث سے مؤید ہو، اسکے بر خلاف اللہ تعالیٰ نبی (علیہ السلام) کو جو وحی کے ذریعہ غیب کی خبر دیتا ہے وہ بالکل صاف، صریح اور یقینی ہوتی ہے، اس میں کسی قسم کا ابہام اور شک نہیں ہوتا، لہٰذا امام رازی کا نبیوں میں علم غیب کے حصر پر اعتراض کرنا صحیح نہیں ہے۔

اس قول کا باطل ہونا کہ اللہ تعالیٰ جادوگروں کو بھی غیب کی خبر دیتا ہے

اس بحث میں امام رازی نے یہ بھی کہا ہے کہ الہامات اولیاء اللہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں بلکہ جادوگروں کی طرف بھی الہامات ہوئے ہیں، امام رازی کا یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے۔ جادوگروں سے آج تک یہ ثابت نہیں ہوا کہ انہوں نے غیب کی کوئی خبر دی ہو، جادوگر شیطانی کلمات کے اثر سے نظر بندی کرتے ہیں، شعبدہ بازی سے چیزوں کو کچھ کا کچھ کر کے دکھا دیتے ہیں اور اس میں اختلاف ہے کہ وہ حقائق تبدیل کرسکتے ہیں یا نہیں، یعنی مٹی کو سونا بنا سکتے ہیں یا مرد کو عورت بنا سکتے ہیں یا نہیں، لیکن یہ کہیں ثابت نہیں ہے کہ جادوگروں نے غیب کی کوئی خبر دی ہو اور بالفرض اگر انہوں نے شیطانی عمل سے کبھی مستقبل کی کسی بات کو بتایا بھی ہو تو اس کو الہام کہنا صحیح نہیں ہے، اصطلاح میں الہام افاضہ خبر کو کہتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور یہ اولیاء اللہ اور نیک مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے، اس کو زیادہ سے زیادہ استدراج کہا جاسکتا ہے، اس تفصیل سے ظاہر ہوگیا کہ امام رازی کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ جادوگر بھی غیب کی خبر دیتے ہیں، اس لیے غیب کی خبردینا رسولوں کے ساتھ خاص نہیں ہے۔

اس قول کا باطل ہونا کہ اللہ تعالیٰ نجومیوں کو بھی غیب کی خبر دیتا ہے

نیز امام رازی نے لکھا ہے : اسی طرح نجومیوں کی دی ہوئی اکثر خبریں جھوٹی بھی ہوتی ہیں لیکن ان کی بعض خبریں سچی بھی ہوتی ہیں، یہ تمام امور مشاہدہ سے ثابت ہیں اور یہ کہنا کہ قرآن اس کے خلاف پر دلالت کرتا ہے، ایسی بات ہے جو قرآن مجید میں طعن کا دروازہ کھولتی ہے اور یہ بالکل باطل ہے، پس اس آیت کی تاویل صحیح وہی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے کہ قطعی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں کے سوا کسی کے سوا کسی کو غیب پر مطلع نہیں کرتا۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٨٩)

میں کہتا ہوں کہ امام رازی کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے، بلکہ قطعی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف رسولوں کو بلا واسطہ غیب کی وحی کرتا ہے، اور ان کی دی ہوئی خبر قطعی ہوتی ہے جس کا انکار کفر ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اولیاء اللہ کو رسولوں کے یا فرشتوں کے واسطے کے سوا اللہ تعالیٰ کسی کو غیب نہیں دیتا، نہ کاہنوں کو نہ خواب کی تعبیر بتانے والوں اور نہ نجومیوں کو اور یہی قطعی بات ہے۔

چونکہ امام رازی نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نجومیوں کی بھی غیب کی خبر دیتا ہے، اس لیے اب ہم نجومیوں کی تعریف، ان کی خبر دینے کے ذرائع، ان کے متعلق احادیث، نجومیوں اور ان سے سوال کرنے والوں کا شرعی حکم بیان کر رہے ہیں۔

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں :

وہ تخمین اور اندازوں سے اور انکل بچو سے غیب کی خبریں بتاتے ہیں، اللہ تعالیٰ بعض لوگوں میں ایسی قوت درا کہ رکھتا ہے : جس سے وہ مستقبل کے امور کے متعلق قیاس اور اندازے سے باتیں بتاتے ہیں، جو کچھ اتفاقاً سیچ نکلتی ہیں اور اکثر جھوٹ ہوتی ہیں۔

کاہن کی ایک قسم عراف ہے، یہ وہ شخص ہے جو علامات، اسباب اور مقدمات سے ان کے نتائج اور مسببات اور استدلال کر کے آئندہ کی باتیں بتاتا ہے اور امور مستقبلہ کی معرفت کا دعویٰ کرتا ہے، یہ لوگ ستاروں اور دیگر اسباب سے استفادہ کرتے ہیں، علامہ ہر وی نے کہا : عراف نجومی کو کہتے ہیں جو غیب جاننے کا دعویٰ کرتا ہے، حالانکہ غیب کا علم اللہ کے ساتھ خاص ہے۔

نافع بعض ازواج مطہرات سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص کسی عراف کے پاس جا کر اس سے کسی چیز کے متعلق سوال کرے، اس کی چالیس روز کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٣٠)

علم نجوم کا اصطلاحی معنی اور اس کا شرعی حکم

علامہ مصطفیٰ آفندی بن عبد اللہ آفندی قسطنطنی المتوفی ١٠٦٧ ھ لکھتے ہیں :

یہ ان قواعد کا علم ہے جس سے تشکلات فلکیہ یعنی افلاک اور کواکب کی اوضاع مخصوصہ مثلاً مقارنت اور مقابلت وغیرہ سے دنیا کے حوادث، ان کے مرنے اور جینے، بننے اور بگڑنے اور دیگر احوال کی معرفت پر استدلال کیا جاتا ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ستاروں پر ایمان لایا وہ کافر ہوگیا، لیکن اس کا محمل یہ ہے کہ جب نجومی کا اعتقاد یہ ہو کہ ستارے عالم کی تدبیر میں مستقل ہیں۔

علم نجوم کی توجیہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ عادت جاری کردی ہو کہ بعض حوادث بعض دوسرے حوادث کا سبب ہوں، لیکن اس پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ سیارے نحوست ( اور اسی طرح سعادت) کے لیے عادۃً اسباب اور علت ہیں، نہ اس پر کوئی حسی دلیل ہے نہ سمعی اور نہ عقلی، حسی دلیل کا نہ ہونا تو بالکل ظاہر ہے اور عقلی دلیل اس لیے نہیں ہے کہ سیاروں کے متعلق ان کے اقوال متضاد ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ عناصر سے مرکب نہیں ہیں بلکہ ان کی طبیعت خاصہ ہے، پھر کہتے ہیں کہ زحل سرد خشک ہے اور مشنری گرم تر ہے، اس طرح انہوں نے عناصر کے خواص کو کواکب کے لیے ثابت کیا۔ اور شرعاً اس لیے صحیح نہیں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ستاروں کے کاہن کے پاس گیا یا عراف کے پاس گیا یا منجم کے پاس گیا اور اس کی تصدیق کی تو اس نے اس دین کا کفر کیا : جو ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا۔

دیگر احادیث اس طرح ہیں :

حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا : جو شخص عراف یا ساحر پا کاہن کے پاس گیا، اس سے سوال کیا اور اس کے قول کے تصدیق کی تو اس نے اس دین کا کفر کیا جو ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا۔

( مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٥٤٠٨، حافظ المہیثمی نے کہا : اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ مجمع الزوائد ج ٥ ص ١١٨)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص کاہن یا عراف کے پاس گیا اور اس کے قول کی تصدیق کی تو اس نے اس دین کا کفر کیا جو ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا۔

( مسند احمد ج ٢ ص ٤٤٩، مسند احمد رقم الحدیث : ٩٥٣٣، عالم الکتب)

خصوصیت کے ساتھ نجومیوں کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ستاروں کے علم سے اقتباس کیا اس نے جادو سے اقتباس کیا۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٩٠٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٢٦، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٠٠٠، دارالفکر)

” کشاف اصطلاحات الفنون “ میں مذکورہ کہ اس علم کا موضوع ستارے ہیں، اس خشیت سے کہ ستاروں سے اس جہان کے احوال اور مسائل معلوم ہوں، جیسے ان کا یہ قول ہے کہ جب سورج اس مخصوص جگہ پر ہو تو وہ اس جہان میں فلاں چیز کے پیدا ہونے کے پر دلالت کرتا ہے۔

علامہ ابن خلدون نے لکھا ہے کہ اصحاب علم نجوم کا یہ زعم ہے کہ وہ سیاروں کی قوتوں کی معرفت سے اس جہان کی چیزوں کو پیدا ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

علامہ ابن خلدون نے لکھا ہے کہ اصحاب علم نجوم کا یہ زعم ہے کہ وہ سیاروں کی قوتوں کی معرفت سے اس جہان کی چیزوں کو پیدا ہونے سے پہلے جان لیتے ہیں۔

علم نجوم کے بطلان پر یہ دلیل کافی ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے خود کسی ترکیب، کسی صنعت اور کسی طریقہ سے غیب کا علم حاصل کیا نہ امت کو اس کی تعلیم دی، انبیاء (علیہم السلام) کو صرف وحی سے اور اللہ تعالیٰ کو عطاء سے علم غیب حاصل ہوتا تھا۔

( کشف الظنون ج ٢ ص ١٩٣۔ ١٩٣٠، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ، تہران، ١٣٧٨ ھ)

امام محمد بن محمد غزالی متوفی ٥٠٥ ھ لکھتے ہیں :

علم نجوم کے احکام کا حاصل یہ ہے کہ وہ اسباب سے حوادث پر استدلال کرتے ہیں لیکن شریعت میں یہ علوم مذموم ہے، حدیث میں ہے :

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب میرے اصحاب کا ذکر کیا جائے تو بحث نہ کرو، اور جب ستاروں کا ذکر کیا جائے تو خاموش رہو اور جب تقدیر کا ذکر کیا جائے تو رک جائو۔ ( المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٤٢٧، یہ حدیث حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے بھی مروی ہے، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٠٤٤٨، حلیۃ الاولیاء ج ٤ ص ١٠٨، مجمع الزوائد ج ٧ ص ٢٢٣۔ ٢٠٢)

