حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے گردش کرتے ہوئے سوالات کے جوابات
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک منہاجی کے گردش کرتے ہوئے سوالات کے جوابات 👇
منہاجی : یہ معاویہ بن ابوسفیان کون تھے؟
اصمعی : کمال ہے آپ کیسے مسلمان ہو آپ کو اتنے مشہور صحابی رسول کا بھی علم نہیں۔۔۔ چلیں آپ کو ان کا تعارف آپ ہی کے منہاج القرآن کے سب سے بڑے مفتی عبدالقیوم ہزاروی صاحب کی زبانی بیان کروادیتے ہیں وہ لکھتے ہیں :
“حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی ، عظیم المرتبت صحابی ، ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی اس لحاظ سے تمام اہل اسلام کے قابل صد تکریم روحانی ماموں ہیں ۔(منہاج الفتاوی جلد ا ص 333 منہاج القرآن پبلی کیشنز لاہور)
منہاجی : اچھا یہ وہی شخص ہیں کہ جن کا اب عرس منایا جاتا ہے؟
اصمعی : جی ہاں ان کا بھی منایا جاتا ہے اور آپ کے شیخ المنہاج طاہر القادری صاحب کے والد فرید الدین صاحب کا بھی منایا جاتا ہے اگر طاہر القادری کے والد کا منانا درست ہے تو ایک صحابی رسول کے عرس منانے میں شرعی قباحت کیا ہے؟
دنیا بھر میں بزرگان دین کے ہر سال سینکڑوں ہزاروں عرس منائے جاتے ہیں آج تک وہاں کسی نے اعتراض نہ کیا (سوائے وہابیہ کے) تو ایک صحابی رسول کے عرس پر تکلیف کیوں؟
منہاجی : یہ معاویہ رض کیا اعلانِ نبوتؐ کے فوراً بعد ایمان لے آئے تھے؟
اصمعی : اعلان نبوت کے فوراً بعد تو بہت سے اکابر صحابہ بھی ایمان نہ لائے وقتاً فوقتاً لاتے رہے اور درجے پاتے رہے ۔
منہاجی : معاویہ نے دین کیلئے کفار و مشرکین کے مظالم برداشت کیے ہوں گے جو آپ اُن کا عرس منا رہے ہیں ؟
اصمعی : کیے ہوں گے ضرور کیے ہوں گے کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین و غزوہ تبوک میں شرکت کی ہے حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ(سورة التوبة26)
ترجمہ کنزالایمان : پھر اللہ نے اپنی تسکین اتاری اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر۔
اس تسکین کے ظاہر ہے مستحق حضرت معاویہ بھی ہیں ۔
اسی طرح حضرت معاویہ غزوہ تبوک میں بھی شریک ہوئے اور اس غزوہ میں شریک ہونے والوں کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:
لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ (سورة التوبة117)
ترجمہ کنزالایمان : بیشک اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوئیں ان غیب کی خبریں بتانے والے اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیا۔۔
اللہ تعالی کی طرف سے اس اعلان معافی میں ظاہر ہے کہ حضرت معاویہ بھی شامل ہیں بلکہ اس موقع پر شاہ روم کا خط پڑھنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاویہ کو دیا۔( البدایہ5/16- تہذیب ابن عساکر1/114- الحلیہ9/155)
اب بتاؤ کیا ان جنگوں میں کفار کی طرف سے مصائب و پریشانی نہیں اٹھائی ہوگی؟
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں سب سے پہلا اسلامی بحری بیڑہ قائم کرکے سمندری جہاد کیا گیا ۔۔۔۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد۔فرمایا اول جیش من امتی یغزون البحر قد اوجبوا»
میری امت کا پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا، ان کے لئے (جنت) واجب ہوچکی ہے۔ (صحیح بخاری ح۲۹۲۴)
طاہر القادری صاحب اس حدیث کے تحت علامہ بدرالعینی کے حوالے سے لکھتے ہیں :
