أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اِنۡ اَدۡرِىۡۤ اَقَرِيۡبٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ اَمۡ يَجۡعَلُ لَهٗ رَبِّىۡۤ اَمَدًا‏ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے : میں از خود نہیں جانتا کہ جس عذاب کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے آیا وہ قرب ہے یا میرے رب نے اس کی کوئی مدت مقرر کردی ہے.

الجن : ٢٥ میں فرمایا : آپ کہیے : میں از خود نہیں جانتا کہ جس عذاب کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، آیا وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کی کوئی مدت مقرر کردی ہے۔

آیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وقت وقوع ِ قیامت کا علم تھا یا نہیں ؟

جب مشرکین نے یہ سنا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : حتیٰ کہ یہ اس عذاب کو دیکھ لیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے، الایۃ ٗ تو النضر بن الحارث نے کہا : وہ عذاب کب واقع ہوگا جس سے آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں ؟ تب اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ آیت نازل فرمائی : آپ کہیے : میں از خود نہیں جانتا کہ جس عذاب کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، آپ وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کی کوئی مدت مقرر کردی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس عذاب کا وقوع تو متیقن ہے لیکن اس عذاب کے وقوع کا وقت غیر معلوم ہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حدیث میں ہے :

حضرت سہل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے جس طرح یہ دو انگلیاں ہیں۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٥٠٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩٥١، مسند احمد ج ٣ ص ١٢٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٢١٤)

علامہ جلال الدین سیوطی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

امام طبرانی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے درمیانی انگلی اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا، قاضی عیاض مالکی متوفی ٥٢٤ ھ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے : آپ نے یہ اشارہ فرمایا کہ میری بعثت اور قیامت کے وقوع میں بہت کم مدت رہ گئی ہے اور جتنا ان دو انگلیوں میں فاصلہ ہے، اسی کی مناسبت سے میرے اور قیامت کے درمیان فاصلہ ہے اور دیگر شارحین نے یہ کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کا پیغام اور آپ کا دین قیامت تک کے لیے میرے اور جس طرح دو انگلیاں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں، اسی طرح آپ کا دین قیامت تک قائم رہے گا اور قیامت سے منفصل نہیں ہوگا۔

( التوشیخ علیٰ الجامع ج ٥ ص ٢٥، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

بہر حال اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم تھا کہ قیامت کا وقوع کب ہوگا، پھر آپ نے یہ کیسے فرمایا کہ میں نہیں جنتا کہ قیامت کا وقوع قریب ہے یا بعید ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں فرمایا ہے :” لا ادری “ میں اپنی عقل اور اپنے قیاس سے نہیں جانتا یا از خود نہیں جانتا، بیشک آپ کو علم تھا کہ قیامت کب واقع ہوگی کیونکہ جب دو چیزیں متصل ہوں اور ایک شخص کو ایک چیز کا علم ہو تو اس سے متصل دوسری چیز کا بھی علم ہوتا ہے، سو آپ کو اپنی بعثت کا علم تھا تو لازماً اس سے متصل قیامت کا بھی علم تھا، لیکن یہ علم اللہ تعالیٰ کے بتلانے اور اس کی وحی سے تھا، از خود نہیں تھا، اس لیے فرمایا :” لا ادری “ اور ” لا اعلم “ نہیں فرمایا یعنی میں از خود نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ کی تعلیم اور اس کی وحی سے جانتا ہوں۔

القرآن – سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 25