امام غزالی فرماتے ہیں : نجوم کے احکام محض ظن، تخمین اور اندازوں پر مبنی ہیں، اور ان کے متعلق کوئی شخص یقین یا ظن غالب سے کوئی حکم نہیں لگا سکتا، لہٰذا اس پر حکم لگانا جہل پر حکم لگانا ہے، سو نجوم کے احکام اس لیے مذموم ہیں کہ یہ جہل ہیں نہ اس حیثیت سے کہ یہ علم ہیں، یہ علم حضرت ادریس (علیہ السلام) کا معجزہ تھا ( دراصل وہ علم رمل تھا یعنی لکیروں سے زائچہ بنانے کا علم، وہ نجوم کا علم نہیں تھا) اب یہ علم مٹ چکا ہے اور کبھی کبھار نجومی کی جو بات سچ نکلی ہے وہ بہت نادر ہے اور محض اتفاق ہے، کیونکہ وہ کبھی بعض اسباب پر مطلع ہوجاتا اور ان اسباب کے بعد مسبب اسی وقت حاصل ہوتا ہے، جب بہت ساری شروط پائی جائیں، جن کے حقائق پر مطلع ہونا بشر کی قدرت میں نہیں ہے، جیسے انسان کبھی بادل دیکھ کر بارش کا گمان کرتا ہے، حالانکہ بارش کے اور بھی اسباب ہوتے ہیں، جن پر وہ مطلع نہیں ہوتا، اور جس طرح ہوائوں کا رخ دیکھ کر ملاح کشتی کو سلامتی سے لے جانے کا گمان کرتا ہے حالانکہ سلامتی کے اور بھی اسباب ہیں جن وہ مطلع نہیں ہوتا اور اس کا اندازہ کبھی صحیح ہوتا ہے اور کبھی غلط۔

( احیاء علوم الدین ج ١ ص ٣٥، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٩ ھ)

الجن : ٢٦ کی تفسیر علامہ قرطبی مالکی سے

علماء رحمہم اللہ نے کہا ہے : جب اللہ سبحانہٗ نے علم غیب سے اپنی مدح فرمائی اور اس کو اپنے ساتھ خاص فرما لیا اور مخلوق سے اس کی نفی فرما دی تو اس میں یہ دلیل تھی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو غیب کا علم نہیں ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے چنے ہوئے رسولوں کا نفی کے اس عموم سے استثناء اور نجومی اور کاہن وغیرہ جو مختلف حیلوں سے غیب کی خبریں بناتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے رسول نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے غیب پر مطلع فرمائے، بلکہ کاہن اور نجومی اللہ کو کفر کرتا ہے اور اپنے حیلوں اور اور انکل پچو سے جو کچھ بیان کرتا ہے وہ اللہ سبحانہ پر افتراء ہوتا ہے۔

حضرت علی (رض) نے لوگوں سے فرمایا : اے لوگو ! تم اپنے آپ کو علم نجوم سیکھنے سے بچائو، ستارے تو صرف اس لیے ہیں کہ جنگلوں اور سمندروں میں سفر کے وقت اندھیروں میں ان سے رہنمائی حاصل کرو، نجومی تو جادوگر کی طرح ہیں اور جادوگر کافر کی طرح ہیں اور کافر دوزخ میں ہیں۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ٩ ص ٢٧۔ ٢٦ ملخصاً ، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ج)

الجن : ٢٦ کی تفسیر علامہ بیضاوی شافعی سے

قاضی عبد اللہ عمر بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

جس غیب کو علم اللہ عزوجل کے ساتھ مخصوص ہے، اس سے مراد علم بالذات ہے جو علم یقینی کامل ہے اور کسی سبب کے بغیر ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم اللہ تعالیٰ کے اطلاع دینے کے سبب سے ہے، خواہ یہ اطلاع وحی سے دی جائے یا الہام سے یا اللہ تعالیٰ آپ کے دل میں علم بدیہی پیدا کر دے اور نجومیوں کا علم قواعد کے سبب سے ہے اور کاہنوں کا علم جنات کے خبر دینے کے سبب سے ہے کیونکہ جنات چوری چھپے فرشتوں کی باتیں سن کر اس کی خبر کاہنوں کو دیتے تھے، پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ علم غیب کے مخصوص ہونے میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا غیب بلا سبب اور بالذات ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم غیب اللہ تعالیٰ کی عطاء سے اور وحی یا الہام کے سبب سے ہے۔

(حاشیۃ القونوی ج ١٩ ص ٣٦٥ )

نیز علامہ قونوی لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ بلا واسطہ علم غیب عطاء فرماتا ہے اور اولیاء اللہ کو فرشتوں کے واسطہ سے علم غیب عطاء فرماتا ہے۔ ( حاشیۃ القونوی علی البیضاوی ج ١٩ ص ٣٦٦، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٢ ج)

الجن : ٢٦ کی تفسیر علامہ ابو الحیان اندلسی سے

علامہ محمد بن یوسف ابو الحیان اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ نے امام رازی کی تفسیر کا خلاصہ بیان کردیا ہے۔

(البحر المحیط ج ١٠ ص ٣٠٥، دارالفکر، بیروت، ١٤١٢ ھ )

الجن : ٢٦ کی تفسیر حافظ ابن کثیر سے

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر المتوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ غیب اور شہادت کا عالم ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی شخص بھی اس کے علم پر مطلع نہیں ہوتا ماسوا اس کے جس کو وہ خود اپنے کسی علم پر مطلع فرمائے۔ ( تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٤٧٨، دارالفکر، بیروت، ١٤١٩ ھ)

الجن : ٢٦ کی تفسیر علامہ اسماعیل حقی سے

علامہ اسماعیل حقی الحنفی المتوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت سے کاہنوں اور نجومیوں کی دی ہوئی خبریں خارج ہوگئیں، کیونکہ وہ انبیاء علہیم السلام اور اولیاء کرام کی طرح اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے اور پسندیدہ بندے نہیں ہیں اور ان کی دی ہوئی خبریں الہام اور کشف کے طریقوں سے نہیں ہوتیں، بلکہ وہ علامات اور اندوزوں سے خبر دیتے ہیں، اس لیے ان کی اکثر خبریں جھوٹی ہوتی ہیں اور جس شخص نے یہ کہا : میں جنات کی دی ہوئی غیب کی خبروں سے خبر دیتا ہوں وہ کافر ہوجائے گا، کیونکہ انسانوں کی طرح جنات بھی غیب کو نہیں جانتے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد اب کاہنوں کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔ اب کوئی کہانت نہیں ہے کیونکہ اب جنات کو آسمانوں کے اوپر جانے سے روک دیا گیا ہے۔ ابن الشیخ نے کہا : جو علم غیب اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اس پر کوئی مطلع نہیں ہوتا، ماسوا اللہ کے چنے ہوئے اور پسندیدہ بندوں کے، جو اللہ کے رسول ہیں اور علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، اس پر غیر رسول بھی مطلع ہوتا ہے، یا تو انبیاء (علیہم السلام) کے واسطے سے یا دلائل مقررہ سے یا ترتیب مقدمات سے یا اللہ تعالیٰ بعض اولیاء پر بعض غیوب کا الہام فرما دیتا ہے یا فرشتہ کے واسطے سے، پس اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں کے سوا کسی کو کسی غیب پر مطلع نہیں فرماتا، کیونکہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ چنے ہوئے رسولوں کے علاوہ دوسروں کو بھی کچھ نہ کچھ غیب پر مطلع فرماتا ہے، جیسا کہ مشہور ہے کہ فرعون کے کاہنوں نے فرعون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ظہور کی خبر دی تھی اور یہ خبر دی تھی کہ حضرت موسیٰ کے ہاتھوں فرعون کی حکومت زائل ہوجائے گی اور بعض کاہنوں نے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت سے پہلے آپ کے ظہور کی خبر دی تھی، اور وہ غیب کی اس خبر دینے میں صادق تھے اور تمام مذاہب اور ادیان والے اس پر متفق ہیں کہ خواب کی تعبیر کا علم صحیح ہوتا ہے اور خواب میں مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی خبر دی جاتی ہے اور وہ تعبیر بھی صادق ہوتی ہے، پھر یہ آیت درج ذیل آیت کی نظیر ہے :rnَمَا کَانَ اللہ ُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰـکِنَّ اللہ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآء (آل عمران : ١٧٩)

اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ تم ( عام) لوگوں کو غیب پر مطلع فرمائے لیکن اللہ جن کو چاہے غیب پر اطلاع کے لیے پسند فرما لیتا ہے اور وہ اللہ کے سب رسول ہیں۔

(روح البیان ج ١٠ ص ٢٣٦، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)

بعثت ِ نبوی کے بعد کاہنوں کا سلسلہ ختم ہوگیا اور خوب کی تعبیر ارشادات سے معلوم ہوتی ہے، وہ غیب کی خبر نہیں ہوتی۔

الجن : ٢٦ کی تفسیر غیر مقلد عالم شیخ شوکانی سے

شیخ محمد بن علی بن محمد شوکانی متوفی ١٢٥٠ ھ لکھتے ہیں :

قرآن مجید کی اس آیت سے یہ واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے چنے ہوئے رسولوں کو جس قدر غیب پر چاہتا ہے مطلع فرماتا ہے، پس کیا رسول کے لیے یہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو جس قدر غیب پر مطبع فرمایا ہے، اس میں سے وہ اپنی امت کے بعض افراد کو مطلع فرما دے ؟ میں کہتا ہوں کہ ہاں ! یہ ہوسکتا ہے اور اس میں کوئی مانع نہیں ہے اور جن لوگوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث کی معرفت ہے ان سے یہ امر مخفی نہیں ہے، اور اسی قبیل سے یہ ہے کہ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مجلس میں کھڑے ہو کر قیامت تک ہونے والے تمام امور بیان فرما رہے تھے اور آئندہ ہونے والے فتنوں میں سے کسی چیز کو نہیں چھوڑا جس نے ان کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جس نے ان کو بھلا دیا اس نے بھلا دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣١٩٢) اسی طرح حضرت حذیفہ بن یمان (رض) مستقبل میں برپا ہونے والے فتنوں کی خبر دیتے تھے، جن کی انہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر دی تھی ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٨٩١) حتیٰ کہ اکابر صحابہ حضرت حذیفہ سے ان فتنوں کے متعلق سوال کرتے تھے اور اس طرح کی بہت زیادہ احادیث ہیں، اگر ان سب کو جمع کیا جائے تو ایک مستقل کتاب بن جائے گی اور جب یہ بات ثابت ہوگئی تو اس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس امت کے بعض صالحین کو غیب کی ان خبروں کے ساتھ خاص کرلیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطاء کی ہیں، اور وہ صالحین اپنے بعد کے لوگوں کو ان غیب کی خبروں پر مطلع کردیں اور صالحین کی کرامات اسی طور سے ہیں اور یہ سب فیض ربانی ہے، جو حضرت رسالت کے واسطہ سے حاصل ہوا ہے۔

( فتح القدیر ج ٥ ص ١٤٤۔ ٤١٣، دارالوفاء، ١٤١٨ ھ)

الجن : ٢٦ کی تفسیر علامہ آلوسی حنفی سے

علامہ سید محمد آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

صوفیہ میں سے شیخ محی الدین قدس سرہٗ نے کہا ہے کہ ولی پر بھی فرشتہ نازل ہوتا ہے اور اس کو کبھی کبھی بعض مغیبات کی خبریں دیتا ہے اور انہوں نے اس مؤقف پر اس آیت سے استدلال کیا ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہ ُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ۔ (حم السجدہ : ٣٠)

بے شک جن لوگوں نے کہا : ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر جمے رہے ہیں ان کے اوپر فرشتے یہ کہتے ہوئے نازل ہوتے ہیں : تم نہ خوف کرو نہ غم کرو اور اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم سے وعدہ کیا جانا تھا۔