اس سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مراد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا لشکر ہے۔
مہلب نے کہا کہ حضرت معاویہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے بحری جنگ کی۔
( جنت کی خصوصی بشارت پانے والے 60 صحابہ و صحابیات ، ص 195 ، منہاج القرآن پبلی کیشنز لاہور)
تو بتائیے جناب ! سمندری جہاد کرنا آسان کام ہے؟ کیا یہ جہاد بغیر تکلیف اٹھائے کیا گیا ہوگا؟
منہاجی : معاویہ جنگ بدر میں أن کفار مکہ کے سردار تھے اور أن سے ھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ٰاور حضرت علی ع نے جنگ کی تھی جو پہلی اسلامی جنگ تھی ۔
اصمعی : کیسی جہالت و حماقت اور بغض ہے جنگ بدر کے موقع پر تو کئی صحابہ کرام ایسے تھے جو ابھی تک اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے تو کیا اُن سب کو اپنے طعن کا نشانہ بناؤ گے ؟
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ وہ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کے خلاف شریک ہوئے اور قیدی بنے ۔ اور فدیہ ادا کرکے رہا ہوئے ۔
تو منہاجی صاحب آپ یہاں بھی وہی اصول اپنائیں گے یا کچھ شرم کھائیں گے اور صحابہ کرام کے اسلام لانے سے پہلے کے واقعات سے اپنی تعصب کی نظر ہٹائیں گے؟
منہاجی : کیا معاویہ صلح حدیبیہ والوں میں شامل تھے؟
اصمعی : شامل نہ تھے مگر صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے اسلام لانے والوں میں ذکر ضرور موجود ہے ۔
منہاجی : معاویہ جنگِ خیبر اور یرموک میں لڑنے والوں میں شامل ہوں گے؟
اصمعی : نہیں لیکن فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین اور غزوہ تبوک میں شامل تھے ۔ کیا یہ فضیلت کافی نہیں؟
منہاجی : معاویہ تو مسلمان ہی فتح مکہ کے بعد ہوئے تھے۔
اصمعی :حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بارے میں فتح مکہ سے پہلے اور بعد دونوں طرح کے اقوال موجود ہیں
جیسا کہ
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بال مبارک (مروہ کے مقام پر) کاٹے۔ (صحیح بخاری 2/213 رقم 1730)
امام مسلم فرماتے ہیں: کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ بال کاٹنا مروة کے مقام پر تھا. (صحیح مسلم 2/ 913 رقم 1246)
ان روایات سے پتا چلا کہ آپ صلح حدیبیہ اور عمرة القضاء کے درمیان کسی وقت ایمان لائے اور عمرة القضاء کے موقع پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شامل تھے ۔
منہاجی : اگر اسلام لے آئے تھے تو فتح مکہ کے بعد جاکر کیوں اظہار کیا؟
اصمعی : اس کا جواب بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی زبانی ملاحظہ فرمائیں :
محدث ابن عساکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
کہ جب کفار مکہ اور مسلمانوں کے درمیان حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا تو اسلام میرے دل میں گھر کر چکا تھا میں نے اس بات کا ذکر اپنی والدہ ہند سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ خبردار اگر تو نے اپنے باپ کے مذہب کی مخالفت کی ورنہ ہم تیرا خرچہ پانی بند کر دیں گے مگر بہرحال میں اسلام لا چکا تھا اور خدا کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں حدیبیہ سے لوٹ رہے تھے کہ میں آپ کی تصدیق کرنے والا تھا اور خدا کی قسم جب آپ عمرۃ القضاء کے لیے تشریف لائے تو میں اس وقت بھی مسلمان تھا مگر والد کے خوف سے اپنے اسلام کو چھپائے رکھا اور فتح مکہ کے دن کھل کر اس کا اظہار کیا۔
(تاریخ دمشق 59/67)
