أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَدۡعُوۡا رَبِّىۡ وَلَاۤ اُشۡرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ میں صرف اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ میں صرف اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ آپ کہیے : میں (از خود) تمہارے لیے کسی نفع اور ضرر کا مالک نہیں ہوں۔ آپ کہیے : بیشک مجھے اللہ ( کے عذاب) سے ہرگز کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اللہ کے سوا ہرگز کوئی پناہ کی جگہ پاتا ہوں۔ مگر اللہ کی طرف سے پیغامات کو پہنچانا میرے ذمہ ہے، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو بیشک اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا ( یہ کفار اس وقت تک نہیں مانیں گے) حتیٰ کہ یہ اس عذاب کو دیکھ لیں، جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے، سو یہ عنقریب جان لیں گے کہ کس کے مددگار بہت کم زور اور شمار میں بہت کم ہیں۔ آپ کہیے : میں از خود نہیں جانتا کہ جس عذاب کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے آیا وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کی کوئی مدت مقرر کردی ہے۔ ( الجن : ٢٥۔ ٢٠ )

اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مقابلہ میں آپ کو اپنے عجز کے اظہار کا حکم

مشرکین مکہ یہ کہتے تھے : تم جو پیغام سنا رہے ہو اس سے دست بردار ہو جائو، تم نے تمام اہل مکہ کو اپنا دشمن بنا لیا ہے، اگر بالفرض تم پر اللہ کا عذاب آیا تو ہم تمہیں اپنی پناہ میں رکھیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کے رد میں یہ بات نازل فرمائی آپ کہیے : میں صرف اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا.

تبیان القرآن سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 20