البتہ یہ ضرور ہے کہ فرشتوں کی اس وحی سے ان کو ظن حاصل ہوتا ہے اور اس طرح کا علم حاصل نہیں ہوتا جس طرح فرشتوں کی وحی سے رسول کو علم حاصل ہوتا ہے اور کبھی ان کو الہام کیا جاتا ہے اور کبھی ان کے دل میں کوئی بات ڈال دی جاتی ہے۔ ( روح المعانی جز ٢٩ ص ١٦٩۔ ١٦٥، ملتقطاً و ملخصاً ، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

الجن : ٢٦ کی تفسیر سید مودودی سے

سید ابو الاعلیٰ مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

یعنی غیب کا پورا علم اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے اور یہ مکمل علم غیب وہ کسی کو بھی نہیں دیتا۔

یعنی رسول بجائے خود عالم الغیب نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ جب اس کو رسالت کا فریضہ انجام دینے کے لیے منتخب فرماتا ہے تو غیب کے حقائق میں سے جن چیزوں کا علم وہ چاہتا ہے اسے عطا فرما دیتا ہے۔

مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ سے غیب کے حقائق کا علم رسول کے پاس بھیجتا ہے تو اس کی نگہانی کے لیے ہر طرف فرشتے مقرر فرما دیتا ہے تاکہ وہ علم نہایت محفوظ طریقہ سے رسول تک پہنچ جائے اور اس میں کسی قسم کی آمیزش نہ ہونے پائے۔ ( تفہیم القرآن ج ٦ ص ١٢١، ادارہ ترجمان القرآن لاہور، ستمبر ١٩٩٠ ء)

الجن : ٢٦ کی تفسیر مفتی محمد شفیع دیو بندی سے

مفتی محمد شفیع دیو بندی متوفی ١٣٩٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

یعنی قیامت کے وقت معین سے میری بیخبر ی اس لیے ہے کہ میں عالم الغیب نہیں، بلکہ عالم الغیب ہونا صرف اللہ العالمین کی خصوصی صفت ہے، اس لیے وہ اپنے غیب پر کسی کو بھی غالب و قادر نہیں بناتا۔ یہاں ” عالم الغیب “ میں ” الغیب “ کا الف لام استغراق جنس کے لیے ہے ( کما فی الروح عن الرضی) یعنی عالم ہر فرد غیب اور جنس غیب کا اور ” علی غیبہ “ میں غیب کی اضافت اللہ کی طرف کرنے سے بھی استغراق اور جامعیت کا اظہار مقصود ہے، یعنی ہر فرد جنس غیب کا علم جو اللہ رب العالمین کا مخصوص وصف ہے، اس پر وہ کسی کو قادر و غالب نہیں کرتا کہ کوئی جس غیب کو چاہے معلوم کرلے۔

مقصود اس کلام سے علم غیب کلی کا جس سے جہان کا کوئی ذدرہ مخفی نہ ہو، اس کی غیر اللہ سے نفی اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اثبات ہے، لیکن کسی بیوقوف کو اس سے یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی بھی غیب کی چیز کی خبر نہیں تو پھر وہ رسول کیا ہوئے، کیونکہ رسول کے پاس تو اللہ ہزاروں غیب کی خبریں بذریعہ وحی بھیجتے ہیں اور جس کے پاس اللہ کی وحی نہ آئے وہ نبی و رسول نہیں کہلا سکتا۔ اس لیے آگے آیت میں ایک استثناء کا ذکر فرمایا۔

علم غیب اور غیبی خبروں میں فرق

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّہٗ یَسْلُـکُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًا۔ (الجن : ٢٧ )

حاصل استثناء کا اس سفیہانہ شبہ کا یہ جواب ہے کہ علم غیب کلی کی نفی سے ہر غیب کی نفی مطلقاً مراد نہیں، بلکہ منصب رسالت کے لیے جس قدر علم غیب کی خبروں اور غیب کی چیزوں کا علم کسی رسول کو دینا ضروری ہے، وہ ان کو منجانب اللہ بذریعہ وحی دے دیا جاتا ہے وہ اسے محفوظ طریقے سے دیا جاتا ہے کہ جب ان پر اللہ کی طرف سے کوئی وحی نازل ہوتی ہے تو اس کے ہر طرف فرشتوں کا پہرہ ہوتا ہے تاکہ شیاطین اس میں کوئی مداخلت نہ کرسکیں۔ اس میں اول لفظ رسول سے اس غیب کی نوعیت متعین کردی گئی جس کا علم رسول و نبی کو دیا جاتا ہے اور وہ ظاہر ہے علم شرائع و احکام بتمامہ اور غیب کی خبریں بقدر ضرورت وقت اس کے بعد جو علم غیب رسول و نبی کو دیا جاتا ہے، اس کی نوعیت اگلے جملے سے یوں بھی متعین کردی کہ وہ بذریعہ فرشتوں کے بھیجا جاتا ہے اور وحی لانے والے فرشتے کے گرد دوسرے فرشتوں کا پہرہ ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اس استناء سے جس علم غیب کا نبی و رسول کے لیے اثبات ہے، وہ بعض اور مخصوص علم غیب ہے جس کی ضرورت منصب رسالت کے لیے درپیش ہو۔

اس سے معلوم ہوا کہ یہ استثناء اصطلاحی لفظوں میں استثناء منقطع ہے، یعنی جس علم غیب کلی کی اصل کلام میں غیر اللہ سے نفی کی گئی تھی، مستثنیٰ میں اس کا اثبات نہیں بلکہ مخصوص علوم غیبیہ کا اثبات ہے، جس کو قرآن کریم میں جا بجا ” انبآء الغیب “ کا الفاظ سے تعبیر کیا ہے ” تِلْکَ مِنْ اَنْبَآئِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہَآ اِلَیْکَ “ (ھود : ٤٩ )

بعض ناواقف غیب اور ” انبآء الغیب “ میں فرق نہیں سمجھتے، اس لیے وہ انبیاء اور خصوصاً خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے علم غیب کلی ثابت کرتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بالکل اللہ تعالیٰ کی طرح عالم الغیب ہر ہر ذرہ ٔ کائنات کا علم رکھنے والا کہنے لگتے ہیں، جو کھلا ہوا شرک اور رسول کو دائی کا درجہ دینا ہے، نعوذ باللہ منہ۔ اگر کوئی شخص اپنا خفیہ راز کسی اپنے دوست کو بتلا دے جو اور کسی کے علم میں نہ ہو تو اس سے دنیا میں کوئی بھی اس دوست کو عالم الغیب نہیں کہہ سکتا۔ اسی طرح انبیاء (علیہم السلام) کو ہزاروں غیب کی چیزوں کا بذریعہ وحی بتلا دینا ان کو عالم الغیب نہیں بنا دیتا، خوب سمجھ لیا جائے۔

جاہل عوام جو ان دونوں باتوں میں فرق نہیں کرتے، جب ان کے سامنے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عالم الغیب نہیں، وہ اس کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معاذ اللہ کسی غیب کی چیز کی خبر نہیں، جس کا دنیا میں کوئی قائل نہیں اور نہ ہوسکتا ہے، کیونکہ ایسا ہونے سے تو خود نبوت و رسالت کی نفی ہوجاتی ہے جس کا کسی مؤ من سے امکان نہیں۔

آخر سورت میں فرمایا :” وَاَحْصٰی کُلَّ شَیْئٍ عَدَدًا۔ “ ( الجن : ٢٨) یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات خاص ہے جس کے علم میں ہر چیز کے اعداد و شمار ہیں۔ اس کو پہاڑوں کے اندر جتنے ذرے ہیں ان کا بھی عدد معلوم ہے، ساری دنیا کے دریائوں میں جتنے قطرے ہیں ان کا شمار اسکے علم میں ہے، ہر بارش کے قطروں اور تمام دنیا کے درختوں کے پتوں کے اعداد و شمار کا اسی کو علم ہے۔ اس میں پھر علم غیب کلی کا ذات حق سبحانہٗ و تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونا واضح کردیا کہ کسی کو مذکور استثناء سے غلط فہمی نہ ہوجائے۔

(معارف القرآن ج ٨ ص ٥٨٣۔ ٥٨١، ادارہ معارف القرآن، کراچی ١٤١٤ ھ)

الجن : ٢٦ کی تفسیر سید نعیم الدین مراد آبادی سے

صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر جس کے ساتھ وہ منفرد ہے، کسی کو مسلط نہیں کرنا یعنی اطلاع کامل نہیں دیتا، جس سے حقائق کا کشف تام اعلیٰ درجہ یقین کے ساتھ حاصل ہو، سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے تو انہیں غیب پر مسلط کرتا ہے اور اطلاع کامل اور کشف تام عطاء فرماتا ہے اور علم غیب ان کے لیے معجزہ ہوتا ہے، اولیاء کو بھی اگرچہ غیوب پر اطلاع دی جاتی ہے، مگر انبیاء کا علم بہ اعتبار کشف وانجلاء اولیاء کے علم سے بہت بلند وبالا و ارفع و اعلیٰ ہے اور اولیاء کے علوم انبیاء ہی کی وساطت اور ان ہی کے فیض سے ہوتے ہیں۔

معتزلہ ایک گم راہ فرقہ یہ، وہ اولیاء کے لیے علم غیب کا قائل نہیں، اس کا خیال باطل اور احادیث کثیرہ کے خلاف ہے اور اس آیت سے ان کا تمسک صحیح نہیں، بیان مذکورہ بالا میں اس کا اشارہ کردیا گیا ہے، سید الرسل، خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرتضیٰ رسولوں میں سب سے اعلیٰ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تمام اشیاء کے علوم عطاء فرمائے، جیسا کہ صحاح کی معتبر احادیث سے ثابت ہے اور یہ آیت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور تمام مرتضیٰ رسولوں کے لیے غیب کا علم ثابت کرتی ہے۔

(خزائن العرفان بر کنز الایمان ص ٩١٧، تاج کمپنی لمیٹڈ، لاہور)

ہم نے اس آیت کی تفسیر میں بہ کثرت مفسرین کی عبارات پیش کی ہیں، علامہ قرطبی، علامہ رومی، علام قونوی اور علامہ اسماعیل حقی کی عبارات اس لیے پیش کیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ نجومیوں، کاہنوں اور جادوگروں کو علم غیب عطاء کرنے کے مسئلہ میں امام رازی سے اختلاف کرنے میں ہم منفرد نہیں ہیں، دیگر مفسرین نے بھی ان کے علم غیب کا انکار کیا ہے اور باقی مفسرین کی عبارات اس لیے پیش کی ہیں تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم غیب اور آپ کے واسطے سے علم غیب اجماعی عقیدہ ہے، جس کو ہر مکتبہ فکر کے علماء مانتے ہیں۔

امام احمد رضا کے نزدیک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے علم کا فرق

امام احمد رضا قادری قدس سرہ ٗ لکھتے ہیں : کسی علم کی حضرت عزوجل سے تخصیص اور اس کی ذات پاک میں حصر اور اس کے غیر سے مطلقاً نفی چند وجہ پر ہے :

(١) علم کا ذاتی ہونا کہ بذات ِ خود بےعطاء غیر ہے۔

(٢) علم کا غنا کہ کسی آلہ جارحہ و تدبیر فکر و نظر والتفات وانعفال کا اصلاً محتاج نہ ہو۔