اسلمت یوم القضیة ولکن کتمت اسلامی من ابی ۔
یعنی میں یوم القضاة اسلام لے آیا لیکن اپنے والد کے خوف سے چھپائے رکھا ۔
اس بات کو ان محدثین نے ذکر کیا ہے
سیر اعلام النبلاء2/119
اسدالغابہ 4/433
الاستیعاب ص688
تقریب التہذیب 6/120
منہاجی : نہیں جی معاویہ کا فتح مکہ پر ایمان لانا ہی مشہور ہے اُس وقت جب اسلام غالب ہو چکا تھا؟
اصمعی : چلیں آپ ہی کی مان لیتے ہیں فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والوں ،جہاد کرنے والوں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں سے سے بھی اللہ تعالیٰ نے وکلا وعداللہ الحسنی یعنی جنت کا وعدہ کیا ہوا ہے ۔ لہذا آپ جو کہنا چاہتے ہیں وہ بالکل بھی فائدہ نہ دے گا ۔
منہاجی : آپ معاویہ کو کاتب وحی کہتے ہیں وہ تو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے اس وقت کون سی وحی نازل ہوئی تھی؟
اصمعی : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا کاتب وحی ہونا صحیح سند روایات سے ثابت ہے دیکھیے دلائل النبوة ج 6 ص 243۔
اس کے علاوہ کثیر محدثین و ائمہ اہل سنت نے آپ کا کاتب وحی ہونا تسلیم کیا ہے کیا انھیں بھی نہ پتا تھا کہ اس وقت کون سی وحی کا نزول ہوا؟
منہاجی صاحب! آپ کے نزدیک فتح مکہ کے بعد وحی کا نزول ختم ہوگیا تھا ، یہ آپ کی کم علمی و جہالت ہے کہ وحی کا نزول بعد میں بھی جاری رہا جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ اللہ تعالی نے غزوہ حنین و غزوہ تبوک کے شرکاء کے بارے میں فرمایا:
ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ(سورة التوبة26)
لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ (سورة التوبة117)
اب منہاجی صاحب آپ ہی بتادیں یہ کن کے بارے میں ہے اور ان کا شان نزول کیا ہے؟
منہاجی : دو چار آیات ہوں گے جو بعد میں نازل ہوئی ۔
اصمعی : چاہے ایک لفظ ہی لکھا ہو کاتب وحی ہونے کا شرف تو مل گیا اور بالفرض مان لو آپ وحی نہیں لکھتے تھے دیگر مکتوب لکھتے تھے تو کیا کاتب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونا کم فضیلت والی بات ہے ؟
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت بابرکت میں بیٹھنا، آقا کریم کا لکھوانا اور غلام کا لکھنا کیا منظر ہوگا ، کیا نظارہ ہوگا ۔ یہ ادب و محبت والے ہی جان سکتے ہیں ۔
منہاجی : آپ نے بتایا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی تھے تو انہوں نے کون سی آیات کی کتابت کی تھی؟
اصمعی : آپ کے شیخ طاہر القادری صاحب نے وحی لکھنے والوں کی تعداد کے بارے میں لکھا ہے کہ اُن کی تعداد چالیس تک شمار کی گئی ہے جن میں میں زیادہ مشہور کے نام یہ لکھے ہیں :
حضرت ابوبکر
حضرت عمر
حضرت عثمان
حضرت علی
حضرت ابی بن کعب
حضرت عبداللہ بن ابی سرح حضرت زبیر بن عوام
حضرت خالد بن سعید بن عاص حضرت ابان بن سعید
حضرت حنظلہ بن ربیع
حضرت معقیب بن ابی فاطمہ حضرت عبداللہ بن ارقم
حضرت شرجیل بن حسنہ
حضرت عبداللہ بن رواحہ
حضرت عامر بن فہیرہ
حضرت عمر بن عاص
حضرت ثابت بن قیس
حضرت مغیرہ بن شعبہ
حضرت خالد بن ولید
حضرت معاویہ بن ابی سفیان حضرت زید بن ثابت
رضوان اللہ تعالی اجمعین
(اُنظر سیرت الرسول کی شخصی و رسالتی اہمیت ص59)
تو جناب والا ! کیا آپ یا آپ کے مجدد صاحب بتا سکتے ہیں کہ ان کاتبین وحی نے کون کون سی آیات لکھی ہیں؟
نیز آپ کے مجدد صاحب اس حوالے سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی ہیں ۔
منہاجی : اسلام کے پہلے مشکل ترین اکیس سالوں میں معاویہ رضی اللہ عنہ کہیں نہیں تھے ۔
اصمعی : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تب جہاد بھی کیا، اس کے بعد آپ نے خلفائے ثلاثہ کے ادوار میں بھی اپنی خدمات انجام دیں اس کے بعد خود 40 سال تک بحیثیت مسلمانوں کے گورنر و خلیفہ اسلام کو بے شمار فتوحات دیں ۔ آپ کو یہاں کہیں بھی حضرت معاویہ نظر نہیں آئیں گے کیونکہ آپ نے خیر والی آنکھ بند کی ہوئی ہے ۔
منہاجی : اتنے بڑے بڑے صحابہ گزرے اُن میں سے کسی کا عرس کیوں نہیں منایا جاتا؟
اصمعی : پاکستان و ہند میں بے شمار اولیاء و علماء کے اعراس منائے جاتے ہیں کبھی آپ نے اُن سے پوچھا کہ خلفائے راشدین کے عرس کیوں نہیں مناتے ؟
طاہر القادری سے پوچھا کہ آپ کے ابا جی کا عرس کیوں منایا جاتا ہے ؟
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عرس میں اگر کوئی غیر شرعی عمل ہوتا ہے تو بتادیں وہاں قرآن خوانی و ایصال ثواب اور ذکر خیر ہی تو کیا جاتا ہے ۔ آپ کو اصل تکلیف ذکر معاویہ رضی اللہ عنہ سے ہے ۔ وہ ان شاءالله ہوتا رہے گا اور آپ لوگ اپنی اس رافضیانہ تکلیف میں مرتے رہو گے ۔
منہاجی : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مولا علی علیہ السلام سے بغاوت کی تھی؟
اصمعی : آپ کو معلوم نہیں کہ مشاجرات صحابہ کرام پر اہل سنت کا موقف کیا ہے؟ آپ کو معلوم نہیں کہ جسے آپ باغی کہہ رہے ہیں مولا حسن و حسین رضی اللہ عنہما نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے انہیں خلافت سونپ دی تھی؟
کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جسے آپ باغی کہہ رہے ہیں اُن پر اس وقت موجود تمام اہل اسلام متفق ہوگئے تھے ؟
منہاجی: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مولا علی علیہ السلام کے خلاف تلوار اُٹھائی اور آپؑ پر منبروں سے لعنتیں کہلوائیں؟
اصمعی : آپ کا حال وہ ہے کہ کسی نے کہا بندر تمہارا کان لے گیا تو تم نے کان نہیں دیکھا بندر ہےکے یچھے بھاگ کھڑے ہوئے ۔۔۔
اسی طرح جس نے بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف جو لکھ دیا بول دیا تم لوگوں نے بغیر تحقیق کے اُس پر آمین کہہ دی اور اسے سینے سے لگا لیا اور گٹر سے زیادہ غلیظ اپنے دماغوں میں بٹھا لیا ہمیں تو حقیقت معلوم ہے اور آپ بھی جان لیں کہ یہ سب جھوٹ اور بہتان ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مولا علی کو منبروں پر معاذاللہ لعنتیں کہلوائیں ۔ ایسی روایات من گھڑت اور رافضیوں کی چالبازیاں ہیں ۔ کہ خلفائے ثلاثہ کے بعد ان لوگوں کا سب سے بڑا ہدف حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات ہے لہذا وہ مسلمانوں کو ان کے خلاف کرنے کیلئے طرح طرح کی سکیمیں لڑاتے رہتے ہیں ۔
تم ہی بتاؤ اگر کوئی شخص تمہارے باپ کا دشمن ہو اسے گالیاں دیتا اور دلواتا ہو ، تو تم اپنے باپ کے انتقال کے بعد اُس شخص سے صلح کرکے اس کے ہاتھ اپنا نظام سونپ دو گے؟
منہاجی : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے امام حسن علیہ السلام سے کی گئی صلح کی شرائط کو توڑا اور اسلامی اصولوں کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے جان بوجھ کر یزید (پلید) کو اپنا جانشین منتخب کیا؟
اصمعی : پہلے تو صحیح الاسناد وہ شرائط بتاؤ جو امام حسن پاک اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان صلح کے وقت طے ہوئی تھیں ؟ پھر اس پر کلام بھی ہوجائے گا کہ آپ نے کون سی شرط کو توڑا ۔