(٣) علم کا سرمدی ہونا کہ ازلاً بداً ہو۔

(٤) علم کا وجوب کہ کسی طرح اس کا سلب ممکن نہ ہو۔

(٥) علم کا ثبات و استمرار کہ کبھی کسی وجہ سے اس میں تغیر، تبدل، فرق اور تفاوت کا امکان نہ ہو۔

(٦) علم کا اقصیٰ غایت کمال پر ہونا کہ معلوم کی ذات، ذاتیات، اعراض، احوال لازمہ، مفارقہ، ذاتیہ، اضافیہ، ماضیہ آتیہ ( مستقبلہ) موجود، ممکنہ سے کوئی ذرہ کسی وجہ پر مخفی نہ ہو سکے۔

ان چھ وجہ پر مطلق علم حضرات احدیت جل وعلا سے خاص اور اس کے غیر سے مطلقاً نہیں یعنی کسی کو کسی ذرعہ کا ایسا علم جو ان چھ وجوہ سے ایک وجہ بھی رکھتا ہو حاصل ہونا ممکن نہیں ہے، جو کسی غیر الٰہی کے لیے عقول مفارقہ ہوں، خواہ نفوس ناطقہ ایک ذرے کا ایسا علم ثابت کرے یقینا اجماعاً کافر مشرک ہے۔ (الصمصام ص ٦)

نیز امام احمد رضا قادری قدس سرہ ٗ لکھتے ہیں :

میں نے اپنی کتابوں میں تصریح کردی ہے کہ اگر تمام اولین و آخرین کا علم جمع کیا جائے تو اس علم کو علمی الٰہی سے وہ نسبت ہرگز نہیں ہوسکتی جو ایک قطرہ کے کروڑویں حصہ کو سمندر سے ہے، کیونکہ بہ نسبت متناہی کی متناہی کے ساتھ ہے اور وہ غیر متناہی کی متناہی سے۔ (الملفوظ ج ١ ص ٤٦، نوری کتب خانہ، لاہور)

خلاصہ یہ ہے کہ تمام مخلوقات کے علوم کے مقابلہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم ایسا ہے جیسے قطرہ کے مقابلہ میں سمندر ہو اور اللہ کے علم کے مقابلہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کی وہ نسبت بھی نہیں ہے جو قطرہ اور سمندر میں ہوتی ہے۔ کیونکہ قطرہ اور سمندر میں متناہی کی نسبت متناہی کی طرف ہے اور آپ کے علم کی اللہ تعالیٰ کے علم کی طرف نسبت متناہی کی نسبت غیر متناہی کی طرف ہے۔

امام احمد رضا کے نزدیک عالم الغیب اللہ تعالیٰ کی صفت مخصوصہ ہے

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ فرماتے ہیں :

علم غیب عطاء ہونا اور لفظ ” عالم الغیب “ کا اطلاق اور بعض اجلہ اکابر کے کلام میں اگرچہ بندہ مومن کی نسبت صریح لفظ ” یعلم الغیب “ وارد ہے، کما فی مرقاۃ المقاتیج شرح مشکوٰۃ المصابیح للملا علی القاری، بلکہ خود حدیث سیدنا عبد اللہ بن عباس (رض) میں سیدنا خضر (علیہ السلام) والسلام کی نسبت ارشاد ہے : ” کان یعلم علم الغیب “ مگر ہماری تحقیق میں لفط ”’ عالم الغیب “ کا اطلاق حضرت عزت عز جلالہٗ کے ساتھ خاص ہے کہ اوس سے عرفاً علم بالذات متبادر ہے۔ کشاف میں ہے :” المراد بہ الخفی الذی لا ینفذفیہ ابتداء الا علم اللطیف الخبیر والھذا لا یجوز ان یطلق فلان یعلم الغیب “ اور اس سے انکار کا معنی لازم نہیں آتا۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قطعاً بیشمار غیوب و ماکان ویایکون کے عالم ہیں، مگر عالم الغیب صرف اللہ عزوجل کو کہا جائے گا، جس طرح حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قطعاً عزت و جلالت والے ہیں، تمام عالم میں اون کے برابر کوئی عزیز و جلیل نہ ہے نہ ہوسکتا ہے مگر محمد عزوجل کہنا جائز نہیں بلکہ اللہ عزوجل و محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غرض صدق و صورت معنی کو جواز اطلاق لفظ لازم نہیں، نہ منع اطلاق لفظ کو نفی صحت معنی، امام ابن المنیر اسکندری کتاب الانتصاف میں فرماتے ہیں :” کم من معتقد لا یطلق القول بہ خشیۃ ایھام غیرہ مما لا یجوز اعتقادہ فلا ربط بین الاعتقاد والا طلاق “ یہ سب اوس صورت میں ہے کہ مقید بقید اطلاق اطلاق کیا جائے یا بلا قید علی الاطلاق مثلاً عالم الغیب یا عالم الغیب علی الاطلاق اور اگر ایسا نہ ہو بلکہ بالواسطہ یا بالعطا کی تصریح کردی جائے تو وہ محذور نہیں کہ ابہام زائل اور مراد حاصل۔ ( فتاویٰ رضویہ ج ٩ ص ٨١، مکتبہ، رضویہ، کراچی)

علم کلی کی تحقیق

الجن : ٢٦ میں ہم نے علم غیب کے تمام اہم موضوعات پر بحث کی ہے تاہم یہ مبحث ادھورا رہے گا، اگر یہ نہ بتایا جائے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو علم غیب عطاء کیا گیا ہے آیا وہ کلی ہے یا نہیں ؟ سو ہم کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کلی علم عطاء کیا گیا ہے، اور کلی علم کا معنی یہ ہے کہ وہ کل مخلوقات کا علم ہے نہ کہ خالق کا کل علم ہے، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس علم کلیکو ما کان وما یکون کے علم سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کی بار بار وضاحت کی گئی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم متناہی ہے اور اللہ تعالیٰ کا علم غیر متناہی ہے۔

دوسری بحث یہ ہے کہ آ کو علم کلی دفعۃً دیا گیا ہے، بعض دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو علم کلی دفعۃً عطاء کیا گیا ہے اور بعض دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو علم کلیتدریجا ً عطاء کیا گیا ہے اور ان میں تطبیق اس طرح ہے کہ علم کلی آپ کو اجمالاً دفعۃً عطاء کیا گیا ہے اور تفصیلاً آپ کو علم کلی تدریجا عطاء کیا گیا، اب ہم پہلے دفعۃً علم کلی عطاء کیے جانے کے دلائل پیش کریں گے اور پھر تدریجا ًعلم کلی عطاء کیے جانے کے دلائل پیش کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق وبہ الاستعانۃ یلیق۔

قرآن مجید سے علم کلی دفعۃً علماء کیے جانے کے دلائل

وَاَنْزَلَ اللہ ُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُط وَکَانَ فَضَْلُ اللہ ِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا۔ (النساء : ١١٣)

اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی اور آپ کو ان تمام چیزوں کا علم دے دیا جن کو آپ پہلے نہیں جانتے تھے اور اللہ کا آپ پر فضل عظیم ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں امام ابو جعفر محم بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ لکھتے ہیں :

اولین اور آخرین کی خبروں اور ” ما کان وما یکون “ ( جو کچھ ہوچکا اور جو کچھ مستقبل میں ہوگا میں سے جس کو آپ پہلے نہیں جانتے تھے، اس سب کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم دے دیا۔ ( جامع البیان جز ٥ ص ٣٧٣، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام عبد الرحمان بن محمد بن ادریس رازی ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ لکھتے ہیں :

قتادہ نے کہا : آپ کو دنیا اور آخرت کے بیان کا علم دیا اور حلال اور حرام کا علم دیا، تاکہ اس علم سے آپ اللہ کی مخلوق کے سامنے استدلال کریں۔

ضحاک نے کہا : آپ کو خیر اور شر کا علم دیا۔

( تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٤ ص ١٠٦٤، رقم الحدیث : ٥٩٥٨۔ ٥٩٥٧، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

امام الحسین بن مسعود البغوی الشافعی متوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

آپ احکام میں سے جو کچھ نہیں جانتے تھے اور ایک قول ہے : آپ علم غیب سے جو کچھ نہیں جانتے تھے اس کا علم آپ کو دے دیا۔ (معالم التنزیل ج ١ ص ٧٠٠، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

امام فخر الدین عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : اس آیت کی دو تفسیریں ہیں :

(١) اللہ تعالیٰ ے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی اور ان کے اسرار پر آپ کو مطلع کیا اور ان کے حقائق سے آپ کو آگاہ کیا حالانکہ اس سے پہلے آپ کو ان میں سے کسی چیز کا علم نہیں تھا، اسی طرح آئندہ بھی آپ کو مطلع فرمائے گا تاکہ منافقین آپ کو پھسلانے پر قادر نہ ہو سکیں۔

(٢) اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کو اولین کی خبروں سے مطلع کیا تاکہ آپ منافقین کے مکرو فریب سے محفوظ رہیں، اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو جو علم عطاء فرمایا : اس کے متعلق ارشاد کیا : وہ بہت کم ہے ” وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا۔ “ (بنی اسرائیل : ٨٥) اور صرف آپ کے علم کے متعلق فرمایا : وہ علم ہے ” وَکَانَ فَضَْلُ اللہ ِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا۔ “ النساء : ١١٣) یہ آپ کے علم کے شرف عظیم پر دلیل ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٤ ص ٢١٧، داراحیاء التراث العربی، بیرو ت، ١٤١٥ ھ)

قاضی عبد اللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں :

آپ مخفی چیزوں اور امور دین اور احکام میں سے جو کچھ بھی نہیں جانتے تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا علم دے دیا۔

(تفسیر بیضاوی مع عنایۃ القاضی ج ٣ ص ٣٤٩، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٧ ھ)

تفسیر بیضاوی کی شرح میں علامہ اسماعیل بن محمد قونوی حنفی متوفی ١١٩٥ ھ لکھتے ہیں :

آپ کو ان مخفی امور کا علم دے دیا جو غیب ہیں، جن کا حواس ادراک کرسکتے ہیں نہ بداہت عقل ان کا تقاضا کرتی ہے۔

(حاشیۃ القونوی ج ٧ ص ٢٩٦، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٣٢ ھ)

علامہ علاء الدین علی بن محمد الخازن المتوفی ٧٤١ ھ لکھتے ہیں :

آپ کو احکام شرع اور امور دین میں سے جن کا علم نہیں تھا، ان کا علم آپ کو دے دیا، ایک قول یہ ہے کہ آپ کو علم غیب سے جن چیزوں کا علم نہیں تھا، آپ کو ان کا علم دے دیا، دوسرا یہ ہے کہ آپ کو مخفی چیزوں، دلوں کی باتوں، منافقین کے احوال اور ان کے مکرو فریب کا علم دے دیا۔ ( تفسیر الخازن ج ١ ص ٤٢٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥)

علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں :

آپ جن مخفی امور اور غیب کو نہیں جانتے تھے ان کا علم آپ کو دے دیا۔

( روح البیان ج ٢ ص ٣٤٣، داراحیاء، التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)

علامہ سید محمد آلوسی بغدادی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

آپ جن مخفی امور، دل کی باتوں، منافقوں کی سازشوں، امور دین اور احکام شرع کو نہیں جانتے تھے، ان سب کا علم آپ کو دے دیا اور آپ کو دین کے اسرار سے مطلع اور حقائق شرع سے واقف کردیا۔ ( روح المعانی جز ٤ ص ٢١٠، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

علم کلی دفعۃً عطاء کیے جانے کے متعلق احادیثعن معاذ بن جبل قال احتبس عنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذات غداۃ من صلوۃ الصبح حتی کدنا نترا ای عین الشمس فخرج سریعا فثوب بالصلوۃ فصلی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتجوز فی صلوتہ فلما سلم دعا بصوتہ فقال لنا علی مصافکم کما انتم ثم انفتل الینا فقال اما انی ساحدثکم ما حبسنی عنکم الغداۃ انی قمت من اللیل فتوضات فصلیت ما قدرلی فنعست فی صلوتی فاستثقلت فاذا بربی تبارک و تعالیٰ فی احسن صورۃ فقال یا محمد فلت رب لبیک قال فیم یختصم الملاء الاعلی قلت لا ادری رب قالھا ثلاثا قال فرایتہ وضع کفہ بین کتفی قد وجدت برد اناملہ بین ثدیی فنجلالی کل شئی و عرفت۔ الحدیث الی ان قال، قال ابو عیسیٰ ھذا حدیث حسن صحیح سالت محمد ابن اسماعیل عن ھدا الحدیث فقال ھذا صحیح۔

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز میں آنے کے لیے دیر کی، حتیٰ کہ قریب تھا کہ ہم سورج کو دیکھ لیتے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلدی سے آئے اور نماز کی اقامت کہی گئی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مختصر نماز پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر کر بہ آواز بلند ہم سے فرمایا : جس طرح اپنی صفوں میں بیٹھے ہو بیٹھے رہو، پھر ہماری طرف مڑے اور فرمایا : میں اب تم کو یہ بیان کروں گا کہ مجھے صبح کی نماز میں آنے سے کیوں دیر ہوگئی۔ میں رات کو اٹھا اور وضو کر کے میں نے اتنی رکعات پڑھی جتنی میرے لیے مقدر کی گئی تھی، پھر مجھے نماز میں اونگھ آئی، پھر مجھے گہری نیند آگئی۔ اچانک میں نے اچھی صورت میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو دیکھا اس نے فرمایا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے کہا : اے میرے رب ! میں حاضر ہو، فرمایا : ملا اعلیٰ کس چیز میں بحث کر رہے ہو ؟ میں نے کہا : میں نہیں جانتا۔ آپ نے کہا : میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو کندھوں کے درمیان رکھا اور اس کے پوروں کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی، پھر ہر چیز مجھ پر منکشف ہوگئی اور میں نے اس کو جان لیا۔ ( الحدیث)

(سنن ترمذی ص ٤٦٦، رقم الحدیث : ٣٢٣٣، مطبوعہ نور محمد، کراچی)

امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے، میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ حدیث صحیح ہے۔

شعیب الارنؤوط اور انکے معاونین نے اس حدیث کی مزید تخریج اس طرح کی ہے :

مسند حمد ج ١ ص ٣٦٨ قدیم، مسند حمد ج ٥ ص ٤٣٨۔ رقم الحدیث : ٣٤٨٤، طبع جدید مؤسستہ الرسالۃ، تفسیر عبد الرزاق ج ٢ ص ١٦٩، العلل المتناہیہ ج ١ ص ٣٤، مسند عبد بن حمید رقم الحدیث : ٦٨٢، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٣٢٠، الشریعۃ للآجری ص ٤٩٦، السنۃ لا بن ابی عاصم رقم الحدیث : ٤٦٩، کتاب الاسماء والصفات ص ٣٠٠، مسند البزار رقم الحدیث : ٢١٢٨۔

واضح رہے کہ امام ترمذی نے اس حدیث کو حضرت معاذ بن جبل (رض) سے روایت کیا ہے، اور امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں اس حدیث کو حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے۔

نیز امام احمد روایت کرتے ہیں :

عن ابن عباس ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال اتانی ربی فی احسن صورۃ فقال یا محمد فقلت لبیک ربی وسعدیک قال فیم یختصم الملائ الاعلی قلت ربی لا ادری فوضع یدہ بین کتفی حتی وجدت بردھا بین ثدیی فعلمت ما بین المشرق والمغرب۔

(سنن ترمذی ص ٤٥٥۔ رقم الحدیث : ٣٢٣٤، مطبوعہ نور محمد، کراچی)

حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے ( خواب میں) اپنے رب کو حسین صورت میں دیکھا، میرے رب نے کہا : اے محمد ! ، میں نے کہا : حاضر ہوں یا رب ! فرمایا : ملاً اعلیٰ کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا : اے میرے رب ! میں نہیں جانتا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو کندھوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی، پھر میں نے جان لیا جو کچھ مشرق اور مغرب کے درمیان ہے۔

امام احمد بن حنبل اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عن ابن عباس ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال اتانی ربی عزوجل اللیلۃ فی احسن صورۃ احسبہ یعنی فی النوم فقال یا محمد تدری فیم یختصم الملاء الاعلی قال قلت لا قال النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوضع یدہ بین کتفی حتی وجدت بردھا بین ثدیی او قال نحری فعلمت ما فی السموات والارض۔

(مسند احمد ج ١ ص ٣٦٨ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج رات کو نیند میں میرا رب عزوجل حسین صورت میں میرے پاس آیا اور فرمایا : اے محمد ! کیا تم جانتے ہو ملا اعلیٰ کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ حضرت ابن عباس کہتے ہیں : آپ نے فرمایا : نہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو کندھوں کے درمیان رکھا حتیٰ کہ میں نے اپنے سینے میں اس کی ٹھنڈک محسوس کی اور میں نے ان تمام چیزوں کو جان لیا جو آسمان اور زمینوں میں ہیں۔

امام احمد بن حنبل نے ایک اور سند سے بھی یہ حدیث روایت کی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں :

فوضع کفیہ بین کتفی فوجدت بردھا بین ثدیی حتی تجلی لی ما فی السموات وما فی الارض۔ (مسند احمد ج ٤ ص ٣٦٦ )

اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو میرے کندھوں کے درمیان رکھا، میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنے سینہ میں محسوس کیا حتیٰ کہ میرے لیے وہ تمام چیزیں منکشف ہوگئیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمینوں میں ہیں۔

امام ترمذی نے ایک اور سند کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل (رض) سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھا حتیٰ کہ میں نے اس کے پوروں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے درمیان محسوس کی۔

فتجلی لی کل شئی وعرفت۔ الحدیث پھر میرے لیے ہر چیز منکشف ہوگئی اور میں نے اس کو پہنچا لیا۔

( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٣٥، مسند احمد ج ٥ ص ٢٤٣، طبع قدیم، مسند حمد ج ٣٦ ص ٤٢٢۔ رقم الحدیث : ٢٢١٠٩، مؤسستہ الرسالۃ، بیروت، تہذیب الکمال ج ١٧ ص ٢٠٥، صحیح ابن خزیمہ ج ١ ص ٥٤٢، المعجم الکبیر ج ٢٠۔ رقم الحدیث : ٢١٦، الکامل لا بن عدی ج ٦ ص ٢٣٤٤، مسند البزار رقم الحدیث : ٢٦٦٨، المعجم الکبیر ج ١۔ رقم الحدیث : ٦٩٠)

سنن ترمذی کی ان احادیث میں یہ تصریح ہے کہ آپ کو علم کلی دفعۃً عطاء کیا گیا، اسی طرح درج ذیل حدیث بھی اس مطلوب پر دلالت کرتی ہے :

عن ثوبان قال قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اللہ زوی لی الارض فرایت مشارقھا ومغاربھا۔ ( صحیح مسلم ج ٤ ص ٣٩٠، کراچی)

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا اور میں نے اس کے تمام مشارق و مغارب کو دیکھ لیا۔

اس حدیث کو امام بیہقی نے بھی روایت کیا ہے، نیز امام ابو دائود اور امام احمد نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔

( دلائل النبوۃ ج ٦ ص ٥٢٧، سنن ابو دائود ج ٢ ص ٣٢٨، مسند احمد ج ٥ ص ٢٧٨)

اور یہ حدیث بھی اسی مطلوب پر دلالت کرتی ہے۔

حضرت انس اور ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک عزوجل نے دنیا کو میرے لیے اٹھا لیا اور میں دنیا کی طرف اور قیامت تک دنیا میں جو کچھ ہونے والا ہے اس کو اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے اپنے ان ہاتھوں کو ہتھیلیوں کو دیکھ رہا ہوں، جو اللہ عزوجل کے حکم سے روشن ہیں، اس نے اپنے نبی کے لیے ان کو روشن کیا، جس طرح پہلے نبیوں کے لیے روشن کیا تھا۔ ( حلیۃ الاولیاء ج ٦ ص ١٠١، الجامع الکبیر رقم الحدیث : ٤٨٤٩، کنز العمال رقم الحدیث : ٣١٩٧٩۔ ٣١٨١٠، حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کے راویوں کی توثیق کی گئی ہے، اس میں سعید بن سنان رھاوی ضعیف راوی ہے، مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٨٧)

ان احادیث کے علاوہ اب ہم چند ایسی احادیث پیش کر رہے ہیں، جن میں یہ دلیل ہے کہ آپ نے ما کان وما یکون کی خبریں دی ہیں :

” ما کان وما یکون “ کے علم کے ثبوت میں احادیث

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں تشریف فرما ہوئے اور قیامت تک جو امور پیش ہونے والے تھے آپ نے ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑا اور وہ سب امور بیان کردیئے، جس نے ان کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جس نے ان کو بھلا دیا اس نے نے بھلا دیا، اور میرے ان اصحاب کو انکا علم ہے، ان میں سے کئی ایسی چیزیں واقع ہوئیں جن کو میں بھول چکا تھا، جب میں نے ان کو دیکھا تو وہ یاد آگئیں، جیسے کوئی شخص غائب ہوجاتے تو اس کا چہرہ دیکھ کر اس کو یاد آجاتا ہے کہ اس نے اس کو دیکھا تھا۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦٠٤، صحیح مسلم کتاب الجنۃ ٣٣۔ رقم الحدیث ٧١٣٠، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤١٤٠، مسند احمد ج ٥ ص ٣٨٥، جامع الاصول ج ١١۔ رقم الحدیث : ٨٨٨٢)

حضرت ابو زید عمرو بن اخطب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو صبح کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے، پھر آپ نے ہمیں خطبہ دیا حتیٰ کہ ظہرآ گئی، آپ منبر سے اترے اور نماز پڑھائی، پھر منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا حتیٰ کہ عصر آگئی، پھر آپ منبر سے اترے اور نماز پڑھائی، پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہم کو خطبہ دیا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا، پھر آپ نے ہمیں ” ما کان وما یکون “ ( جو ہوچکا ہے اور جو ہونے والا ہے) کی خبریں دیں، پس ہم میں سے زیادہ عالم وہ تھا جو سب سے زیادہ حافظہ والا تھا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧١٣٤، مسند احمد ج ٣ ص ٣١٥، مسند عبد بن حمید رقم الحدیث : ١٠٢٩، البدایہ والنہایہ ج ٦ ص ١٩٢، جامع الاصول ج ١١۔ رقم الحدیث : ٨٨٨٥، الاحاد و المثانی ج ٤۔ رقم الحدیث : ٢١٨٣، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٦ ص ٣١٣)