باقی رہی بات یزید پلید خبیث کی تو ایک طرف تم کہتے ہو: امام حسن نے حضرت معاویہ کو اپنے بعد کسی کو ولی عہد نہ بنانے کی شرط بھی لکھوائی تھی اور فرمایا تھا کہ خلافت واپس مجھ پر لوٹے گی
اور دوسری طرف تم کہتے ہو : کہ آپ نے یہ معاملہ مسلمانوں کی شوری پر چھوڑنے کو کہا تھا ۔۔۔لہذا پہلے یہ تضاد دور کرلو ۔
منہاجی : کیا آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے امام حسن علیہ السّلام کی شہادت پر دبے لفظوں میں خوشی کا اظہار کیا؟
اصمعی : پہلی بات تو یہ ہے کہ جس واقعہ کی طرف آپ کا اشارہ ہے وہ بلا سند ہے لہذا یہ بھی آپ کے ذمے ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اس گھٹیا ترین الزام کو صحیح سند کے ساتھ ثابت کریں ۔ تم تک یہ دبے لفظ کیسے پہنچے بتاؤً
دوسری بات عقلی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو ایسا ممکن نہیں ہوسکتا ہے ، کیسی بے وقوفی والی بات ہے کہ انسان کسی کی وفات پر اسی کے عزیزوں کے سامنے مرنے والے پر خوش کا اظہار کرے ۔ کس قدر گر چکے ہیں الزام لگانے والے ۔
منہاجی : کیا آپ نہیں جانتے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے “دوزخ کی طرف بلانے والا گروہ” کہا ہے؟
اصمعی : ہم تو یہ جانتے ہیں کہ میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام حسن پاک کو اپنی مبارک گود میں بٹھا کر فرمایا :
ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ۔
یعنی یہ میرا بیٹا حسن میری امت کا سردار ہے اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کروائے گا. (صحیح بخاری کتاب الصلح)
لہذا ہم کیا پوری امت جانتی ہے کہ وہ دو جماعتیں حضرت امام حسن اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کی تھیں ۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں مسلمانوں کی جماعت اور گروہ فرمائیں، امام حسن ان سے صلح فرمائیں ان کو خلافت عطا فرمائیں اور تم کہتے ہو کہ وہ دوزخ کی طرف بلانے والا گروہ تھا ۔۔۔۔بھئی آپ کو سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی ہے یا پھر بغض صحابہ نے آپ کی مت ماردی ہے جو صحابہ کرام کو دوزخ کی طرف بلانے والا کہہ رہے ہو ۔
خود مولا علی کا فرمان ہے
کہ میرے اور معاویہ دونوں طرف کے مقتولین جنتی ہیں ۔(المعجم الکبیر)
آپ اس گروہ کو جہنم کی طرف بلانے والا کہہ رہے جبکہ مولا علی انہیں جنتی کہہ رہے ہیں اب ہم تمہاری مانیں یا علی پاک کی؟
منہاجی : آپ کو یہ بھی نہیں معلوم کہ حضرت معاویہ حضرت عمار بن یاسر ؓ سمیت سینکڑوں صحابہ کے قتل کے ذمہ دار ہیں؟
اصمعی : حضرت عمار اور دیگر صحابہ کی شہادت کے ذمہ دار وہ باغی ہیں جنہوں نے حضرت عثمان رضی عنہ کو شہید کیا اور پھر مسلمانوں کے درمیان پھیل گئے اور جنگ جمل و صفین جیسے ناخوشگوار واقعات کا سبب بنے ۔
منہاجی : قرآن کی کوئی آیت جو حضرت معاویہ کیلئے اتری ہو؟
اصمعی : پہلی بات تو یہ کہ ایک لاکھ سے اوپر صحابہ کرام ہیں ان میں سے کتنوں کیلئے قرآن کی آیتیں اتری ہیں بتادیں؟
اور جن کیلئے نہیں اتریں کیا وہ فضیلت و شان والے نہیں؟
دوسری بات یہ کہ قرآن پاک کی بہت سی آیات مبارکہ ہیں جو صحابہ کرام کی شان میں اتری ہیں امام نبہانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
” بلاشبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان اکثر آیات کے مفہوم و مصداق میں شامل ہیں جو سابقین اولین کے ساتھ خاص نہیں “
(الاسالیب البدیعہ فی فضل صحابہ مترجم ص 106)