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں تشریف فرما ہوئے اور آپ نے ہمیں مخلوق کی ابتداء سے خبریں دینی شروع کیں، حتیٰ کہ اہل جنت اپنے ٹھکانوں میں داخل ہوگئے اور اہل دوزخ اپنے ٹھکانوں میں داخل ہوگئے، جس نے اس کو یاد کھا اس نے یاد رکھا اور جس نے اس کو بھلا دیا اس نے بھلا دیا۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣١٩٢، امام احمد نے اس حدیث کو حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روات کیا ہے، مسند احمد ج ١٤۔ رقم الحدیث : ١٨١٤٠، طبع دارالحدیث، قاہرہ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کے عموم اور علم ماکان وما یکون کے متعلق علماء اسلام کی تصریحات

حضرت سواد بن قارب (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت سے آپ کی شان میں چند اشعار سنائے، جن میں سے ایک شعر یہ ہے ؎

فاشھد ان اللہ لا رب غیرہ وانک مامون علی کل غائب

” میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی رب نہیں اور آپ اللہ تعالیٰ کے ہر غیب پر امین ہیں “۔

حضرت سواد بن قارب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ اشعار سن کر مجھ سے بہت خوش ہوئے، آپ کے چہرہ اقدس سے خوشی کے آثار ظاہر ہو رہے تھے : فرمایا : ” افلحت یا سواد “ اے سودا ! تم کامیاب ہوگئے۔ اس حدیث بہ کثرت علماء اسلام نے اپنی تصنیفات میں ذکر کیا ہے۔ بعض علماء کے اسماء یہ ہیں : امام ابو نعیم، امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی، علامہ ابن عبد البر، علامہ سہیلی، علامہ ابن الجوزی، حافظ ابن کثیر، علامہ بدر الدین عینی، علامہ جلال الدین سیوطی، علامہ حلبی، شیخ عبد اللہ بن محمد بن عبد الوہاب نجدی، علامہ محم بن یوسف الصالی الشامی۔ ( دلائل النبوۃ لابی نعیم ج ١ ص ١١٤، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ٢٥١، استعیاب علی ہامش الاصابہ ج ٢ ص ١٢٤، الروض الانف ج ١ ص ١٤٠، الوفاج ١ ص ١٥٣، السیرۃ النبویہ لا بن کثیر ج ١ ص ٣٤٦، عمدۃ القاری ج ١٧ ص ٨، الخصائص الکبریٰ ج ١ ص ١٧١، بیروت، انسان العیوب ج ١ ص ٣٢٤، مختصر سیرت الرسول ص ٦٩، سبل الہدیٰ والرشاد ج ٢ ص ٢٠٩)

علامہ ابن جریر طبری لکھتے ہیں :

وعلمک ما لم تکن تعلم من خبر الاولین والاخرین وما کان وما ھو کائن۔

اولین اور آخرین کی خبروں اور ما کان وما یکون میں سے جو کچھ آپ نہیں جانتے تھے وہ سب اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتلا دیا۔

(جامع البیان جز ٥ ص ٣٧٣، بیروت)

قاضی عیاض لکھتے ہیں :

وما تعلق عقدۃ من ملکوت السموت والارض وخلق اللہ و تعیین اسماء الحنسنی وایاتہ الکبری و امور الاخرۃ واشراط الساعۃ واحوال السعداء والاشقیاء وعلم ما کان وما یکون مما یعلمہ الا یوحی۔

(الشفاء ج ٢ ص ١٠٠، ملتان)

آسمانوں اور زمینوں کی نشانیاں، اللہ تعالیٰ کی مخلوق، اللہ تعالیٰ کے اسماء کی تعیین، آیات کبریٰ ، امور آخرت، علامات قیامت، اچھے اور برے لوگوں کے احوال اور ما کان وما یایکون کا علم اس قبل سے ہے جس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر وحی کے نہیں جانا۔ آسمانوں اور زمینوں کی نشانیاں، اللہ تعالیٰ کی مخلوق، اللہ تعالیٰ کے اسماء کی تعیین، آیات کبریٰ ، امور آخرت، علامات قیامت، اچھے اور برے لوگوں کے احوال اور ماکان وما یکون کا علم اس قبل سے ہے جس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر وحی کے نہیں جانا۔

ملا علی قاری لکھتے ہیں :

ان علمہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محیط بالکیات والجزئیات ( المرقات ج ١٠ ص ١٥١ )

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم کلیات اور جزئیات کو محیط ہے۔

نیز ملا علی قاری فرماتے ہیں :

کون علمھا من علومہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان علومہ تتنوع الی الکلیات والجزئیات و حقائق ودقائق وعوارف و معارف تتعلق بالذات والصفات وعلمھا انما یکون سطرا من سطور علمہ ونھرا من بحور علمہ ثم مع ھذا ھو من برکۃ وجودہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔

لوح و قلم، علوم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک ٹکڑا اس لیے ہے کہ حضور کے علم انواع انواع ہیں، کلیات، جزئیات، حلائق و قائق، عوارف اور معارف کہ ذات وصفات الٰہی سے متعلق ہیں اور لوح و قلم کا علم تو حضور کے مکتوب علم سے ایک سطر اور اس کے سمندروں سے ایک نہر ہے، پھر بایں ہمہۃ وہ حضور ہی کی برکت سے تو ہے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔

(الزبدۃ شرح قصیدہ بردہ ص ١١٦، مطبوعہ پیر جوگوٹھ، سند، ٤١٠٦ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

الشانیۃ والاربعون اطلاع علی ما سیکون الثالثۃ والا ربعون الاطلاع علی ما کان ممالم ینقلہ احد قبلہ ( فتح الباری ج ٢١ ص ٣٦٧ )

نبوت کی بیالیسوں صفت یہ ہے کہ ان کو ما یکون ( امور مستقبلہ) کا علم ہو اور تینتالیسویں صفت یہ ہے کہ ان کو ماکان ( امور ماضیہ) کا علم ہو، جن کو ان سے پہلے کسی نے نہ بیان کیا ہو۔

علامہ سید محمود آلوسی لکھتے ہیں :

(انزلہ بعلمہ) ای متلبسا بعلمہ المحیط الذی لا یعزب عنہ مثقال ذرۃ فی السموت ولارض ومن ھنا علم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ما کان وما ھو کائن۔ (روح المعانی ج ٦ ص ٢٢ )

اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت علم کے ساتھ تجلی کر کے حضور پر قرآن نازل کیا، جس صفت علم سے آسمانوں اور زمین کا کوئی ذرہ غائب نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ما کان وما یکون کو جان لیا۔

نیز علامہ آلوسی لکھتے ہیں :

فلم یقبض النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حتی علم کل شئی یمکن العلم بہ۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس وقت تک وصال نہیں ہوا جب تک آپ نے ہر اس چیز کو نہیں جان لیا جس کا علم ممکن ہے۔

( روح المعانی ج ١٥ ص ١٥٤ )

شیخ اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مجاز شیخ مرتضیٰ حسین چاند پوری لکھتے ہیں :

حاصل یہ ہے کہ سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم مغیبات اس قدردیا گیا تھا کہ دنیا کے تمام علوم بھی اگر ملائے جائیں تو آپ کے ایک علم کے برابر نہ ہوں۔ ( توضیح البیان فی حفظ الایمان ص ١٢)

علم کلی تدریجا ًعطاء کیے جانے کے دلائل

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَکُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآئِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ (ھود : ١٢٠ )

رسولوں کی خبروں میں سے ہم آپ کو وہ بیان فرماتے ہیں جن سے ہم آپ کے دل کو ثابت اور برقرار رکھیں۔

لَقَدْ جِئْنٰـکُمْ بِالْحَقِّ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَکُمْ لِلْحَقِّ کٰرِہُوْنَ ۔ ( المومن : ٧٨)

اور بیشک ہم نے آپ سے پہلے ( بھی) رسول بھیجے، ان میں سے بعض کا قصہ ہم نے آپ سے بیان فرمایا اور بعض کا قصہ ہم نے آپ سے بیان نہیں فرمایا۔

اعلیٰ حضرت امام رضا قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں :

ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو ما کان وما یکون کا علم ہے، وہ قرآن عظیم سے مستفاد ہے اور قرآن مجید میں ہر چیز کی تفصیل ہے اور قرآن مجید دفعۃً نازل نہیں ہوا، بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے تدریجا ًتئیس سال میں نازل ہوا ہے، پس جب بھی کوئی آیت یا کوئی سورت نازل ہوتی تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علوم میں اضافہ کرتی، حتیٰ کہ قرآن مجید کا نزول مکمل ہوگیا، پس ہر چیز کی تفصیل اور اس کا بیان مکمل ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کے اوپر نعمت کو مکمل کردیا جیسا کہ اس نے قرآن میں اس کا وعدہ فرمایا ہے، پس اگر قرآن مجید کے نزول کی تکمیل سے پہلے یہ اعتراض کیا گیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بعض نبیوں کا قصہ بیان نہیں کیا گیا، یا آپ کو منافقین کا علم تھا، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی قصہ یا کسی واقعہ میں توقف فرمایا ( جیسا کہ اصحاب کہف، ذوالقرنین اور روح کے سوال کے موقع پر ایسا ہوا) حتیٰ کہ وحی نازل ہوگئی اور آپ پر سوال کردہ امور منکشف ہوگئے تو وہ قرآن مجید میں ہر چیز کے بیان ہونے کے منافی نہیں ہے اور نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کلی ہونے کے منافی ہے، جیسا کہ کسی بھی عقل مند پر مخفی نہیں ہے۔

پس منکرین علم غیب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کی نفی کے لیے جب بھی بعض واقعات اور روایات سے استدلال کریں گے، خواہ ان واقعات اور روایات کی تاریخ کا علم نہ ہو تو ان کا استدلال باطل ہوگا، کیونہ ہوسکتا ہے کہ وہ واقعہ قرآن مجید کے نزول کی تکمیل سے پہلے کا ہو اور آپ کے علم کلی کی تکمیل قرآن مجید کے نزول کی تکمیل کے ساتھ ہوئی ہے، اور اگر وہ واقعہ قرآن مجید کے نزول کی تکمیل کے بعد کا ہو تو منکرین کو اس پر صریح نص پیش کرنی ہوگی اور اس کے بغیر ان کا دعویٰ محض باطل ہوگا اور منکرین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کی تقصیر اور تنقیص اس کے بغیر ثابت نہیں کرسکتے۔

اگر بہ فرض محال وہ کوئی ایسی روایت لے آئیں، جس کے متعلق قطعیت سے ثابت ہو کہ وہ قرآن مجید کے نزول کی تکمیل کے بعد کی ہے اور اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض علم کی نفی ہوتی ہو، تب بھی وہ ہمیں مضر نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید ہے :” وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُط وَکَانَ فَضَْلُ اللہ ِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا۔ “ (النساء : ١١٣) اور اللہ نے آپ کو ان تمام چیزوں کا علم دے دیا، جن کو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا فضل عظیم ہے۔

اور ہم اس آیت قطعی الدلالۃ سے آپ کا علم کلی ثابت کرچکے ہیں اور جو روایات خبر واحد کے قبیل سے ہوں اور وہ قرآن مجید کے معارض ہوں تو ان کو نہ سنا جاتا ہے، نہ قبول کیا جاتا ہے بلکہ ان کو مسترد کردیا جاتا ہے اور منکرین کے سر خیل شیخ انیٹھوی نے لکھا ہے کہ عقائد کے مسائل قیاسی نہیں کہ قیاس سے ثابت ہوجائیں بلکہ قطعی ہیں، قطعیات نصوص سے ثابت ہوتے ہیں، خیر واحد بھی یہاں مفید نہیں۔ ( براہین قاطعہ ص ٥١، مطبع بلالی، ہند)

سو منکرین پر لازم ہے کہ اگر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کلی کی نفی ثابت کرنا چاہتے ہیں تو وہ قرآن مجید کی آیت یا حدیث متواتر کی طرح ایسی قطعی الثبوت اور قطعی الدلالۃ روایت پیش کریں جس سے یہ ثابت ہو کہ قرآن مجید کے نزول کی تکمیل کے بعد بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فلاں چیز کا اصلاً علم نہیں ہوا اور اس ط رح نہ ہو کہ آپ کو علم تو تھا لیکن آپ نے اسی کو مخفی رکھا، کئی ایسی چیزیں ہیں کہ آ کو ان کا علم تھا، لیکن آپ نے ان کو ظاہر نہیں کیا اور اس کو مخفی رکھا اور اس دلیل سے یہ بھی ثابت ہو کہ مکمل توجہ کے بعد بھی آپ کو علم نہیں ہوا کیونکہ بسا اوقات آپ کو کسی چیز کا علم ہوتا ہے لیکن آپ کی توجہ نہیں ہوتی۔ ( الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیہ ص ٨٥۔ ٨٣، ملخصا، مرکز اہل السنۃ برکات رضا، ١٤٢٣ ھ)

النساء : ١١٣ سے علم کلی کے استدلال پر شبہات کے جوابات

وَاَنْزَلَ اللہ ُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُط وَکَانَ فَضَْلُ اللہ ِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا۔ (النساء : ١١٣)

ہم نے آپ پر کتاب اور حکمت نزل کی اور آپ کو وہ سب کچھ بتلا دیا جسے پہلے آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر یہ اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لفظ ” ما “ استعمال فرمایا ہے اور علماء اصول کا اس بات پر اتفاق ہے کہ لفظ ” ما “ اپنے عموم اور استغراق میں قطعی ہے اور قطعی ہے اور قطعی کی تخصیص خبر واحد اور قیاس سے بھی نہیں ہوسکتی۔ ( توضیح تلوح ص ٧٩، مطبع نور محمد اصح المطابع) اس لیے اگر بعض مفسرین نے یہاں ” مالم تکن تعلم “ ( جو کچھ آپ نہیں جانتے تھے) کو احکام شریعت کے ساتھ مقید کیا ہے تو وہ ناقابل الثفات ہے، اس آیت کا صریح مفاد اور قطعی مدلول یہ ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے آپ جو کچھ بھی نہیں جانتے تھے، خواہ وہ احکام شرعیہ ہوں یا امور دنیویہ، اس آیت کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے وہ تمام امور آپ کو بتلا دیئے۔

رہا یہ سوال کہ پھر اس آیت کے بعد باقی قرآن کیوں نازل ہوتا رہا، اس کا جواب اولاً یہ ہے کہ سورة نساء مدنی سورتوں میں سے ہے اور کون سی سورت آخری ہے اس پر اتفاق نہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سورة نساء کی چند آیات قرآن مجید کی آخری آیات ہیں۔ ( الاتقان ج ١ ص ١١٤، دارالکتب العربی، بیروت) لہٰذا جب کہ آخری سورت اور آخری آیت کا تعین قطعی نہیں ہے تو غیر قطعی چیز قطعی دلیل کے معارض نہیں ہوسکتی۔ ثانیا ً اگر یہ مان بھی لیا جائے ’ وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ “ ( النساء : ١١٣) آپ اس سے پہلے جو کچھ بھی نہیں جانتے تھے وہ ہم نے آپ کو بتلا دیا، کے بعد بھی قرآن مجید نازل ہوتا رہا تو یہ ہمارے دعویٰ کے خلاف نہیں ہے کیونکہ بعض احکام اور واقعات کے معلوم ہونے کے بعد بھی آپ پر قرآن کریم نازل ہوتا رہا۔ دیکھیں قرآن کریم میں نماز کی فرضیت سے متعلق تقریباً سو آیات نازل ہوئیں۔ ظاہر ہے اس کا علم تو ایک مرتبہ نازل ہونے سے ہوگیا تھا باقی آیتوں کا نزول تعلیم کے سبب نہیں، اور حکمتوں کے پیش نظر ہوا۔ سورة ٔ فاتحہ کا دو مرتبہ نزول ہوا، قرآن کریم میں متعدد آیات ایسی ہیں جو کئی کئی بار نازل ہوئیں، پس تعلیم کے لیے تو ایک مرتبہ نازل ہونا کافی تھا، ایک مرتبہ کے بعد جو سورة اور آیات نازل ہوئی ہیں وہ دیگر حکمتوں کی بناء پر تھیں، جنہیں اللہ اور اس کا رسول جانے۔ بہر حال ان کا نزول تعلیم کے لیے نہیں تھا۔ وضو اور نماز پہلی نماز کے ساتھ فرض ہوئے، لیکن آیت وضو، سورة مائدہ میں مدینہ میں نازل ہوئی، اسی طرح پانچ نمازیں شب معراج مکہ میں فرض ہوئیں اور نماز پڑھنے کی تفصیل حضور کو پہلی وحی کے ساتھ معلوم تھی، اس سے معلوم ہوا کہ آیت کے نزول سے پہلے بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو احکام اور واقعات کا علم ہوتا تھا۔ آیات صرف تعلیم کے لیے نازل نہیں ہوتی تھیں، اس لیے اگر ” وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ “ (النساء، ١١٣) کے بعد بھی قرآن کریم نازل ہوتا رہا تو اس سے قطعی طور پر یہ لازم نہیں آتا کہ وہ تعلیم احکام و اخبار کے لیے ہی نازل ہوتا ہے اور ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ غیر قطعی چیز کے معارض نہیں ہوسکتی۔ باقی رہا یہ معاوضہ کرنا کہ قرآن کریم میں ہے :

وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ۔ “ البقرہ : ١٥١ ( نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں ان باتوں کی تعلیم دیتے ہیں جن کو تم نہیں جانتے۔

اور یہ کہا جائے کہ یہاں بھی ” ما “ کا عموم قطعی ہے تو چاہیے کہ امت کا بھی علم کلی ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ ” یعلمکم ‘ میں ضمیر ” کم “ بھی جمع ہے اور ” مالم تکونون تعلمون “ بھی جمع ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ جب جمع کا مقابلہ جمع سے ہو تو تقسیم احاد کی طرف احاد کی ہوتی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ امت کے جمیع افراد کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ سب کچھ بتلا دیا جو سب وہ نہیں جانتے تھے۔ اس سے مساوات کا شبہ نہ ہو کیونکہ حضور تنہاء ان تمام باتوں کو جانتے ہیں جن باتوں کو تمام امت مل کر جانتی ہے، پھر جس کو جو کچھ بتادیا وہ اس سے آگے نہیں بڑھا بلکہ یہ بھی ضروری نہیں، اس کو وہ بتایا ہوا ہی یاد ہو ( جیسا کہ عنقریب احادیث سے ثابت ہوگا کہ حضور نے تو ابتداء خلق سے لے کر سب کچھ بتادیا تھا، جس نے یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جس نے بھلا دیا اس نے بھلا دیا) لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تمام علم محفوظ ہے اور ہر آن ترقی پذیر ہے اور ان کا مولیٰ یہی چاہتا ہے کہ ان کا علم بڑھتا رہے۔

ارشاد فرمایا :

وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِی عِلْمًا۔ (طہٰ : ١١٤) آپ دعا کیجئے کہ اے میرے رب ! میرے علم میں اور زیادتی فرما۔

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حیات ظاہری میں تو صحابہ کرام کو احکام اور اخبار کی تعلیم دیتے ہی تھے۔ وصال کے بعد بھی آپ نے امتیوں کو محروم نہیں رکھا اور قیامت تک آپ کا فیضان جاری ہے اور آپ امت مسلمہ کو تعلیم دے رہے ہیں۔

قرآن کریم میں ہے :

وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ (الی قولہ تعالیٰ ) وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِم (الجمعہ : ٣۔ ٢)

(حضور) صحابہ کو بھی کتاب اور حکمت کی تعلمی دیتے ہیں ( الیٰ قولہ تعالیٰ ) اور ان بعد والوں کو بھی جو ابھی تک صحابہ سے واصل نہیں ہوئے۔

علامہ ابوعبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں نہ تھے اور جو بعد میں آئیں گے، حضرت ابن عمر (رض) اور سعید بن جبیر نے کہا : وہ عجمی ہیں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ پر سورة الجمعہ نازل ہوئی، جب آپ نے یہ آیت پڑھی۔

وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِم (الجمعہ : ٣) اور ان میں سے دوسروں کو بھی تعلیم دیتے ہیں جو ابھی پہلوئوں کے ساتھ نہیں ملے۔

ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ لوگ کون ہیں ؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا حتیٰ کہ اس نے دو یا تین بار سوال کیا، اس وقت ہم حضرت سلمان فارضی (رض) بھی تھے، آپ نے فرمایا : اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس بھی ہو تو اس کو وہ لوگ حاصل کرلیں گے جو اس کی قوم سے ہوں، ایک روایت میں ہے : اس کو فرزند ان فارس حاصل کرلیں گے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٨٩٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٤٦، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٦٠ )

ابن زید اور مقاتل بن حیان نے کہا : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد قیامت تک اسلام میں داخل ہوتے رہیں گے۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ٧ ١ ص ٨٤۔ ٨٣، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

عرب، روم، عجم وغیرہم قیامت تک آنے والے تمام مسلمان اس میں شامل ہیں اور حدیث میں فرزندان فارس کا ذکر بہ طور مثال کیا گیا ہے۔ ( روح المعانی جز ٢٨ ص ١٣٩، دارالفکر، بیرو ت، ١٤١٧ ھ)

ہم نے بتیان القرآن ج ١١ میں الجمعہ : ٣ کی تفسیر میں بہت تفصیل سے لکھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعد کے مسلمانوں کو بھی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ فرماتے ہیں، سو اس جگہ اس کا بھی مطالعہ فرمائیں، اور مزید شرح صدر کے لیے ہم مستند علماء کے لکھے ہوئے واقعات پیش کر رہے ہیں، جس سے آفتاب سے زیادہ روشن ہوجائے گا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعد کے مسلمانوں کو بھی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ فرماتے ہیں :