منہاجی : صحاح ستہ سے کوئی ایک صحیح حدیث (جو ضعیف یا موضوع نہ ہو اور جس کی سند قابل قبول ہو) جو حضرت معاویہ کی فضیلت میں آئی ہو؟
اصمعی : بالکل ہیں امام بخاری نے کتاب المناقب میں ذکر معاویة رضی اللہ عنہ کا باب قائم کیا اور حضرت ابن عباس کی وہ روایت لکھی جس میں ہے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے صحابی اور فقیہ ہونے کا ذکر ہے۔
امام ترمذی نے کتاب المناقب میں روایت لکھی کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کیلئے دعا فرمائی
“اللھم اجعله ھادیا مھدیا واھدبه “
یعنی اے اللہ معاویہ کو ھادی اور مھدی بنا ،اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے ۔(ترمذی)
اسی طرح دیگر امہات کتب حدیث میں محدثین نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب پر ابواب قائم کیے ہیں جیسا کہ امام احمد بن حنبل نے “فضائل صحابہ” میں “فضائل معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ” اور اس میں ایک یہ بھی روایت لائے
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں رمضان میں سحری کھانے کے لیے بلایا اور فرمایا آؤ برکت والی صبح کا کھانا کھاؤ پھر میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اے اللہ معاویہ کو کتاب اور حساب کا علم سکھا اور عذاب سے بچا لے۔
(فضائل صحابہ رقم 1748)
جی منہاجی صاحب آپ نے ایک کا کہا تھا ہم نے آپ کو تین روایات دکھا دی ہیں جن میں سے دو صحاح ستہ سے ہیں ۔
منہاجی : آپ کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہزاروں صحابہ ؓ کو چھوڑ کر عرس منانے کیلئے صرف یزید لعنتی کا باپ اور ظالم حاکم/ بادشاہ ہی ملا تھا؟
اصمعی : ایک صحابی رسول کو ظالم کہنے والا خود ظالم اور لعنتی ہے اپنی اسی بات سے اندازہ لگا لو کہ ہزاروں صحابہ میں سے تم لوگوں کو بھی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہی ملے ہیں ساڑ پھونکنے کیلئے ۔ رافضی جتنا اس صحابی کو بھونکتے ہیں شاید ہی کسی کو بھونکتے ہوں لہذا کیوں نہ ایسے صحابی کی شان و عظمت کو دلوں میں اُجاگر کیا جائے ۔
اگر تم پھر حضرت معاویہ کو معاذاللہ ظالم کہنے پر تلے ہوئے ہو تو اپنے شیخ طاہر القادری کے بارے میں کیا کہو گے جو تمہارے بقول اس ظالم کو صحابی مانتا ہے حضرت و رضی اللہ عنہ کہتا ہے کاتب وحی اور عاشق رسول لکھتا ہے ؟
منہاجی : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علیؑ کے دشمن کو اپنا دشمن کہا تو آپ نے علیؑ کے دشمن کا عرس منانا شروع کر دیا؟ یعنی تم لوگ اب کھل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے ہو؟ تم نے جہنم کا سودا کر لیا ہے ۔۔۔۔۔!
اصمعی : نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس طرح مولا علی کے دشمن کو اپنا دشمن فرمایا اسی طرح صحابہ کرام سے بغض رکھنے والوں کو بھی اللہ و رسول سے بغض رکھنے والا فرمایا ہے ۔
حضرت معاویہ ہر گز ہرگز حضرت علی کے دشمن نہ تھے وہ جنگیں اجتہاد پر مبنی تھیں نہ کہ بغض و عناد پر ۔۔۔اس پر اسلاف کی کتابیں بھری پڑی ہیں شوق ہے تو ان شاءاللہ دکھا دیں گے ۔
مشاجرات صحابہ پر سکوت کا حکم ہے جیسا کہ نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا لاتسبوا اصحابی میرے کسی بھی صحابی کو بُرا نہ کہو ۔۔۔۔لہذا اگر تم حضرت معاویہ کو صحابی مانتے ہو تو نبی پاک علیہ السلام کی بھی مانو نہیں تو جہنم میں جاؤ ہمیں فرق نہیں پڑتا ۔
✍️ارسلان احمد اصمعی قادری
30/1/24ء