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات اور استففادہ جائز ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ اس امت کے بیشمار کاملین نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیداری میں زیارت کی ہے اور آپ سے علم حاصل کیا ہے۔ شیخ سراج الدین الملقن ” طبقات اولیاء “ میں لکھتے ہیں کہ شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ نے فرمایا : میں ظہر سے پہلے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت سے مشرف ہوا۔ آپ نے فرمایا : اے بیٹے ! تم وعظ کیوں نہیں کرتے ؟ میں نے عرض کیا : اے ابا جان ! میں ایک عجمی شخص ہو کر فصحاء بغداد کے سامنے کس طرح لب کشائی کروں ؟ آپ نے فرمایا : اپنا منہ کھولو، میں نے اپنا منہ کھولا، آپ نے میرے منہ میں سات بار اپنا لعاب دہن ڈالا اور فرمایا : اب وعظ کرو اور لوگوں کو محبت اور حکمت سے اللہ کے دین کی طرف دو اور نصیحت کرو۔ میں نے ظہر کی نماز پڑھی اور بیٹھ گیا، میرے پاس خلقت کا ایک اژدھام جمع ہوگیا اور مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی، میں نے دیکھا کہ میرے سامنے مجلس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تشریف فرما ہیں۔ فرمانے لگے : اے بیٹے ! وعظ کیوں نہیں کرتے ؟ میں نے کہا : اے ابا جان ! مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی ہے۔ آپ نے فرمایا : منہ کھولو، میں نے منہ کھولا تو آپ نے چھ بار میرے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا، میں نے عرض کیا : آپ نے سات بار مکمل کیوں نہیں کیا ؟ فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ادب کے پیش نظر۔ اس کے بعد آپ میری نظر سے غائب ہوگئے۔ میں نے محسوس کیا کہ ایک فکر کا غوطہ زن میرے دل کے سمندر کی گہرائیوں میں غوطے لگا رہا ہے اور تہ سے حقائق و معارف کے موتی نکال کر میرے سینہ کے ساحل پر رکھ رہا ہے اور زبان اور سینہ کے درمیان کھڑا ایک سفیر ترجمان زبان سے کہہ رہا ہے : اچھی عبادت کی نفیس قیمت ادا کر کے ان موتیوں کو خرید لو اور خلیفہ بن موسیٰ النہرمل کی نے شیخ کی سوانح میں لکھا ہے کہ شیخ عبد القادر جیلانی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نیند اور بیداری میں بہ کثرت زیارت کیا کرتے اور شیخ نیند اور بیداری میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہ کثرت وظائف حاصل کرتے تھے۔ ایک بار صرف ایک رات میں شیخ کو سترہ مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت ہوئی۔ اس رات کی زیارتوں میں سے ایک زیارت میں سرکار نے فرمایا : اے خلیفہ ! میری زیارت کے لیے زیادہ بےقرار نہ ہوا کرو۔ نہ جانے کتنے اولیاء اللہ میری زیارت کی حسرت میں ہی فوت ہوگئے اور شیخ تاج الدین بن عطاء اللہ ” لطائف المنن “ میں لکھتے ہیں : ایک شیخ نے ابو العباس مرسی سے کہا : اے میرے سردار ! اپنے اس ہاتھ سے میرے ساتھ مصافحہ کیجئے کیونکہ آپ بہت سے شہروں میں گئے ہیں اور آپ نے بہت سے نیک لوگوں سے ملاقات کی ہے۔ ابو العباس مرسی نے کہا : قسم بہ خدا ! میں اس ہاتھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی سے مصافحہ نہیں کرتا، اور شیخ مرسی نے کہا کہ اگر میں پلک جھپکنے کی مقدار بھی اپنے آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اوجھل پائوں تو اس ساعت اپنے آپ کو مسلمان نہیں سمجھتا۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں : کتابوں میں اس قسم کی عبارتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

( روح المعانی : جز ٢٢ ص ٥٢۔ ٥١، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

نیز علامہ آلوسی لکھتے ہیں :

سلف اور حلف سے یہ بات مسلسل منقول چلی آرہی ہے کہ جو لوگ سرکار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نیند میں دیکھتے ہیں اور انہیں اس حدیث کی تصدیق ہوتی ہے، جو مجھے نیند میں دیکھے گا وہ عنقریب مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا، وہ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیداری میں بھی دیکھتے ہیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان چیزوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، جن میں ان کو تردد اور پریشانی رہتی ہے اور حضور ان کے لیے مسئلہ اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ ان کا ترددختم اور پریشانی دور ہوجاتی ہے اور بغیر کسی زیادتی اور کمی کے فی الواقع ایسا ہی ہے۔ ( روح المعانی جز ٢٢ ص ٥٢، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

شیخ انور شاہ کشمیری متوفی ١٣٥٢ ھ لکھتے ہیں :

پھر تحقیق یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت آپ کی معین ذات مبارکہ میں منحصر نہیں ہے، کیونکہ آپ کی زیارت کے وقت آپ کی شخصیت کریمہ کے احوال مختلف ہوتے ہیں کیونکہ بسا اوقات ہم زندہ لوگوں میں سے کسی شخص کو دیکھتے ہیں اور اسے ہمارے دیکھنے کا علم نہیں ہوتا اور اگر نیند میں بھی وہی نظر آئے جس کو ہم نے بیداری میں دیکھا تھا تو اسی کو شعور ہونا چاہیے، پس جس صورت کی زیارت ہوتی ہے ( واللہ اعلم) وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اصل صورت کی مثال کے مطابق مخلوق ہوتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اصل صورت کے مطابق مثال پیدا فرماتا ہے، جس میں حضور کی حقیقت اور روحانیت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ وہ صورت ہمیں دکھاتا اور ہمارے دلوں میں واقع کرتا ہے اور اس سے ہم کو ہم کلام کرتا ہے اور کبھی حصور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح بنفسہا اپنے بدن مثالی کے ہاتھ آتی ہے اور پھر کبھی یہ زیارت بیداری میں ہوتی ہے اور کبھی نیند میں اور میرے نزدیک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت بیداری میں ممکن ہے جس کو اللہ تعالیٰ یہ نعمت عطاء فرما دے، جیسا کہ منقول ہے علامہ سیوطی ( جو عابد اور زاہد، علم میں اپنے معاصرین میں سب سے بڑھ کر تھے) انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بائیس مرتبہ دیکھا اور آپ سے مختلف احادیث کی تحقیق کی، پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصحیح کے مطابق ان احادیث کی تصحیح کی اور ان کی طرف شاذلی نے اپنی بعض ضروریات میں خط لکھا کہ سیوطی ان کی سلطان وقت کی طرف سفارش کردیں کیونکہ سلطان ان کی تعظیم کرتا تھا، پس سیوطی نے ان کی سفارش کرنے سے انکار کردیا اور عذر پیش کیا کہ اس کام کے کرنے سے مجھے بھی نقصان ہوگا اور امت مسلمہ کو بھی، کیونکہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیشمار مرتبہ زیارت کرتا ہوں اور اگر میں نے تمہارے کہنے کے مطابق سلطان سے تمہاری سفارش کردی اور احکام کے دروازے پر چلا گیا تو عین ممکن ہے کہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت مبارکہ سے محروم ہو جائوں اور میں اس بڑے امت کے نقصان کے مقابلہ میں تمہارے دنیاوی نقصان کو برداشت کرلوں گا اور شعرانی (رح) نے بھی لکھا ہے کہ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیداری میں دیکھا اور آٹھ ساتھیوں کے ساتھ آپ سے جاگتے میں بخاری پڑھی، شعرانی نے ان میں سے ہر ایک کا نام لیا۔ ان میں سے ایک ساتھی حنفی تھا اور شعرانی نے وہ دعا بھی لکھی ہے جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ختم بخاری کے وقت پڑھی، پس بیداری میں آپ کی زیارت ایک حقیقت ثابتہ ہے اور اس کا انکار کرنا جہالت ہے۔

(فیض الباری ج ١ ص ٢٠٤، مطبع حجازی، مصر، ١٣٥٧ ھ)

خلاصہ کا کلام

علامہ آلوسی اور مخالفین کے پیشوا انور شاہ کشمیری کی ان مفصل عبادات سے یہ امر مبرہن ہوگیا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ صرف صحابہ کو تعلیم دیتے تھے، بلکہ قیامت تک جتنے لوگ بھی ایمان لانے والے ہیں ان سب کو علم و حکمت سے نوازتے تھے۔

اس تفصیل کے بعد اب اس اعتراض کی گنجائش نہیں رہی کہ اگر ” وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَم “ (النساء : ١١٣) کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو کچھ بھی نہیں جانتے تھے، وہ سب اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتادیا تو پھر ” وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ۔ “ (البقرہ : ١٥١) کا معنی یہ ہوگا کہ امت کو بھی ان تمام کا علم ہوگیا جن کو وہ پہلے نہیں جانتی تھی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی علم کلی کے ساتھ کیا خصوصیت رہی، اور اعتراض وارد نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جن تمام چیزوں کا قیامت تک کے مسلمانوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم سے اجتماعی طور پر علم ہوگا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تنہا ان تمام چیزوں کا علم رکھتے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ تمام افراد امت سب مل کر جتنا علم رکھتے ہیں آپ تنہا ان سب چیزوں کا علم رکھتے ہیں، اس لیے امت کی آپ کے ساتھ مساوات لازم نہیں آتی، اور یہ جواب اس قاعدہ پر مبنی ہے کہ جب جمع کا تقابل جمع کے ساتھ ہو تو تقسیم احاد کی احاد کی طرف ہوتی ہے، جیسے ” رکب القوم دوابھم “ قوم بھی جمع ہے اور دواب کا بھی جمع ہے، پس اس کا معنی ہے : قوم کے سب لوگ اپنی اپنی سواریوں پر سوار ہوگئے، اسی طرح ” یعلمکم “ میں ضمیر ” کم “ بھی جمع ہے اور ” ما لم تکونوا تعلمون “ بھی ” ما “ کے عموم کی وجہ سے معنی جمع ہے، لہٰذا اس کا معنی ہے : آپ تمام افراد امت کو ان کے اپنے اپنے علم کی تعلیم دیتے ہیں یعنی ہر ایک کو اس کے حسب حال تعلیم دیتے ہیں نہ کہ ہر ایک کو تمام چیزوں کی تعلیم دیتے ہیں، اور ان علوم سے بھی وہ علوم مستثنیٰ ہیں جو نبوت اور رسالت کے خصائص میں سے ہیں، اس کا حاصل یہ ہے کہ امت کے تمام افراد کے علوم مل کر بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کے مقابلہ میں ایسے ہیں جیسے قطرہ سمندر کے سامنے ہو۔

میری خواہش تھی کہ ” عٰـلِمُ الْغَیْبِ فَـلَا یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًا۔ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ “ (الجن : ٢٦) کی تفسیر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کے تمام حقائق و معارب بیان کر دوں اور تمام شبہات کے جوابات لکھ دوں، سو اللہ تعالیٰ کا بےحد و حساب احسان ہے کہ اس نے میری اس خواہش کو پورا کردیا۔ واللہ الحمد علی ذالک !

تبیان القرآن سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 26